بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

سستی نے اس کی جان لے لی: ایک ایسا آدمی جو امیر بن سکتا تھا، مگر محنت نہیں کرنا چاہتا تھا
بہت پرانی بات ہے، ایک آدمی اتنا سست تھا کہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کرتا تھا۔ اس کی بیوی اسے سارا دن فارغ دیکھ کر تنگ آ چکی تھی اور اسے کوستی رہتی:
“تم کب تک ایسے رہو گے؟ میں دن رات کام کرتی ہوں اور تم اپنی جگہ سے ہلتے تک نہیں۔ تم ہمیں تباہ کر دو گے!”
لیکن وہ آدمی سکون سے جواب دیتا:
“گھبراؤ مت، ایک دن ہم امیر ہو جائیں گے اور تمہیں کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”
بیوی نے پوچھا: “اگر تم صوفے سے اٹھتے بھی نہیں، تو ہم امیر کیسے ہوں گے؟”
اس نے کہا: “میں نے سنا ہے کہ پہاڑ کے اس پار ایک دانا بزرگ رہتے ہیں، جن کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ میں ان کے پاس جا کر پوچھوں گا۔”
اپنی سستی کے باوجود، وہ اگلے دن سفر پر نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک کمزور بھیڑیا ملا۔ بھیڑیے نے پوچھا: “تم کہاں جا رہے ہو؟”
آدمی نے جواب دیا: “میں ایک دانا بزرگ کے پاس جا رہا ہوں تاکہ پوچھ سکوں کہ میں امیر کیسے بنوں۔”
بھیڑیے نے کہا: “اگر تم وہاں جا رہے ہو، تو کیا تم ان سے پوچھ سکتے ہو کہ میں اتنا کمزور کیوں ہوں؟ میں چاہے جتنا بھی کھاؤں، میرا وزن نہیں بڑھتا۔”
آدمی نے کہا: “ٹھیک ہے۔”
آگے بڑھ کر وہ ایک سیب کے درخت کے پاس سے گزرا جس پر گلے سڑے پھل لگے تھے۔ درخت نے سرگوشی کی: “براہ کرم، اگر تم دانا بزرگ سے ملو، تو ان سے پوچھنا کہ میرے سیب اگتے ہی کیوں خراب ہو جاتے ہیں؟”
آدمی نے بغیر رکے کہا: “ٹھیک ہے۔”
کچھ دور آگے ایک جھیل کے کنارے، ایک مچھلی تڑپ رہی تھی۔ مچھلی نے کمزوری سے کہا: “میری مدد کرو۔ میرے گلے میں کچھ پھنس گیا ہے۔ دانا بزرگ سے پوچھنا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔”
آدمی نے کہا: “ٹھیک ہے، مجھے خود بھی مشورہ چاہیے۔”
لمبے سفر کے بعد، وہ دانا بزرگ کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے پوچھا: “مجھے بتائیں کہ میں امیر کیسے بنوں؟ اور ہاں، میرے پاس کچھ اور سوالات بھی ہیں۔”
بزرگ نے اسے سنا اور جواب دیا:
“مچھلی کے گلے میں ایک قیمتی ہیرا پھنسا ہوا ہے۔ اگر کوئی اسے نکال دے تو وہ کھا سکے گی۔”
“سیب کے درخت کے نیچے خزانہ دفن ہے۔ اگر کوئی اسے کھود کر نکال لے، تو درخت ٹھیک ہو جائے گا۔”
“اور بھیڑیا…” بزرگ نے بات جاری رکھی، “…اسے چاہیے کہ وہ اپنے راستے میں ملنے والے پہلے سست آدمی کو کھا لے۔”
آدمی نے فوراً پوچھا: “اور میرا کیا ہوگا؟ میں امیر کیسے بنوں؟”
بزرگ نے کہا: “بس جس راستے سے آئے ہو، اسی راستے واپس چلے جاؤ۔”
یہ سن کر کہ واپسی کے لیے کسی محنت کی ضرورت نہیں، وہ خوشی خوشی واپس مڑ گیا۔
سب سے پہلے وہ جھیل کے پاس پہنچا۔ مچھلی نے التجا کی: “براہ کرم یہ پتھر نکال دو! یہ ایک قیمتی ہیرا ہے، تم اسے رکھ سکتے ہو!”
اس نے جواب دیا: “ٹھنڈے پانی میں کودوں؟ جی نہیں، شکریہ۔ بزرگ نے مجھے صرف واپس جانے کا کہا ہے۔”
پھر وہ سیب کے درخت کے پاس پہنچا۔ درخت نے کہا: “براہ کرم خزانہ کھود کر نکال لو! تم امیر ہو جاؤ گے!”
اس نے آہ بھری: “کھودنا؟ یہ بہت تھکا دینے والا کام ہے۔”
آخر میں وہ اس کمزور بھیڑیے کے پاس پہنچا۔ بھیڑیے نے پوچھا: “تو، بزرگ نے میرے بارے میں کیا کہا؟”
اس نے جواب دیا: “انہوں نے کہا ہے کہ تم اپنے راستے میں ملنے والے پہلے سست آدمی کو کھا لو۔”
بھیڑیا بولا: “بہترین!”
اور… بھیڑیے نے اسے کھا لیا۔
نتیجہ:
سستی صرف آپ کے مواقع نہیں چھینتی، بلکہ اگر آپ ہوشیار نہ ہوں تو یہ آپ کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔ اس آدمی کے پاس امیر بننے کے تمام مواقع تھے، لیکن وہ نہ گیلا ہونا چاہتا تھا، نہ کچھ کھودنا چاہتا تھا، اور نہ ہی کسی کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کوئی محنت نہیں کی، اور اسی لیے اس نے نہ صرف خزانہ کھو دیا، بلکہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔
یاد رکھیں: کامیابی قسمت سے نہیں ملتی، یہ محنت، مستقل مزاجی اور آگے بڑھنے کے عزم سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کچھ بوتے نہیں، وہ کبھی کاٹتے بھی نہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner