ایک دن ایک سوداگر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور دو نہایت خوبصورت موتی پیش کیے۔ دونوں موتی سائز، رنگت اور چمک میں اس قدر یکساں تھے کہ انہیں دیکھ کر فرق کرنا ناممکن لگتا تھا۔
سوداگر نے کہا:
“عالی جاہ! ان دو موتیوں میں سے ایک اصلی ہے اور دوسرا نہایت مہارت سے بنایا گیا نقلی موتی۔ اگر آپ کے درباری اصل اور نقل کی پہچان کر لیں تو یہ دونوں موتی میں بطور تحفہ پیش کر دوں گا، لیکن اگر کوئی پہچان نہ سکا تو آپ کو ان کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔”
بادشاہ نے فوراً اپنے وزیروں، دانشوروں اور درباریوں کو بلایا۔ سب نے موتیوں کو غور سے دیکھا، الٹ پلٹ کر جانچا، مگر کوئی بھی یقین سے نہ بتا سکا کہ اصل کون سا ہے اور نقلی کون سا۔
دربار میں خاموشی چھا گئی۔ بادشاہ پریشان تھا کہ اگر کوئی جواب نہ دے سکا تو سلطنت کی عزت پر حرف آئے گا۔
اسی دوران دربار کے باہر بیٹھے ایک نابینا بزرگ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا:
“جہانپناہ! اگر اجازت ہو تو میں بھی اپنی قسمت آزما لوں۔”
دربار میں حیرت کی لہر دوڑ گئی۔ لوگ سوچنے لگے کہ جب دیکھنے والے عقل مند لوگ ناکام ہو گئے تو ایک نابینا شخص یہ معمہ کیسے حل کرے گا؟
بادشاہ نے اجازت دے دی۔
بزرگ نے دونوں موتی ہاتھ میں لیے، چند لمحوں کے لیے انہیں دھوپ میں رکھا، پھر مسکرا کر بولے:
“عالی جاہ! میرے دائیں ہاتھ والا موتی اصلی ہے اور بائیں ہاتھ والا نقلی۔”
سوداگر حیران رہ گیا۔ اس نے فوراً اعتراف کر لیا کہ بزرگ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔
بادشاہ نے خوش ہو کر پوچھا:
“بزرگوار! آپ تو دیکھ بھی نہیں سکتے، پھر آپ نے یہ راز کیسے جان لیا؟”
نابینا بزرگ مسکرائے اور بولے:
“جہانپناہ! میں نے دونوں موتیوں کو کچھ دیر دھوپ میں رکھا۔ نقلی موتی جلدی گرم ہو گیا، جبکہ اصلی موتی دیر تک ٹھنڈا رہا۔ بس اسی فرق نے مجھے سچائی بتا دی۔”
جس طرح اصلی موتی دھوپ میں بھی اپنی ٹھنڈک برقرار رکھتا ہے، اسی طرح اصل انسان مشکلات میں بھی اپنے کردار کی خوبصورتی قائم رکھتا ہے۔
