🤣😂 شیخ چلی اور جادوئی کنواں 😂🤣

🤣😂 شیخ چلی اور جادوئی کنواں 😂🤣

ایک دور کی بات ہے، شیخ چلی ایک دن گاؤں کے باہر سیر کر رہے تھے کہ انہیں ایک بہت پرانا کنواں دکھائی دیا۔ کنویں کے اردگرد بڑے بڑے درخت تھے، بیلیں لٹک رہی تھیں اور ماحول اتنا پراسرار تھا کہ لوگ اس کے قریب آنے سے بھی گھبراتے تھے۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک جادوئی کنواں ہے، جو ہر خواہش پوری کرتا ہے، لیکن صرف اسی شخص کی جس کا دل صاف ہو۔ یہ سنتے ہی شیخ چلی کی آنکھیں چمک اٹھیں اور انہوں نے سوچا، “بس! آج تو میری قسمت بدلنے والی ہے۔”

وہ فوراً کنویں کے کنارے پہنچے، دونوں ہاتھ جوڑ کر آنکھیں بند کیں اور بولے، “اے جادوئی کنویں! مجھے سونے کے ہزار صندوق، ایک شاندار محل، سو گھوڑے اور پچاس نوکر دے دے!”

اتنے میں کنویں کے اندر سے ایک زور دار آواز آئی، “پہلے ایک پتھر نیچے پھینکو، پھر اپنی خواہش مانگو!” شیخ چلی نے فوراً ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور پوری طاقت سے کنویں میں پھینک دیا۔ چند لمحے بعد “چھپاک!” کی آواز آئی۔ شیخ چلی خوشی سے اچھلنے لگے کہ اب خزانہ باہر آئے گا، مگر کافی دیر گزر گئی اور کچھ بھی نہ ہوا۔

شیخ چلی نے سوچا شاید کنواں چھوٹا پتھر مانگ رہا ہوگا۔ اس بار انہوں نے ایک چھوٹا کنکر پھینکا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ لیکن نتیجہ وہی نکلا۔ اچانک انہوں نے غصے میں کہا، “لگتا ہے یہ کنواں بھی میری طرح سست ہے!” ان کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ اوپر درخت پر بیٹھا ایک بندر زور زور سے چیخنے لگا، جیسے ان کی بات پر ہنس رہا ہو۔

شیخ چلی کو لگا شاید بندر ہی جادو کا رکھوالا ہے۔ وہ فوراً درخت پر چڑھنے لگے تاکہ بندر کو پکڑ کر خزانے کا راز پوچھیں۔ لیکن جیسے ہی وہ آدھے راستے پہنچے، ٹہنی ٹوٹ گئی اور وہ سیدھے نیچے نرم گھاس پر آ گرے۔ خوش قسمتی سے انہیں زیادہ چوٹ نہ لگی، مگر ان کی پگڑی دور جا گری اور بندر اسے اٹھا کر سر پر رکھ کر بیٹھ گیا۔

یہ منظر دیکھ کر قریب سے گزرنے والے چرواہے ہنس ہنس کر دوہرے ہو گئے۔ انہوں نے شیخ چلی سے کہا، “یہ کوئی جادوئی کنواں نہیں، لوگ صرف بچوں کو ڈرانے کے لیے ایسی کہانیاں بناتے ہیں۔” شیخ چلی نے حیرت سے کنویں میں جھانکا تو اندر صرف صاف پانی تھا، کوئی خزانہ نہیں۔

پھر چرواہے نے ایک بالٹی نیچے ڈالی، ٹھنڈا پانی نکالا اور شیخ چلی کو پینے کے لیے دیا۔ پانی اتنا میٹھا اور ٹھنڈا تھا کہ شیخ چلی نے لمبی سانس لے کر کہا، “ارے! اصل خزانہ تو یہ پانی ہے، جس سے سب کی پیاس بجھتی ہے۔”

واپسی کے راستے میں شیخ چلی سوچتے رہے کہ اگر وہ شروع ہی میں محنت کرتے اور کسی کام کی تلاش میں نکلتے تو شاید اتنا وقت ضائع نہ ہوتا۔ انہوں نے دل میں عہد کیا کہ آئندہ بغیر سوچے سمجھے کسی افواہ پر یقین نہیں کریں گے۔

جب وہ گاؤں پہنچے تو سب نے پوچھا، “شیخ جی! خزانہ ملا؟” شیخ چلی نے ہنستے ہوئے جواب دیا، “ہاں ملا… لیکن سونے کا نہیں، عقل کا!” یہ سن کر پورا گاؤں قہقہوں سے گونج اٹھا اور خود شیخ چلی بھی اپنی بات پر ہنسنے لگے۔

اس دن کے بعد جب بھی کوئی شخص آسانی سے امیر بننے کے خواب دیکھتا، شیخ چلی مسکرا کر کہتے، “پہلے کنویں میں جھانک لو، کہیں وہاں صرف تمہارا اپنا عکس ہی نہ ہو!” لوگ ان کی بات سن کر ہنستے بھی تھے اور اس میں چھپا سبق بھی سمجھ جاتے تھے۔

**سبق:** بغیر محنت کے دولت حاصل کرنے کی خواہش اکثر انسان کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے، جبکہ اصل خزانہ عقل، محنت اور قناعت ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner