اکبر کا نیا وزیر اپنی غلطی کو سمجھ گیا اور بیربل کو اُس کی جگہ پر واپس مقرر کرنے کے لئے استعفیٰ دے دیا
اکبر کے دور میں بیربل کی حکمت و دانائی سے سب واقف تھے۔دربار میں بہت سے وزیر بیربل سے حسد کرتے تھے، حتیٰ کہ اکبر کا ایک سالا بھی ان میں شامل تھا۔اس نے اکبر سے درخواست کی کہ بیربل کو اس کی وزارت سے ہٹا کر اس کی جگہ پر مقرر کیا جائے۔بیربل کو کسی طرح اس بات کی خبر ہو گئی۔
اس سے پہلے کہ اکبر کوئی فیصلہ کرتا، بیربل نے خود ہی اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔اکبر نے اپنے نئے وزیر کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ اس نے اسے بلایا اور اسے تین سو سِکّے دے کر کہا کہ ان سِکّوں کو اس طرح خرچ کرو کہ سو سِکّے مجھے اِسی زندگی میں مل جائیں، سو سِکّے دوسرے جہان میں ملیں، اور سو سکِےّ نہ یہاں نہ اگلے جہان میں۔
اکبر کے سوالات سن کر نیا وزیر سخت پریشان ہوا۔
اُسے کوئی حل سُجھائی نہیں دے رہا تھا۔اُس نے آنکھوں میں رات کاٹی۔اُسے مایوس دیکھ کر اس کی بیوی نے اُسے بیربل کے پاس جانے کا مشورہ دیا۔چنانچہ بادلِ ناخواستہ وہ مدد مانگنے کے لئے بیربل کے پاس چلا گیا۔
بیربل نے اُس کی پریشانی بھانپتے ہوئے کہا کہ تم سِکّے مجھے دے دو، باقی کام میں سنبھال لوں گا۔اگلے دن بیربل وہ سِکّے لے کر نکلا۔راستے میں اُس نے دیکھا کہ ایک امیر سوداگر اپنے بیٹے کی شادی کا جشن منا رہا ہے۔
بیربل اُس کے پاس گیا اور اُسے سونے کے ایک سو سِکّے دیتے ہوئے ادب سے جھک کر کہا، شہنشاہ اکبر نے آپ کے بیٹے کی شادی کے لئے آپ کو اپنی نیک تمنائیں اور دعائیں بھیجی ہیں۔آپ شہنشاہ کی طرف سے بھیجا گیا تحفہ قبول فرمائیں۔سوداگر شہنشاہ کی طرف سے تحفہ پا کر خوشی سے پھولے نہیں سمایا۔اس نے بیربل کی خوب عزّت افزائی کی اور جواباً شہنشاہ کے لئے بہت سے قیمتی تحفے بھیجے۔
پھر بیربل غریب لوگوں کی بستی میں گیا۔اس نے سو سِکّوں سے کپڑے اور کھانا خریدا اور شہنشاہ کے نام پر غریبوں میں تقسیم کیا۔اب ایک سو سِکّے باقی بچے تھے۔بیربل نے یہ سِکّے رقص و موسیقی کی ایک محفل پر خرچ کر دیئے۔اگلے دن بیربل اکبر کے دربار میں داخل ہوا۔اُس نے حسبِ روایت بادشاہ کو آداب بجا لانے کے بعد کہا:”اگر اجازت ہو تو آپ کو سونے کے تین سو سِکّوں کی کہانی سناوٴں؟ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا کہ بیربل سونے کے سِکّے تم تک کیسے پہنچ گئے، یہ تو میں نے اپنے نئے وزیر اور ملکہ کے بھائی کو دیئے تھیں؟“
بیربل نے آداب بجا لاتے ہوئے کہا، ”حضور وہ یہ تین تھیلیاں میرے حوالے کر گئے تھے کہ انہیں اس طرح استعمال میں لاوٴں کہ جس سے بادشاہ کو ان کے تینوں سوالوں کا مناسب جواب مل جائیں۔
“
پھر بیربل بتانے لگا کہ میں نے سوداگر کو اس کے بیٹے کی شادی کے لئے جو رقم دی تھی وہ آپ کو اسی جہان میں واپس مل گئی ہے، جو رقم میں نے غریبوں کے کھانے اور کپڑے خریدنے پر خرچ کی ہے، اس کا بدلہ آپ کو دوسرے جہان میں ملے گا، اور جو پیسے میں نے رقص و موسیقی کی محفل پر خرچ کیے۔وہ رقم آپ کو نہ یہاں ملے گی نہ دوسرے جہان میں۔یہ سن کر اکبر کا نیا وزیر اپنی غلطی کو سمجھ گیا اور بیربل کو اُس کی جگہ پر واپس مقرر کرنے کے لئے استعفیٰ دے دیا۔
