بارش کے بعد جنگل میں ایک اجنبی بھیڑیا آیا۔
وہ نہ شکار کرتا تھا، نہ کسی سے لڑتا تھا۔
بس خاموشی سے ایک ہی بات کہتا تھا۔
“جسے جو چاہیے، مجھ سے لے لو… قیمت بعد میں دے دینا۔”
پہلے دن خرگوش نے کہا،
“مجھے لومڑی سے بھی تیز دوڑنا ہے۔”
اگلی صبح وہ واقعی بجلی کی طرح دوڑنے لگا۔
ہرن نے مانگا،
“مجھے کسی شکاری سے ڈر نہ لگے۔”
اگلے دن اس کے دل سے خوف ختم ہو چکا تھا۔
مور نے کہا،
“مجھے پورے جنگل میں سب سے خوبصورت بنا دو۔”
وہ پہلے سے بھی زیادہ دلکش ہو گیا۔
ہر جانور خوش تھا۔
کوئی قیمت نہیں مانگی گئی۔
دن گزرتے گئے…
پھر ایک صبح بھیڑیا واپس آیا۔
اس کے ہاتھ میں نہ سونے کی تھیلی تھی، نہ ہتھیار۔
صرف ایک پرانی سی کتاب تھی۔
وہ مسکرایا۔
“اب قرض واپس کرنے کا وقت ہے۔”
خرگوش ہنس پڑا۔
“میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔”
بھیڑیا بولا،
“مجھے تمہاری رفتار نہیں چاہیے…”
“…صرف وہ پہلا دن واپس کر دو جب تم نے اپنی ماں کے ساتھ دوڑنا سیکھا تھا۔”
خرگوش اچانک ساکت رہ گیا۔
اسے اپنی ماں کا چہرہ ہی یاد نہ رہا۔
وہ لمحہ… ہمیشہ کے لیے غائب ہو چکا تھا۔
بھیڑیا نے کتاب میں ایک لکیر کھینچ دی۔
پھر وہ ہرن کے پاس گیا۔
“مجھے تمہارا خوف نہیں چاہیے…
بس وہ رات واپس کر دو جب تمہارے باپ نے تمہیں پہلی بار خطرے سے بچایا تھا۔”
ہرن کی آنکھیں خالی ہو گئیں۔
اسے یاد ہی نہ رہا کہ اس کے باپ کی آواز کیسی تھی۔
مور کی باری آئی۔
اس سے اس کی خوبصورتی نہیں لی گئی…
اس سے وہ دن لے لیا گیا جب اس کی ماں نے پہلی بار اس کے پر پھیلا کر کہا تھا،
“تم جیسے ہو، ویسے ہی خوبصورت ہو۔”
شام تک پورا جنگل خاموش تھا۔
کسی سے طاقت نہیں چھینی گئی تھی۔
کسی سے رفتار نہیں لی گئی تھی۔
صرف…
ان کی سب سے قیمتی یادیں۔
بھیڑیا جنگل سے نکلتے ہوئے رکا اور آہستہ سے بولا،
“دنیا میں سب سے مہنگا قرض وہ ہوتا ہے…
جس کی قیمت انسان کو اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ ادا کر چکا ہوتا ہے۔”
اور اُس دن کے بعد…
جنگل میں کسی نے کبھی “بعد میں قیمت دے دوں گا” نہیں کہا
