نہلے پر دہلا

نہلے پر دہلا

شام کے مشہور تابعی مکحول کا بیان ہے کہ حکیم لقمان کالے رنگ کے نوبی غلام تھے۔ (نوبہ: مصر کے جنوبی حصے میں ایک وسیع و عریض خطہ ہے۔ حکیم لقمان وہیں کے رہنے والے تھے اسی لیے انہیں “نوبی” کہا گیا۔) (معجم البلدان: ۵/۳۵۷)

اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت و دانائی کا وافر حصہ عنایت فرمایا تھا۔ یہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے انہیں کچھ مال کے عوض خریدا تھا۔ حکیم لقمان اس کے گھر کام کرتے تھے۔
حکیم لقمان کا آقا شطرنج کھیلنے کا بڑا شوقین تھا، وہ شطرنج کے ذریعے جوا کھیلا کرتا تھا۔ اس کے دروازے پر ایک نہر بہہ رہی تھی۔ ایک دن وہ اس شرط پر شطرنج کھیل رہا تھا کہ فریقین میں سے جو ہار جائے وہ اس نہر کا پورا پانی پئے گا، بصورتِ دیگر ہارے ہوئے ساتھی کو جرمانے کے طور پر فدیہ دینا پڑے گا جس کا تعین جیتنے والا ہی کرے گا۔ اتفاق یہ ہوا کہ حکیم لقمان کا آقا بازی ہار گیا۔

جیتنے والے ساتھی نے حکیم لقمان کے آقا سے کہا: “تم کھیل ہار چکے، اب شرط کے مطابق نہر کا پانی پیو یا فدیہ دو۔” آقا نے پوچھا: “تو یعنی میں کیا چاہتے ہو؟”
جیتنے والا بولا: “فدیہ یہ ہے کہ میں تیری دونوں آنکھیں نکال دوں گا اور تیری ساری جائیداد پر قبضہ کر لوں گا۔”

حکیم لقمان کے آقا نے کہا: “مجھے فیصلے کے لیے ایک دن کا موقع دو۔” جیتنے والے نے ایک دن کی مہلت دے دی۔
حکیم لقمان کا آقا بہت رنجیدہ ہوا۔ وہ غم زدہ حالت میں بیٹھا تھا۔ شام کے وقت حکیم لقمان اپنی پیٹھ پر گٹھڑی لادے آئے تو دیکھا کہ ان کا آقا انتہائی رنج و غم کے عالم میں نڈھال ہے۔ حکیم لقمان نے آقا کو سلام کیا، پیٹھ سے بوجھ اتارا اور آقا کی خدمت میں بیٹھ گئے۔ ان کے آقا کا معمول تھا کہ جب بھی وہ اس کی خدمت میں حاضر ہوتے وہ ان کی حکمت بھری باتیں سنتا اور محظوظ ہوتا، مگر آج آقا منہ لٹکائے مایوس بیٹھا تھا۔
حکیم لقمان نے عرض کیا: “آقا! کیا ماجرا ہے؟ آپ افسردہ کیوں بیٹھے ہیں؟” آقا نے غلام کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی اور اپنا رخ پھیر لیا۔

حکیم لقمان نے دوسری اور تیسری مرتبہ اپنی بات دہرائی مگر آقا نے ان سے کوئی بات نہیں کی۔ بالآخر حکیم لقمان نے زور دے کر پوچھا: “آقا! آخر آپ اس قدر گم سم کیوں بیٹھے ہیں؟ اپنے درد کا اظہار کیجیے، اگر میں آپ کے درد کا مداوا نہیں بن سکتا تو اس درد میں شریک ضرور ہو سکتا ہوں، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی سنگین پریشانی حل کرنے کا میرے پاس کوئی نسخہ نکل آئے جو آپ کے حق میں مفید ثابت ہو۔”
آقا نے یہ بات سن کر اپنے دردِ دل کا سب احوال بتا دیا۔ پوری داستان سننے کے بعد حکیم لقمان نے تسلی دی: “آپ بالکل شکستہ خاطر نہ ہوں، میرے پاس اس شرط سے بچ نکلنے کا طریقہ موجود ہے۔” آقا نے بے تابی سے پوچھا: “وہ کون سا طریقہ ہے؟”

حکیم لقمان نے سمجھایا: “جب وہ جیتنے والا آدمی آپ کے پاس آئے اور کہے کہ نہر کا پانی پیو تو آپ اس سے اطمینان سے پوچھیں کہ نہر کے دونوں کناروں کے درمیان والا پانی پیوں یا بہاؤ کی طرف کا پانی پیوں؟ آپ کا یہ سوال سن کر وہ لازماً یہ کہے گا کہ دونوں کناروں کے درمیانی حصے کا پانی پیو۔ جب وہ یہ کہے تو آپ اس سے فوراً کہیں: ٹھیک ہے، میں نہر کے دونوں کناروں کے درمیانی حصے کا پانی پیوں گا مگر پہلے تم بہاؤ کو روکو تاکہ میں پانی پی لوں۔ اس طرح آپ پانی پینے کی شرط سے نکل جائیں گے کیونکہ جیتنے والا ساتھی نہر کا بہاؤ نہیں روک سکتا اور جب وہ یہ کام نہیں کر سکے گا تو دونوں کناروں کے درمیانی حصے کا پانی پینے پر اس کا اصرار باقی نہ رہ سکے گا، یوں آپ کو چھٹکارا مل جائے گا۔”

آقا کو دانش مند غلام کی ترکیب بڑی اچھی لگی اور اس کے دل کو قدرے سکون ملا۔
اگلے دن صبح اس کا ساتھی آیا اور اس نے مطالبہ کیا کہ میری شرط پوری کرو۔ آقا نے کہا: “بہت اچھا! پہلے یہ بتلاؤ کہ نہر کے دونوں کناروں کے درمیانی حصے کا پانی پیوں یا بہاؤ والے حصے کا؟” ساتھی نے کہا: “کناروں کے درمیانی حصے کا پانی پیو۔”

آقا نے کہا: “بہت اچھا! اب تم یوں کرو کہ پہلے نہر کا بہاؤ روکو تاکہ میں تمہاری شرط پوری کر سکوں۔” ساتھی بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو، کیا یہ میرے لیے ممکن ہے؟”
آقا نے کہا: “پھر تمہاری شرط بھی ختم اور ہماری شرط بھی ختم۔”
یوں یہ معاملہ بخیر و خوبی ختم ہو گیا۔ آقا بڑا خوش ہوا اور اس خوشی میں اس نے حکیم لقمان کو آزاد کر دیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner