ایک قدیم شہر میں ایک عجیب روایت تھی۔ہر سال شہر کے چوک میں ہزاروں چراغ جلائے جاتے تھے۔ لوگ یقین رکھتے تھے کہ جس کا چراغ سب سے زیادہ دیر تک روشن رہے گا، وہی سب سے کامیاب انسان کہلائے گا۔
اس لیے ہر شخص اپنے چراغ کے گرد دیواریں بناتا، شیشے کے غلاف چڑھاتا، ہوا روکنے کے لیے نوکر کھڑے کرتا۔ ہر کوئی اپنے چراغ کو بچانے میں لگا رہتا۔
اسی شہر میں ایک گمنام بڑھئی رہتا تھا۔اس نے بھی ایک چراغ جلایا، مگر اسے چوک میں رکھنے کے بجائے شہر کی اس تنگ گلی میں رکھ دیا جہاں رات کے وقت مسافر ٹھوکریں کھاتے تھے۔
لوگ اس پر ہنسے۔
“تم مقابلے میں ہار جاؤ گے۔”
وہ صرف مسکرا دیتا۔
رات گہری ہوئی۔ تیز آندھی چلی۔ چوک کے مضبوط چراغ ایک ایک کر کے بجھنے لگے، کیونکہ ہر شخص اپنے چراغ کو بچانے میں اتنا مصروف تھا کہ دوسروں کے بجھتے چراغوں کی طرف کسی نے دیکھا ہی نہیں۔
مگر وہ چھوٹا سا چراغ، جو سنسان گلی میں جل رہا تھا، اپنی روشنی سے کئی مسافروں کو محفوظ راستہ دکھاتا رہا۔
صبح اعلان ہوا کہ چوک کا کوئی چراغ باقی نہیں بچا۔
لوگ مایوس ہو گئے۔
تب ایک قافلہ شہر میں داخل ہوا۔ انہوں نے بتایا،
“اگر اس اندھیری گلی میں وہ ایک چراغ نہ جل رہا ہوتا تو ہم میں سے کئی لوگ کھائی میں گر جاتے۔”
لوگ حیران رہ گئے۔
بڑھئی کا چراغ سب سے زیادہ روشن نہیں تھا…
مگر سب سے زیادہ کارآمد تھا۔
اسی دن شہر کے بزرگ نے ایک جملہ کہا جو پتھر پر کندہ کر دیا گیا:
“وہ روشنی جو صرف اپنی حفاظت کرتی رہے، آخرکار بجھ جاتی ہے۔ مگر جو دوسروں کا راستہ روشن کرے، وہ لوگوں کے دلوں میں جلتی رہتی ہے۔”
سبق:
زندگی کی اصل کامیابی سب سے نمایاں نظر آنے میں نہیں، بلکہ کسی کی زندگی میں روشنی بن جانے میں ہے۔ دنیا تالیاں بجانے والوں کو جلد بھول جاتی ہے، مگر راستہ دکھانے والوں کو وقت بھی نہیں مٹا سکتا۔
