بارش مسلسل تیسرے دن بھی نہیں رکی تھی۔
شہر کے کنارے ایک پرانا دو منزلہ گھر تھا جسے لوگ برسوں سے خالی سمجھتے تھے۔
ایک رات احمد کی گاڑی خراب ہو گئی۔ موبائل میں سگنل نہیں تھے، اس لیے وہ مجبوراً اسی گھر میں پناہ لینے چلا گیا۔
دروازہ دھکا دیتے ہی خود بخود کھل گیا۔
اندر عجیب خاموشی تھی…
ایسی خاموشی جس میں اپنی سانس بھی شور لگتی تھی۔
سیڑھیوں کے پاس دیوار پر دھول جمی ہوئی تھی، مگر اس دھول میں تازہ قدموں کے نشان بنے ہوئے تھے…
ایسے نشان جو اوپر جا رہے تھے… نیچے نہیں آ رہے تھے۔
احمد نے خود کو سمجھایا، “شاید کوئی اور بھی یہاں پناہ لینے آیا ہوگا۔”
وہ اوپر چڑھنے لگا۔
پہلی منزل پر ایک کمرہ کھلا تھا۔
کمرے میں صرف ایک پرانی کرسی تھی…
اور کرسی آہستہ آہستہ خود ہل رہی تھی۔
کھڑکیاں بند تھیں۔
ہوا بالکل نہیں چل رہی تھی۔
اچانک…
نیچے سے کسی بچے کے ہنسنے کی آواز آئی۔
احمد دوڑتا ہوا نیچے آیا۔
کوئی نہیں تھا۔
مگر دروازہ، جو اس نے کھلا چھوڑا تھا…
اب اندر سے بند تھا۔
اس نے پوری طاقت سے دھکا دیا۔
دروازہ نہ کھلا۔
پھر…
اسے اپنے کان کے بالکل قریب ایک دھیمی آواز سنائی دی۔
“اوپر مت جانا…”
وہ گھبرا کر پلٹا۔
پیچھے کوئی نہیں تھا۔
لیکن سیڑھیوں پر…
ایک ایک کر کے گیلے قدم بنتے جا رہے تھے۔
جیسے کوئی اَن دیکھی چیز آہستہ آہستہ نیچے اتر رہی ہو۔
قدم آخری سیڑھی تک آئے…
اور اچانک رک گئے۔
خاموشی۔
پھر…
پورے گھر میں ایک ساتھ تمام دروازے زور سے بند ہو گئے۔
اندھیرا۔
اور اس اندھیرے میں صرف ایک آواز گونجی…
“اب تم بھی اس گھر سے کبھی باہر نہیں جاؤ گے…”
اگلی صبح پولیس کو احمد کی گاڑی تو سڑک کنارے مل گئی…
مگر احمد کبھی نہیں ملا۔
آج بھی کہتے ہیں، اگر بارش کی رات اس گھر کے پاس سے گزرو…
تو دوسری منزل کی کھڑکی میں ایک آدمی مدد کے لیے ہاتھ ہلاتا نظر آتا ہے۔
اور جیسے ہی کوئی اسے بچانے کے لیے قریب جاتا ہے…
وہ آہستہ سے مسکرا دیتا ہے۔
