حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھ زندگی میں چار واقعات ایسے ملے جنہوں نے مجھے بہت حیران کیا۔
لوگوں نے پوچھا: وہ کون سے واقعات ہیں؟
فرمانے لگے:
ایک مرتبہ ایک نوجوان کے ہاتھ میں چراغ تھا۔
میں نے اس نوجوان سے سوال کیا: بتاؤ یہ روشنی کہاں سے آئی؟
جیسے ہی میں نے یہ پوچھا کہ یہ روشنی کہاں سے آئی، اس نے فوراً چراغ پر پھونک ماری اور چراغ بجھا دیا اور کہنے لگا:
حضرت! جہاں چلی گئی، وہیں سے آئی تھی۔
فرماتے ہیں کہ میں اس نوجوان کی حاضر دماغی پر آج تک حیران ہوں۔
ایک مرتبہ دس بارہ سال کی ایک بچی آ رہی تھی۔ اس کی بات نے بھی مجھے حیران کر دیا۔
بارش ہوئی تھی۔ میں مسجد جا رہا تھا اور وہ بازار سے کوئی چیز لے کر آ رہی تھی۔
جب وہ میرے قریب آئی تو میں نے کہا:
بچی! ذرا سنبھل کر قدم اٹھانا، کہیں پھسل نہ جانا۔
اس نے جواب دیا:
حضرت! اگر میں پھسل گئی تو مجھے نقصان ہوگا، لیکن آپ ذرا سنبھل کر قدم اٹھائیے۔ اگر آپ پھسل گئے تو پھر قوم کا کیا بنے گا؟
فرماتے ہیں کہ اس بچی کی بات مجھے آج تک یاد ہے۔
اس نے کہا تھا: آپ سنبھل کر قدم اٹھانا، اگر آپ پھسل گئے تو قوم کا کیا بنے گا۔
ایک مرتبہ میں نے ایک مخنث کو دیکھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ میں نے اسے پہچان لیا ہے تو اس نے مجھ سے کہا:
میرا راز نہ کھولنا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے رازوں پر پردہ ڈالیں گے۔
ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا۔ اس کے سامنے سے ایک عورت روتی ہوئی، کھلے چہرے اور کھلے سر کے ساتھ گزر گئی۔
جب اس آدمی نے نماز ختم کی تو وہ اس عورت پر سخت ناراض ہوا اور کہنے لگا:
تجھے شرم نہیں آئی؟ دھیان نہیں رہا؟ میں نماز پڑھ رہا تھا اور تو کھلے سر اور کھلے چہرے کے ساتھ میرے سامنے سے گزر گئی۔
اس عورت نے پہلے معافی مانگی، پھر کہا:
دیکھو! میرے میاں نے مجھے طلاق دے دی ہے اور میں اس وقت بہت غم زدہ تھی۔ مجھے یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں یا نہیں، اسی حالت میں آپ کے سامنے سے گزر گئی۔
مگر مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ میں اپنے شوہر کی محبت میں اتنی گرفتار تھی کہ مجھے گزرنے کا شعور بھی نہ رہا، اور تم اللہ کی محبت میں کیسے گرفتار ہو کہ پروردگار کے سامنے کھڑے ہو کر میرا چہرہ دیکھ رہے ہو؟
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کی بات مجھے آج تک یاد ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ آج ہماری نماز کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اگر ہم نیچے کی منزل پر نماز پڑھ رہے ہوں اور اوپر سے کوئی ہمارا نام لے لے تو ہمیں نماز کے دوران ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ہمیں پکارا گیا ہے۔
حالانکہ ہماری نماز کی توجہ کا حال یہ ہونا چاہیے تھا:
اللہ وہ دل دے جو تیرے عشق کا گھر ہو
دریائے رحمت کی تری اس پر نظر ہو
دل دے کہ تیرے عشق میں یہ حال ہو اس کا
محشر کا اگر شور ہو تو بھی خبر نہ ہو
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں
