Category Archives: Urdu Stories

ایک سرسبز تالاب کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔ وہ عام مینڈکوں جیسا نہ تھا۔ باقی مینڈک کیچڑ میں خوش رہتے، مکھیاں پکڑتے اور شام کو ٹرٹر کی محفل جماتے تھے، مگر اس کے دل میں بڑے بڑے خواب مچلتے رہتے تھے۔اس کی ایک ہی خواہش تھی:“کاش میں بھی پرندوں کی طرح آسمان پر اڑ سکتا!”ہر صبح وہ گردن اٹھا کر نیلے آسمان کو دیکھتا اور حسرت سے سوچتا:“یہ بطخیں بھی کیا قسمت والی ہیں! کبھی جھیل پر، کبھی کھیتوں پر، کبھی بادلوں کے درمیان۔ اور ایک میں ہوں کہ ساری عمر اسی تالاب کے کنارے ٹرٹر کرتا رہوں!”ایک دن اس نے بطخوں کا ایک غول آسمان میں اڑتے دیکھا۔اس کا دل مچل اٹھا۔وہ اچھلتا کودتا ان کے پاس پہنچا اور بولا:“محترم بطخ بہنو! مجھے بھی اڑنا سکھا دیجیے۔”بطخوں نے پہلے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر ہنس پڑیں۔ایک بطخ بولی:“بھئی، اڑنے کے لیے پر بھی تو چاہیے ہوتے…

Read more

زمانۂ قدیم میں ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک ایسا میدان تھا جہاں جانور اکثر اپنی طاقت کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔ ایک دن اسی میدان میں ایک ہاتھی اور ایک گینڈا آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے۔دونوں اپنی اپنی طاقت کے قصیدے خود پڑھتے تھے۔ہاتھی فخر سے اپنی سونڈ لہراتا اور کہتا:“جنگل میں اگر کوئی پہاڑ چلتا پھرتا ہے تو وہ میں ہوں!”گینڈا اپنی ناک کا سینگ آسمان کی طرف اٹھا کر جواب دیتا:“اور اگر کوئی آندھی زمین پر دوڑتی ہے تو وہ میں ہوں!”باتوں باتوں میں بحث بڑھی، بحث سے تکرار ہوئی، اور تکرار سے نوبت لڑائی تک جا پہنچی۔آخر فیصلہ ہوا کہ ایک زبردست مقابلہ کیا جائے تاکہ دنیا جان لے کہ دونوں میں اصل بڑا کون ہے۔جنگل میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔لومڑیاں تماشہ دیکھنے کو بے تاب تھیں، بندر درختوں پر نشستیں سنبھال رہے تھے، اور طوطے تازہ تبصرے تیار کر…

Read more

ایک دن ایک اژدہا ایک ریچھ کو گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا۔ اتفاق سے ایک بہادر اور طاقتور پہلوان وہاں سے گزرا۔ جب اس نے ریچھ کی بے بسی دیکھی تو اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔ اپنی قوت اور فنِ کشتی کے کمال سے اس نے اژدہے کا مقابلہ کیا، اسے زیر کر لیا اور آخرکار مار ڈالا۔ یوں ریچھ موت کے منہ سے بچ گیا۔ریچھ اس احسان پر بے حد شکر گزار ہوا۔ وہ پہلوان کے ساتھ ایسے لگ گیا جیسے وفادار ساتھی ہو۔ پہلوان بھی تھکا ہوا تھا، اس لیے ایک درخت کے سائے تلے آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔ ریچھ محبت اور عقیدت کے جذبے سے اس کے پاس پہرہ دینے لگا۔اسی دوران ایک راہ گیر وہاں سے گزرا۔ اس نے ریچھ کو پہلوان کے پاس بیٹھے دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا:“بھائی، یہ ریچھ تمہارے ساتھ کیا کر رہا ہے؟”پہلوان نے سارا…

Read more

اے بات ماننے والے! بھولے پن کی ایک کہانی سن۔ ایک اعرابی نے اونٹ پر ایک بوریا اناج کی بھری اور دوسرے میں ریت بھر کر اونٹ پر لاد دیا اور خود ان دونوں کے اوپر ہو بیٹھا۔ راسے میں ایک باتونی صاحب ملے اور ہمدردی سے سفر کی حضرکی باتیں کرتے رہے۔ پھر پوچھا کہ کیوں میاں! دونوں بوریوں کیا بھرا ہوا ہے؟ اعرابی نے کہا کہ ایک میں تو گیہوں ہے اور دوسرے میں ریت بھری ہے۔پوچھا کہ آخر تو نے اس بوریاکو بھرا ہی کیوں؟ جواب دیا تاکہ دونوں طرف بوریے ہم وزن رہیں اور وزن صرف ایک ہی طرف نہ رہے۔ بولے بوریے میں سے آدھے گیہوں نکال کر دوسری میں پاسنگ کے طور پر ڈال دے۔ دونوں طرف وزن برابر ہوجائے گا اور اونٹ پر بھی بوجھ نہ رہے گا۔ اعرابی نے کہا کہ شاباش اے صاحبِ ہنر! ایسی عمدہ عقل اور اچھی رائے کے…

Read more

یہ ایک سچی اور دل کو چھو لینے والی ایمان افروز کہانی ہے جو توکل، دیانت داری اور اللہ کی غیبی مدد پر یقین کو تازہ کرتی ہے:ایک مرتبہ ایک غریب لکڑہارا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہر کی طرف جا رہا تھا۔ شدید گرمی اور تپتی دھوپ کی وجہ سے وہ بہت تھک چکا تھا۔ راستے میں ایک گھنے درخت کے نیچے وہ آرام کرنے کے لیے رک گیا۔ اس نے لکڑیوں کا گٹھا ایک طرف رکھا اور وہیں بیٹھ گیا ابھی وہ سستانے ہی لگا تھا کہ اس کی نظر درخت کی جڑ کے پاس مٹی میں دبے ہوئے ایک چمڑے کے تھیلے پر پڑی۔ لکڑہارے نے تجسس کے مارے مٹی ہٹائی اور تھیلا باہر نکالا۔ جب اس نے تھیلے کا منہ کھولا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ تھیلا سونے کے قیمتی سکوں سے بھرا ہوا تھا۔لکڑہارا انتہائی غریب تھا، اس کے گھر…

Read more

پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے – بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور…

Read more

بےغیرتی کی سو باتوں سے مرغے کی یہ ایک نصیحت بہتر ہے  ایک شخص نے ایک مرغا پالا تھا۔ ایک بار اس نے مرغا ذبح کرنا چاہا۔مالک نے مرغے کو ذبح کرنے کا کوئی بہانا سوچا اور مرغے سے کہا کہ کل سے تم نے اذان نہیں دینی ورنہ ذبح کردوں گا۔ مرغے نے کہا ٹھیک ہے آقا جو آپ کی مرضی! صبح جونہی مرغے کی اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی لیکن حسبِ عادت اپنے پروں کو زور زور سے پڑپڑایا۔مالک نے اگلا فرمان جاری کیا کہ کل سے تم نے پر بھی نہیں مارنے ورنہ ذبح کردوں گا۔اگلے دن صبح اذان کے وقت مرغے نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پر تو نہیں ہلائے لیکن عادت سے مجبوری کے تحت گردن کو لمبا کرکے اوپر اٹھایا۔مالک نے اگلا حکم دیا کہ کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے، اگلے…

Read more

چاچا! فالسہ کیا حساب دے رہے ہو ؟”صاحب جی تازہ فالسہ صرف دو سو روپے کلو کار والے کا منہ بن گیا۔دو سو روپے؟؟ اگر کسی کی مدد نہیں کر سکتے، تو کم از کم اسے اپنی باتوں سےدکھ نہ پہنچائیں۔۔ جون کی تپتی ہوئی دوپہر تھی اور سورج آگ برسا رہا تھا۔   سڑک کے کنارے، پچپن سالہ چاچا برکت اپنی ریڑھی پر گہرے جامنی رنگ کے چمکتے ہوئے تازہ فالسے سجائے کھڑا تھا۔وہ مسلسل پنکھا جھلتے ہوئے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے آواز لگا رہا تھا: “ٹھنڈے میٹھے فالسے… گرمی کا توڑ فالسے!” چاچا برکت اندر سے شدید پریشان تھا۔ اس کا کرائے کا چھوٹا سا مکان تھا، مالک مکان دو بار کرائے کا تقاضا کر چکا تھا اور اوپر سے اس بار بجلی کا بل پورا چھ ہزار روپے آیا تھا، جس نے اس کے ہوش اڑا دیے تھے۔ گھر میں راشن ختم ہونے کو تھا…

Read more

ایک سرسبز و شاداب وادی کے بیچوں بیچ ایک قدیم تالاب تھا۔ اس تالاب کے نیلگوں پانی میں مینڈکوں کی ایک بڑی بستی آباد تھی۔ ہر طرف آزادی ہی آزادی تھی؛ نہ کوئی حاکم، نہ کوئی پابندی، نہ کسی کا حکم چلتا تھا اور نہ کسی کی گردن پر جبر کا طوق تھا۔مگر انسان ہو یا مینڈک، نعمت جب مسلسل میسر رہے تو اس کی قدر آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایک دن مینڈکوں کی مجلسِ شوریٰ منعقد ہوئی۔ بوڑھے مینڈک کنول کے پتوں پر بیٹھے تھے اور نوجوان مینڈک جوشِ خطابت میں اچھل کود کر رہے تھے۔ایک جذباتی مینڈک نے تقریر جھاڑی:“یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ نہ کوئی بادشاہ، نہ کوئی دربار! قومیں اپنے حکمرانوں سے پہچانی جاتی ہیں اور ہم ہیں کہ بے سہارے پھر رہے ہیں!”مجمع نے زور دار ٹرّ ٹرّ کے ساتھ تائید کی۔بالآخر سب نے مل کر دیوتا کے حضور فریاد کی:“اے دیوتا! ہمیں…

Read more

‏یہ سن 1996 کی بات ہےجب لاہور کے اک تھیٹر میں کام کرنے والے میاں بیوی والدین بننے والے تھے اک دن روٹین کے چیک اپ کیلئے ہسپتال گئےتو ان کی خوشی کی انتہاء نہ رہی جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے ہاں جڑواں بیٹوں کی ولادت ہوگیخیر سے بچے ہوگئےدلچسپ بات یہ کہ بچے ہمشکل بھی تھےوہ دونوں وقت کے ساتھ بڑے ہوئےتو انہیں یہ جان کر بہت صدمہ ہوا کہ ان کا اک بچہ گونگا ہے علاج کیلئے بہت گھومےمگر اتنا جان پائے کہ بچہ قابل علاج تو ہے مگر اس کیلئے امریکہ جانا پڑے گادونوں نے دن رات محنت کیمگراتنے پیسے جمع کر پائے کہ والدین میں سے صرف اک ہی بچے کے ساتھ ہی جایا جا سکتا تھاماں تھی، بیمار بچے کو کیسےخود سے جدا کر کے علاج کروا سکتی تھیآخر ماں اور بچے کا ویزہ لگوایا گیااک دن وہ امریکہ روانہ ہوگئےخاتون ائیرپورٹ سے…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک خوش آواز گویّا آیا۔ اس نے ایسا سُریلا گانا چھیڑا کہ پورا دربار خاموش ہو گیا…بادشاہ جھوم اٹھا بادشاہ نے وزیر سے کہا:“اس گویّے کو ہیرے دے دو!” یہ سنتے ہی گویّا اور دل سے گانے لگا۔ بادشاہ پھر بولا:“اسے موتی بھی عطا کرو!” اب تو گویّے کی آواز میں اور بھی جادو آ گیا بادشاہ خوش ہو کر چلایا:“اشرفیاں بھی دے دو!” گویّا اب پوری جان لگا کر گا رہا تھا…سر، لے، آواز… سب عروج پر تھے بادشاہ جوش میں آ کر بولا:“اسے جاگیر بھی دے دی جائے!” بس پھر کیا تھا…گویّا خوشی خوشی گھر پہنچا اور بیوی بچوں کو بتایا: “ہماری قسمت بدل گئی!بادشاہ نے سونا، چاندی، اشرفیاں، موتی، ہیرے، حتیٰ کہ جاگیر تک دینے کا اعلان کیا ہے!” گھر میں جشن شروع ہو گیا مگر… ایک دن گزرا…پھر دوسرا…پھر تیسرا… نہ سونا آیا…نہ چاندی…نہ اشرفیاں…نہ جاگیر… آخرکار گویّا دوبارہ دربار پہنچا…

Read more

بہت زمانہ پہلے کی بات ہے۔ ایک سلطنت میں ایک ایسا شہزادہ رہتا تھا جس کا مزاج کانٹوں سے بھی زیادہ چبھنے والا تھا۔ غرور اس کے سر پر سوار رہتا اور بدتمیزی اس کی زبان پر ناچتی تھی۔ رعایا تو درکنار، اس کے اپنے خادم بھی اس کے رویّے سے عاجز آ چکے تھے۔ایک روز قسمت نے پلٹا کھایا۔ زور دار بارشوں کے باعث دریا بپھر گیا اور سیلاب کا ریلہ ہر شے کو اپنے ساتھ بہائے لیے جا رہا تھا۔ انہی دنوں شہزادہ بھی دریا کے تیز دھار پانی میں جا گرا۔ کچھ روایتیں کہتی ہیں کہ اس کے نوکروں نے، جو اس کی سخت مزاجی سے تنگ آ چکے تھے، اسے دھکا دے دیا۔موت اس کے سر پر منڈلا رہی تھی۔ بڑی مشکل سے اسے ایک بہتا ہوا درخت کا تنا ہاتھ آ گیا۔ وہ اسی کے سہارے جان بچانے کی کوشش کرنے لگا۔اسی تنے سے تین…

Read more

جنگل میں ایک دن بڑا ہنگامہ برپا تھا۔ اعلان ہوا کہ اب بادشاہ کا انتخاب ہوگا، اور ہر وہ جانور جو اپنے آپ کو اہل سمجھتا ہے، دعویٰ پیش کر سکتا ہے۔پہلا امیدوار اونٹ تھا۔ وہ گردن تان کر، ریتلے فخر کے ساتھ آگے آیا اور بولا:“میں صبر کا پہاڑ ہوں، طاقت کا مینار ہوں! جنگل کی ہر مشکل میں کام آ سکتا ہوں۔ بادشاہی کا حق تو صرف مجھے ہے!”ابھی اس کا جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ ہاتھی صاحب دھمکتے ہوئے تشریف لائے۔ زمین کانپ گئی، پرندے اڑ گئے، اور ہاتھی نے بھاری آواز میں کہا:“ذرا ٹھہرو! تم خود کو کیا سمجھتے ہو؟ اصل طاقت تو میرے پاس ہے! میں چاہوں تو پورا جنگل اٹھا کر رکھ دوں!”بات بڑھتی گئی، آوازیں اونچی ہوئیں، اور معاملہ “میں بڑا ہوں” سے “نہیں، میں بڑا ہوں” تک پہنچ گیا۔اسی شور شرابے میں بندر صاحب درخت سے جھولتے جھولتے نیچے اترے،…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جس کے پاس ایک گدھا تھا۔ یہ کوئی عام گدھا نہ تھا، بلکہ کام چوری کے فن میں یکتا اور بہانوں کے باب میں کامل استاد تھا۔ جب بھی محنت کا وقت آتا، اس کے نت نئے عذر تیار ہوتے۔ایک دن کسان نے ارادہ کیا کہ بازار لے جانے کے لیے اناج کی بھاری بوریاں گدھے پر لادی جائیں۔ ابھی پہلی بوری کمر پر رکھی ہی تھی کہ گدھا دھڑام سے زمین پر گر پڑا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں، سانس مدھم کر لی اور یوں بے ہوشی کا ڈرامہ رچایا جیسے برسوں کا بیمار ہو۔کسان پریشان ہو گیا۔ اس نے گدھے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور افسوس سے بولا:“ارے بیچارے! آج تو لگتا ہے طبیعت ناساز ہے۔ چلو، آج آرام کر لو، کل کام کر لینا۔”یہ کہہ کر کسان بظاہر وہاں سے چلا گیا۔جوں ہی قدموں کی آہٹ دور ہوئی،…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک ملک پر ایک بہت بڑا اور طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے پاس دولت، فوج، محلات اور دنیا کی ہر نعمت موجود تھی، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ پریشان، اداس اور بے چین رہتا تھا۔ اسے رات کو نیند نہیں آتی تھی اور اس کا دل کسی کام میں نہیں لگتا تھا۔بادشاہ نے ملک بھر کے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور جادوگروں کو بلایا کہ وہ اس کی اس بے چینی کا علاج کریں۔ سب نے بہت کوشش کی لیکن کوئی بھی بادشاہ کو دلی سکون اور خوشی نہ دے سکا۔آخر کار، ایک بوڑھا عقل مند درویش بادشاہ کے دربار میں آیا۔ اس نے بادشاہ کی حالت دیکھی اور کہا، “عالی جاہ! آپ کی اس بیماری کا ایک ہی علاج ہے۔ آپ اپنے پورے ملک میں کسی ایسے انسان کو تلاش کریں جو دل سے سچا اور مکمل طور پر خوش…

Read more

ایک غریب آدمی کے مکان کی چھت ٹوٹ گئی تھی اور وہ اُس پر گھاس پھونس بچھا رہا تھا کہ اتفاق سے ایک سخی امیر بھی اُدھر آ نکلا اور کہا۔ بھلے آدمی! اس گھاس پھونس سے بارش کیا رُکے گی۔ پکی چھت بنوا لو تو ٹپکنے کا اندیشہ جاتا رہے۔‘‘ غریب نے جواب دیا۔ ’’جناب! آپ کا فرمانا تو بے شک بجا ہے اور میں بھی جانتا ہوں۔ مگر حضور! میرے پاس پکی چھتبنوانے کے لیے دام کہاں؟‘‘امیر نے پوچھا۔ ’’پکی چھت پر کیا لاگت آئے گی؟‘‘غریب نے جواب دیا۔ ’’جناب! ڈیڑھ سو روپے تو لگ ہی جائیں گے۔‘‘ یہ سن کر امیر نے جھٹ جیب میں سے ڈیڑھ سو روپے کے نوٹ نکال اُس غریب کے حوالے کر دیے کہ جاؤ اس سے اپناکام چلاؤ۔ جب امیر نوٹ دے کر چلا گیا تو غریب کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے کہ یہ تو بڑا سخی دولت مند تھا۔…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو چھوٹے مینڈک جنگل سے نکل کر کسی گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔ بھوک اور تھکن سے نڈھال تھے، مگر زندگی کی تلاش میں آگے بڑھ رہے تھے۔رات کے اندھیرے میں وہ ایک گھر کے کچن میں جا گھسے۔ وہاں ایک بڑا سا برتن رکھا تھا جو تازہ دودھ سے بھرا ہوا تھا۔ دودھ کی خوشبو نے دونوں کو بے اختیار کر دیا۔اچانک دونوں کا پاؤں پھسلا اور “چھپاک” سے وہ سیدھے دودھ کے برتن میں جا گرے۔شروع میں تو ہنستے رہے، سمجھا کہ آسانی سے نکل آئیں گے۔ لیکن جیسے ہی باہر نکلنے کی کوشش کی، حقیقت سامنے آ گئی… برتن بہت گہرا تھا اور دیواریں اتنی پھسلن والی کہ اوپر جانا ناممکن لگ رہا تھا۔ایک مینڈک گھبرا گیا۔ وہ ہانپتے ہوئے بولا: “بس بھائی… اب نہیں بچ سکتے۔ جدوجہد کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم ختم ہو گئے ہیں۔”اور اس نے کوشش…

Read more

ایک شہر میں ایک نہایت امیر شخص رہتا تھا۔ اس کے پاس دولت کی کوئی کمی نہ تھی۔ عالی شان محل، قیمتی گاڑیاں، نوکر چاکر، فیکٹریاں… دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں تھی۔ مگر اتنی دولت کے باوجود وہ ایک ایسی تکلیف میں مبتلا تھا جس نے اس کی زندگی جہنم بنا دی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہر وقت شدید درد رہتا تھا۔دن رات جلنے اور چبھنے کا احساس اسے سکون سے جینے نہیں دیتا تھا۔ اس نے ملک کے بڑے بڑے ڈاکٹرز کو دکھایا، مہنگی دوائیں کھائیں، سینکڑوں انجکشن لگوائے، مگر درد تھا کہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ آخرکار سب ڈاکٹر ہار مان گئے۔تب کسی نے مشورہ دیا کہ ایک بزرگ حکیم ہیں جو ناممکن بیماریوں کا علاج بھی کر دیتے ہیں۔ بزرگ کو بلایا گیا۔انہوں نے خاموشی سے اس امیر آدمی کو دیکھا، اس کی باتیں سنیں، پھر مسکرا کر…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آسودہ حال شخص رہا کرتا تھا۔ اس کا جانوروں کا باڑہ تھا وہ جانوروں کا دودھ بیچتا، گھی، مکھن بیچتا۔ مال و دولت کی فراوانی تھی۔ پھر ایک دن اس کے جانوروں میں ایک ایسی بیماری آئی کہ ایک ایک کر کے سب جانور مر گئے۔ وہ بہت پریشان ہوا، وہ خوشحال تھا گھر میں کافی مال جمع تھا۔ روزمرہ کے اخراجات کے لیے وہ مال استعمال ہونے لگا رفتہ رفتہ گھر کی تمام قیمتی اشیاء بک گئی اور بات فاقوں تک آگئی۔ وہ بہت پریشان تھا ایک دن اس کی بیوی نے اسے کہا کہ دوسرے گاوں کا سردار تمہارا دوست ہے، تم اس کے پاس جاؤ اور اسے اپنی پریشانی بتاؤ اور مدد کا کہو۔ یہ بات اس کے دل کو لگی اگلے ہی دن وہ صاف ستھرا لباس پہن کے دوسرے گاوں اپنے دوست سے ملنے چلا گیا۔اس…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک چالاک لومڑی جنگل میں خوراک کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گہرے کنویں میں جا گری۔ کنواں پانی سے بھرا ہوا تھا۔ لومڑی نے بڑی کوشش کی، دیواروں پر پنجے مارے، چھلانگیں لگائیں، مگر کنویں کی پھسلن بھری دیواریں اُس کی ہر تدبیر کا مذاق اُڑاتی رہیں۔وہ مایوس ہو کر ایک کونے میں بیٹھی ہی تھی کہ کچھ دیر بعد ایک بکری وہاں آنکلی۔ گرمی کی شدت سے اُس کا گلا سوکھ رہا تھا۔ اُس نے کنویں میں جھانکا تو لومڑی کو پانی میں کھڑا دیکھا۔بکری نے حیرت سے پوچھا: “ارے بہن لومڑی! یہ پانی کیسا ہے؟”لومڑی کی آنکھوں میں مکاری کی چمک دوڑ گئی۔ اُس نے نہایت میٹھے لہجے میں جواب دیا: “اے بکری! میں نے اپنی زندگی میں ایسا شیریں اور ٹھنڈا پانی کبھی نہیں پیا۔ یہ تو گویا جنت کی…

Read more

380/1291
NZ's Corner