جب گناہ حد سے بڑھ جائیں تو بارش نہیں ہوتی۔

جب گناہ حد سے بڑھ جائیں تو بارش نہیں ہوتی۔

16 سالہ لڑکی کا ناجائزحمل گرانے والی دائی رحمتے نے کہا کہ
“جب  گناہ حد سے زیادہ بڑھ جائیں تو بارش نہیں ہوتی۔”
صبح تڑکے رشوت خور دروغہ نے ڈھیر پہ پڑا مُردہ بچہ دیکھا تو اس نے بھی یہی بات دہرائی۔ یہی الفاظ حاجی صاحب سے فارغ ہو کر بَرا میں پیسے اُڑستی وَیشیا نے کہے اور بالکل یہی کچھ ایک فتویٰ فروش نے بھی فرمایا جس کے نزدیک حَلالہ کرنا، قِسطوں پہ مال بیچنا،  سرکاری اداروں میں رشوت دینا اور نوکری کے دوران بینوولنٹ فنڈ بالکل جائز تھا۔ دودھ میں پانی ملاتا گوالہ، خَشخاش میں ریت اور مِرچوں میں برادہ ملاتا تاجر، زکوٰۃ و صدقات ادا نہ کرنے والا صاحب حیثیت، سرکاری راستوں کو کاٹ کر زمین میں شامل کرنے والا عام زمیندار اور عُشر ادا نہ کرنے والا ہر چھوٹا بڑا کسان ہی اپنے اپنے گناہ یاد کرکے احساس ندامت سے مرا جا رہا تھا۔

“اس دنیا میں انواع و اقسام کے معصوم و بے گناہ چرند پرند بھی موجود ہیں خدا انہیں تو انسانوں کے کالے کرتوتوں کی سزا نہیں دے سکتا۔”

اس دلیل سے قطع نظر بارش نہ ہونے کا سارا ملبہ انسانوں نے خود پہ لے لیا۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ گناہوں کا بوجھ بڑھ جانے سے بارش زمین پہ آنے سے کتراتی ہے۔۔۔۔ گاؤں و شہر کے باسی اپنے اپنے گناہوں سے تائب ہوۓ جا رہے تھے کہ ویدر اَپ ڈیٹ نے بارش کی پیشنگوئی کی اور اگلی ہی صبح بارش نے جل تھل کر دیا۔ سوگوار چہروں پہ رونق اُبھری، کچھ دیر الحمدللہ کا وِرد لبوں پہ جاری رہا اور اس کے بعد۔۔۔۔۔ اس کے بعد فیس بک، اِنسٹا گرام اور واٹس اَیپ پہ بارش کے اسٹیٹس اپڈیٹ ہونے لگے۔ جذبات گرماتے اسٹیکرز کے سنگ مِس یو، کِس یو کے پیغامات اور ٹوٹوں کا تبادلہ شروع ہو گیا یہاں تک کہ 500 میں وائس کال کرنے والی اور 1000 میں ویڈیو پہ آنے والی کمبخت حسینہ نے ریٹ دو گنا کر دیا۔

سُہانے موسم میں گاہکی بڑھی تو پکوڑوں والے نے بیسن میں آٹا ملا کر مسالہ لمبا کیا، کباب والے نے کباب چھوٹا کر دیا اور نکڑ والے میڈیکل سٹور پہ طوطے کی ناک والے موٹے انکل نے لوکل “غُبارے” امپورٹڈ کہہ کر تَرسے ہوۓ جوانوں کو بیچنے شروع کر دئیے۔

“بارش بہت زیادہ ہے، گھر پہنچنے میں تاخیر ہو جاۓ گی۔”

گھر سے باہر کام کاج کو گئے دیگر بہت سے لوگوں کی طرح  محبوب کو خدا سمجھتی کچھ کم سِن لڑکیوں نے بھی یہ پیام گھر بھیج دیا (اس بات سے بے خبر کل انہیں بھی دائی رحمتے سے رجوع کرنا ہوگا۔)

بارش برس رہی ہے، بہت سے لوگ مطمئن ہیں، یقیناً آج شہر میں وہ گناہ نہیں ہوۓ جو پہلے ہوتے آ رہے تھے۔

Leave a Reply

NZ's Corner