Category Archives: Urdu Stories

کہتے ہیں کہ ایک سرسبز جنگل میں ایک معزز الّو خاندان آباد تھا۔ الّو صاحب خود کو نہایت دانشمند سمجھتے تھے، کیونکہ جنگل کی پرانی روایت کے مطابق جس کی آنکھیں بڑی ہوں اور جو کم بولے، اسے عقلمند مان لیا جاتا تھا۔ان کا ایک جوان بیٹا بھی تھا، جو رات بھر شاخوں پر بیٹھ کر “ہُوں ہُوں” کرتا اور دن چڑھے تک ایسے سوتا رہتا جیسے دنیا میں کوئی کام ہی نہ ہو۔ایک دن الّو صاحب کے دل میں خیال آیا:“اب بیٹے کی شادی کر دینی چاہیے۔”بہت سوچ بچار کے بعد انہوں نے جنگل کے سب سے رنگین اور مشہور خاندان سے رشتہ مانگنے کا فیصلہ کیا یعنی مور کے گھر۔مور اپنی شان و شوکت، خوبصورت پروں اور خود پسندی کے لیے دور دور تک مشہور تھا۔چنانچہ الّو صاحب باقاعدہ رشتہ لے کر پہنچے۔مور نے عزت سے بٹھایا، دانے پیش کیے اور پوچھا:“فرمائیے، کیسے آنا ہوا؟”الّو نے گلا صاف…

Read more

ایک دن، ایک جنگلی سور کے ساتھ ہولناک لڑائی میں ایک سانپ بری طرح زخمی ہو گیا۔ وہ بمشکل گھسٹتے ہوئے اپنی غار تک پہنچا اور کئی دنوں تک وہیں پڑا رہا۔ وہ اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ شکار نہیں کر سکتا تھا اور شدید بھوک کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔ اس کی تکلیف اتنی بڑھ گئی تھی کہ اب برداشت سے باہر تھی۔مایوسی کی حالت میں، آنکھوں میں آنسو لیے، اس نے پاس سے گزرتے ہوئے ایک ہمنگ برڈ (شکر خورے) کو آواز دی:“ہمنگ برڈ، خدا کے لیے جلدی کرو… میں مر رہا ہوں اور میں اپنے ظالمانہ ماضی کے گناہوں کا بھاری بوجھ لے کر قبر میں نہیں جانا چاہتا۔ جاؤ اور مینڈک کو ڈھونڈو، مجھے اس کے بھائی کو کھانے پر اس سے معافی مانگنی ہے۔ چھیچھرے (کرکٹ) کو بھی ڈھونڈ لاؤ، مجھے اس کے ماں باپ کو کھانے پر اس سے معذرت کرنی…

Read more

بہت زمانہ پہلے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے دربار میں تین غلام تھے۔ ان تینوں کے ایک ایک بیٹے تھے، اور اتفاق سے ان کے نام بھی بڑے انوکھے تھے:پہلا “نظر نہ آنے والا”، دوسرا “خدا کا تحفہ” اور تیسرا “بادشاہ سے زیادہ عقلمند” کہلاتا تھا۔بادشاہ کو تیسرے لڑکے کا نام ہمیشہ کھٹکتا تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچتا:“ایک غلام کا بیٹا اور دعویٰ ایسا کہ بادشاہ سے زیادہ عقلمند! اس کی عقل کا گھمنڈ توڑنا ضروری ہے۔”ایک دن اس نے تینوں نوجوانوں کو دربار میں بلایا۔پہلے دو کو اس نے ایک ایک باندھا جو (جو کا گٹھا) دیا اور فرمایا:“اسے بو دو، اگلے سال تین سو باندھا جو لے کر آنا۔”پھر اس نے تیسرے نوجوان کو بھی صرف ایک باندھا جو دیا اور وہی حکم سنایا، مگر لہجے میں طنز گھلا ہوا تھا۔نوجوان نے ادب سے سر…

Read more

ایک بادشاہ کو کسی نے دو شاہین کے بچّے تحفے میں پیش کئے۔ بادشاہ نے دونوں کو اپنی شاہینوں کی تربیت کرنے والوں کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اُن دونوں کو تربیت دیں کہ وہ شکار پر لے جائیں جا سکیں۔ ایک مہینے کے بعد وہ ملازم بادشاہ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ ایک شاہین تو مکمّل تربیت یافتہ ہو چکا ہے اور شکار کے لئے بالکل تیّار ہے لیکن دوسرے کے ساتھ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ پہلے دن سے ایک ٹہنی پر بیٹھا ہے اور کوششوں کے باوجود ہلنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس بات سے بادشاہ کا تجسّس بڑھا اور اس نے درباری حکیموں اور جانوروں اور پرندوں کے ماہرین سے کہا کہ پتہ لگائیں آخر وجہ کیا ہے؟ وہ بھی کوشش کر کے دیکھ چکے لیکن کوئی نتیجہ معلوم نہ کر سکے۔ پھر بادشاہ نے پورے ملک میں منادی کروا…

Read more

اکرم صاحب کے چار بیٹے تھے۔انھوں نے سبزی منڈی میں ساری زندگی کام کیا اور اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی۔پھر وہ بیمار ہو گئے اور ان کے علاج معالجے پر کثیر رقم خرچ ہو گئی،مگر جان نہ بچ سکی۔وہ اہلیہ کو بیٹوں کے آسرے پر چھوڑ گئے۔شروع شروع میں بیٹوں نے ماں کا بہت خیال رکھا،مگر جلد ہی وہ اپنے فرض سے غافل ہو گئے۔چاروں بال بچے دار تھے اور خوشحال تھے،مگر سب مل کر بھی ایک ماں کو خوش نہ رکھ سکے۔اس دن تو فہمیدہ بیگم دل مسوس کر رہ گئیں،جب بڑی بہو نے ان کے سامنے شوہر سے کہا:”امی کو ہر بیٹے کے پاس ایک ایک مہینہ رہنا چاہیے،تاکہ کسی ایک بیٹے پر بوجھ نہ بنیں۔“چھوٹے بیٹے اصغر کو یہ بات پتا چلی تو اسے افسوس ہوا کہ ماں جس کی دعا جنت کی ضمانت ہے،بھائیوں کے لئے بوجھ بن گئی تھیں۔وہ بھائیوں میں سب…

Read more

ایک بار ایک مغرور بادشاہ نے سنا کہ اس کی سلطنت کے جنگل میں ایک بہت پہنچے ہوئے درویش رہتے ہیں جن سے ملنے بڑے بڑے لوگ آتے ہیں۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو ساتھ لیا اور ان سے ملنے چل پڑا۔ درویش کی جھونپڑی کے قریب پہنچ کر بادشاہ نے اپنے عام کپڑے پہن لیے اور اکیلا اندر گیا درویش اپنی کٹیا میں خاموشی سے بیٹھے تھے۔ بادشاہ نے جا کر کہا، “میں اس ملک کا بادشاہ ہوں، مجھے کوئی ایسی نصیحت کیجیے جو میری زندگی بدل دے۔”درویش کی نصیحت: درویش نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور کہا، “بادشاہ سلامت! فرض کریں آپ کسی ایسے ریگستان میں پھنس جائیں جہاں دور دور تک پانی نہ ہو اور آپ پیاس سے مر رہے ہوں، تو آپ ایک گلاس پانی کے بدلے کیا دینے کو تیار ہوں گے؟ “بادشاہ کا جواب: بادشاہ نے کہا، “میں اپنی آدھی سلطنت دے دوں گا۔”دوسرا…

Read more

ایک شخص کانوں سے بہت بھاری تھا۔ ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کا پڑوسی سخت بیمار ہے۔ اس نے سوچا کہ عیادت تو کرنی چاہیے، مگر ایک مشکل تھی: وہ مریض کی بات صحیح سن ہی نہیں سکتا تھا۔ کافی غور و فکر کے بعد اس نے ایک زبردست منصوبہ بنایا۔ اس نے خود سے کہا: “میں پوچھوں گا: ‘کیسی طبیعت ہے؟’ وہ کہے گا: ‘الحمدللہ بہتر ہے۔’ تو میں جواب دوں گا: ‘اللہ اور صحت دے۔’ پھر پوچھوں گا: ‘کیا کھا رہے ہو؟’ وہ کہے گا: ‘کھچڑی یا دال۔’ تو میں کہوں گا: ‘بہت اچھا، یہی کھاتے رہو۔’ آخر میں پوچھوں گا: ‘علاج کس حکیم سے کروا رہے ہو؟’ وہ کسی اچھے حکیم کا نام لے گا اور میں اس کی تعریف کر دوں گا۔” یہ منصوبہ ذہن میں بٹھا کر وہ بڑے اطمینان سے بیمار پڑوسی کے گھر پہنچ گیا۔ مگر اتفاق سے مریض کی حالت…

Read more

ایک دھوکے باز گدھے کو جنگل کے قریب ایک مری ہوئی شیر کی کھال ملی۔ گدھے کے دماغ میں ایک شرارت سوجھی؛ اس نے وہ کھال اپنے اوپر اوڑھ لی اور ندی کے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ وہ بالکل ایک خوفناک شیر کی طرح لگ رہا تھا۔گدھا جنگل کی طرف نکلا۔ اسے دیکھ کر تمام جانور، گائے، بھینسیں اور یہاں تک کہ لومڑیاں بھی اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ گدھا یہ دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور خود کو جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اب وہ جہاں بھی جاتا، سب جانور ڈر کے مارے اسے راستہ دے دیتے۔ گدھے کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی، اسے بنا محنت کے ہر جگہ عزت مل رہی تھی۔ایک دن، وہ اسی طرح شیر کی کھال پہن کر ایک کھیت کے پاس سے گزر رہا تھا۔ وہاں دور کچھ اور گدھے کھڑے تھے، جنہوں…

Read more

ایک عورت کا بچہ گم ہوگیا بڑی ٹینشن میں تھی ، اس کے گھر کے قریب ہی عامل صاحب کا گھر تھا عامل صاحب رات کو 1 بجے  تھکے ہوئے  گھر واپس آئے۔ عورت نے ان کا دروازہ زور سے کھٹکھٹایا عامل صاحب نے دروازہ کھولا عورت بولی میرا بچہ صبح سے گم ہے اسے ڈھونڈنے کے لیے کوئی وظیفہ وغیرہ بتائیں عامل صاحب بولے محترمہ رات 1 بجے کا ٹائم ہے اور میں تھکا ہوا آرہا ہوں۔ یہ سونے کا ٹائم ہے صبح آنا عورت بولی میرا بچہ گم ہے اور، تجھے اپنی نیند کی پڑی ہےعامل نے سوچا کہ اس عورت نے میری جان نہیں چھوڑنی اس عامل نے اخبار لے کر اس کا ایک کونا پھاڑ کر سپیشل سی بتی بنا کر تعویذ کی صورت میں اسے دے دیا اور کہا جاؤ یہ اینٹ کے نیچے رکھ دو صبح بچہ واپس آجائے گا حلانکہ عامل صاحب کو…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک نہایت غریب کسان رہتا تھا۔ اس کی کل متاع ایک جھونپڑی، چند بوسیدہ اوزار اور ایک بوڑھا گدھا تھا، جس نے عمر بھر اس کے ساتھ دھوپ، بارش اور فاقوں کے دن گزارے تھے۔وقت کا پہیہ گھوما اور ایک دن کسان اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔اس کے تین بیٹے تھے۔ وراثت تقسیم ہوئی تو بڑے بھائیوں نے زمین، گھر اور مویشی لے لیے، جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے کے حصے میں صرف وہی کمزور اور بوڑھا گدھا آیا۔بڑے بھائی اس پر ہنسنے لگے۔“تمہاری قسمت میں تو صرف یہ گدھا لکھا تھا!”مگر لڑکا مایوس نہ ہوا۔ اس نے محبت سے گدھے کی گردن تھپتھپائی اور بولا:“دوست! دنیا ہمیں کچھ نہیں سمجھتی، مگر شاید ہماری قسمت ابھی جاگی نہیں۔ آؤ، شہر چلتے ہیں اور اپنی تقدیر آزماتے ہیں۔”اگلی صبح وہ گدھے کو ساتھ لے کر روانہ ہو گیا۔شہر پہنچ کر اس نے…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس کے دل میں طاقت کا غرور اور خواہشات کا طوفان موجزن رہتا تھا۔ ایک دن اس کے کانوں میں ایک کسان کی بیوی کے حسن و جمال کے چرچے پڑے۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ نہ صرف بے حد خوبصورت ہے بلکہ عقل و فہم میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔بادشاہ کے دل میں اسے دیکھنے کی خواہش جاگی۔ اس نے فوراً گھوڑا تیار کرایا اور چند خادموں کے ساتھ کسان کے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔کسان نے جب بادشاہ کو اپنے دروازے پر دیکھا تو گھبرا گیا۔ ادب سے سر جھکا کر بولا:“حضور! میرے غریب خانے کو عزت بخشی، کیا حکم ہے؟”بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا:“ہم نے سنا ہے تمہارا کھیت بہت سرسبز ہے۔ آج رات ہم وہیں قیام کرنا چاہتے ہیں۔”کسان سمجھ گیا کہ بادشاہ کی نیت کھیت سے زیادہ کسی اور طرف ہے، مگر وہ بے…

Read more

گاؤں نورپور میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام اللہ دتہ تھا۔ اس کے پاس نہ بڑی زمین تھی، نہ کوئی دکان، نہ دولت کے انبار۔ اس کی کل کائنات ایک مضبوط گھوڑا، ایک پرانا سا ٹانگا اور لوگوں کا اعتماد تھا۔ وہ روز صبح سورج نکلنے سے پہلے اٹھتا، گھوڑے کو سنوارتا، ٹانگا تیار کرتا اور گاؤں سے شہر کی طرف روانہ ہو جاتا۔ شام ڈھلے واپس آتا تو اس کے ٹانگے پر کبھی کسان بیٹھے ہوتے، کبھی مزدور، کبھی طالب علم اور کبھی شہر کے بابو لوگ۔ عجیب بات یہ تھی کہ گاؤں میں اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ٹانگے بھی تھے، زیادہ تیز گھوڑے بھی تھے اور کم کرایہ لینے والے لوگ بھی تھے، مگر پھر بھی مسافر اسی کے ٹانگے کا انتظار کرتے تھے۔ لوگ کہتے تھے:“اللہ دتہ صرف ٹانگا نہیں چلاتا، دل بھی چلاتا ہے۔”وہ زیادہ بولتا نہیں تھا۔اگر کوئی کسان بیٹھتا تو وہ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ پریشان اور بے چین رہتا تھا۔ جنگل کے تقریباً تمام جانور کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے تھے۔ کوئی خوراک جمع کرتا، کوئی اپنا گھر بناتا اور کوئی اپنے بچوں کی پرورش میں لگا رہتا، مگر چوہے کے پاس کرنے کو کوئی خاص کام نہ تھا۔ جنگل کے جانور اکثر اسے طعنے دیتے۔“کب تک فارغ پھرو گے؟” “زندگی صرف خواب دیکھنے کا نام نہیں، کچھ کرنا بھی پڑتا ہے!”لیکن چوہا ہمیشہ سینہ تان کر ایک ہی جواب دیتا: “تم لوگ دیکھ لینا، میں کوئی بہت بڑا کام کروں گا۔ ایسا کام کہ پورا جنگل میرا نام لے گا۔” اس کی ایک گلہری دوست تھی جو اسے دل سے چاہتی تھی۔ وہ اکثر اسے سمجھاتی: “بڑے کام اچھی بات ہیں، مگر ان کی شروعات چھوٹے قدموں سے ہوتی ہے۔ پہلے کچھ سیکھو، پھر کوئی…

Read more

ایک جعلی پیر صاحب اپنے مریدوں کے سامنے بڑے فخر سے اپنی کرامتیں بیان کر رہے تھے۔ پیر صاحب بولے: “میں صحرا میں جا رہا تھا… چلتے چلتے دو دن گزر گئے۔ اچانک بھوک لگی تو میں نے ہاتھ بڑھایا اور اُڑتا ہوا پرندہ پکڑ لیا! پھر سورج کی روشنی پر اسے بھونا  اور مزے سے کھا لیا!” مرید: پیر صاحب مزید جوش میں آگئے: “پھر نماز کا وقت ہوا، مگر پانی ختم ہو چکا تھا۔ میں نے زمین سے مٹھی بھر ریت اٹھائی اور اچانک وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا! مرید: پیر صاحب نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور بولے: “میں نے وضو کیا، نماز پڑھی اور آرام کرنے لگا۔ جب دوبارہ پانی لیا تو جہاں جہاں پانی کے قطرے گرے وہاں گلاب کے پھول کھل گئے! مرید: اب تو پیر صاحب پوری فارم میں تھے… بولے: “پھر میں نے چشمے میں پانی ڈالا تو پانی کے…

Read more

Es una historia de hace mucho tiempo. Un rey gobernaba un vasto imperio. Sus tesoros rebosaban de oro y plata, sus ejércitos eran incontables, sus palacios se alzaban majestuosos, pero su corazón estaba afligido por una sola cosa. Su única hija jamás reía. No sonreía, ni reía, ni movía los labios ante ninguna broma. Los bufones de la corte se caían de la risa, los magos realizaban trucos extraños y los poetas recitaban odas, pero el rostro de la princesa permanecía tan serio como si todas las penas del mundo hubieran caído sobre ella. Finalmente, harto de la situación, el rey hizo un anuncio por todo el imperio:«¡El hombre que haga reír a mi hija se casará con ella y se convertirá en dueño de la mitad del imperio!» Al oír este anuncio, príncipes, intelectuales y reyes autoproclamados de todas partes acudieron en masa a la corte. Pero el resultado…

Read more

ایک کسان تھا۔ اس کے گھر میں چوہوں کی ایسی بھرمار تھی کہ جیسے گھر نہیں، چوہوں کی سلطنت ہو۔ دن ہو یا رات، کہیں اناج کے ڈبے کترے جا رہے ہوتے، کہیں کپڑے اور کہیں لکڑی کے صندوق۔ کسان نے ہر تدبیر آزما لی، مگر چوہے کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ آخر ایک دن وہ شہر سے ایک بلی لے آیا۔بلی جوان، پھرتیلی اور شکار میں ماہر تھی۔اس کے آتے ہی چوہوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ جو چوہے برسوں سے بے خوف گھومتے تھے، اب بلوں میں چھپنے لگے۔ہر روز کئی کئی چوہے اس کا شکار بنتے۔ کچھ ہی ہفتوں میں چوہوں کی تعداد اتنی کم ہو گئی کہ لوگ مذاق میں کہتے: “یہ اب چوہوں کا گھر نہیں، بلی کا محل بن گیا ہے۔” پڑوس میں ایک اور بلی رہتی تھی۔ وہ ہر شام دیوار پر آ بیٹھتی اور پوچھتی: “بہن، آج کتنے شکار کیے؟”…

Read more

ایک بوڑھا شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا، اتفاقاً ڈبہ ابھی خالی تھا۔ پھر 8~10 لڑکے اس ڈبے میں آئے اور بیٹھ کر انہوں نے تفریح کرنی شروع کر دی.! ایک نے کہا، “آؤ ، زنجیر کھینچیں”۔ ایک اور نے کہا – ” اس جرم پر 500 روپے جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا لکھی ہے۔ ” تیسرے نے کہا – ”  ہم بہت سارے لوگ ہیں  500 روپے چنده کر کے جمع کروا دیں گے.! ” چندہ جمع کیا گیا تو 500 کی بجائے 1200 روپے جمع ہوگئے۔ جس میں 500 کا ایک نوٹ ، پچاس کے 2 نوٹ  باقی سب 100 کے نوٹ تھے.!🙆چندہ پہلے لڑکے نے جیب میں رکھ لیا ۔ “زنجیر کھینچنے سے پہلے ایک بولا،  “اگر کوئی پوچھے گا تو کہیں دینگے گے کہ بوڑھے نے اسے کھینچا تھا ۔ تب اپنے کو پیسہ بھی نہیں دینا پڑے گا۔ اور ان روپیوں سے…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے خزانے سونے چاندی سے بھرے ہوئے تھے، لشکر بے شمار تھے، محلات آسمان سے باتیں کرتے تھے، مگر اس کے دل پر ایک ہی بوجھ تھا۔اس کی اکلوتی بیٹی کبھی ہنستی نہ تھی۔نہ مسکراتی، نہ قہقہہ لگاتی، نہ کسی لطیفے پر لب ہلاتی۔دربار کے مسخرے ناک کے بل گرتے، شعبدہ باز عجیب کرتب دکھاتے، شاعر قصیدے پڑھتے، مگر شہزادی کا چہرہ ایسا سنجیدہ رہتا جیسے دنیا کے سارے غم اسی کے حصے میں آ گئے ہوں۔آخر تنگ آ کر بادشاہ نے سلطنت بھر میں اعلان کروا دیا:“جو شخص میری بیٹی کو ہنسا دے گا، وہی اس سے شادی کرے گا اور آدھی سلطنت کا مالک بنے گا!”یہ اعلان سنتے ہی دور دور سے شہزادے، امیرزادے، دانشور اور خودساختہ عقل کے بادشاہ دربار میں آ پہنچے۔مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔شہزادی…

Read more

زمانۂ قدیم کی بات ہے۔ ایک مال دار تاجر اپنے کاروباری سفر پر نکلا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گھنے اور پُراسرار جنگل میں راستہ بھول بیٹھا۔ دن گزرتے گئے، سورج طلوع ہوتا اور ڈوب جاتا، مگر منزل کا سراغ نہ ملتا۔ پانچ دن اور پانچ راتیں وہ جنگل کی بھول بھلیوں میں مارا مارا پھرتا رہا۔آخرکار مایوسی کے عالم میں اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر پکارا:“اے خدا کے بندو! جو کوئی مجھے اس جنگل سے نکلنے کا راستہ دکھا دے، میں اپنی ایک بیٹی کا نکاح اس سے کر دوں گا!”ابھی اس کی آواز درختوں کے سائے میں گونج ہی رہی تھی کہ اچانک زمین کے قریب سے ایک باریک سی آواز سنائی دی:“میں تمہیں راستہ دکھاؤں گا!”تاجر نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا تو کیا دیکھتا ہے! ایک ننھا سا کانٹے دار چوہا اس کے سامنے کھڑا تھا۔تاجر دل ہی دل میں…

Read more

ایک کسان تھا۔ اس کے گھر میں ایک بھینس اور ایک گدھا تھا۔ بھینس کسان کے ساتھ ہر روز عصر کے وقت جنگل کی طرف چرانے جاتی اور شام کو واپس آ جاتی۔ گدھا گھر ہی میں بند رہتا مگر اس کی اور بھینس کی آپس میں گہری دوستی تھی۔ جب بھینس واپس آتی تو وہ گدھے کو جنگل کی سبز گھاس، ٹھنڈی ہواؤں اور دور دریا کے کناروں کی باتیں سناتی۔ وہ اسے بتاتی کہ وہاں زمین اتنی نرم ہے جیسے قالین، اور سبزہ ایسا گھنا کہ آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔ بھینس کی باتیں سن سن کر گدھے کے دل میں ایک عجیب سا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بار بار سوچتا کہ کاش وہ بھی اس جنت جیسے منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ کسان گھر سے باہر چلا گیا۔ موقع دیکھ کر بھینس نے گدھے سے کہا:“آج چلو، میں تمہیں…

Read more

360/1291
NZ's Corner