شہر میں ایک بوڑھا آدمی تھا جو پچاس سال سے ایک ہی کمرے میں رہ رہا تھا۔
وہ وقت پر کرایہ دیتا، کسی سے بات نہ کرتا، اور ہر شام اپنے دروازے کے باہر ایک خالی کرسی رکھ دیتا۔
محلے والے کہتے تھے،
“شاید کسی کا انتظار کرتا ہے۔”
ایک دن مکان مالک نے تنگ آ کر پوچھ ہی لیا،
“آخر روز یہ خالی کرسی کیوں رکھتے ہو؟”
بوڑھا مسکرایا۔
“کیونکہ جس دن کوئی اس پر بیٹھ گیا… میں یہ کمرہ چھوڑ دوں گا۔”
سب نے اسے پاگل سمجھا۔
سال گزرتے گئے۔
کسی نے کبھی اس کرسی پر بیٹھنے کی ہمت نہ کی۔
پھر ایک بارش بھری شام ایک سات آٹھ سال کا لڑکا بھیگتا ہوا آیا۔
اس نے کچھ پوچھے بغیر کرسی کھینچی…
اور بیٹھ گیا۔
بوڑھے نے اسے دیکھا۔
پچاس برس بعد…
وہ پہلی بار ہنسا۔
اگلی صبح محلے والوں نے دیکھا…
کمرہ خالی تھا۔
کرایہ میز پر رکھا تھا۔
چابی بھی۔
اور ایک چھوٹا سا کاغذ…
جس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
“اب اس گھر میں تنہائی نہیں رہتی… اس لیے میری ضرورت بھی نہیں۔”
