ایک شخص گھوڑے پر سوار کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اسے ایک آدمی ملا جس نے پوچھا: ’’ان بوریوں میں کیا بھرا ہوا ہے؟‘‘
سوار نے جواب دیا: ’’ایک بوری میں گندم ہے اور دوسری میں وزن برابر رکھنے کے لیے ریت بھری ہوئی ہے۔‘‘
اس شخص نے کہا: ’’اگر آپ گندم دونوں بوریوں میں تقسیم کرکے برابر وزن لادتے تو نہ گھوڑے پر غیر ضروری بوجھ پڑتا اور نہ آپ کو اتنی اضافی محنت کرنا پڑتی۔‘‘
سوار نے جواب دیا: ’’واقعی، آپ نے بہت اچھی تدبیر بتائی ہے۔ لیکن یہ بتائیے کہ اتنی عقل و دانش رکھنے کے باوجود آپ پیدل کیوں جا رہے ہیں؟‘‘
اس شخص نے کہا: ’’یہ تو اپنی اپنی قسمت ہے۔‘‘
سوار بولا: ’’ایسی عقل اپنے پاس ہی رکھیے، کہیں اس کا سایہ مجھ پر نہ پڑ جائے۔ مجھے میری بے وقوفی ہی مبارک، جس نے مجھے گھوڑے پر سوار کر رکھا ہے۔‘‘
اس واقعے سے ایک بات تو واضح ہوتی ہے کہ خوش قسمتی کا عقل مندی سے لازمی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر ہمارے سیاست دان اپنی عارضی کامیابی اور خوش بختی کو اپنی ذہانت کا کمال سمجھنے لگتے ہیں اور عوام کو کم عقل قرار دیتے ہیں۔
جہاں تک عوام کی کم عقلی کا تعلق ہے، تو یہ بات کسی حد تک درست بھی دکھائی دیتی ہے۔ اگر عوام واقعی باشعور ہوتے تو کرپشن کے شہنشاہوں، چوروں اور لٹیروں کو بار بار ووٹ دے کر اقتدار میں نہ لاتے۔
حدیثِ نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام بار بار ڈسے جانے کے باوجود ایک مرتبہ پھر انہی آزمودہ چہروں کو منتخب کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق کیوں نہیں سیکھتے؟ کیا ہماری سیاسی وابستگیاں قومی مفاد، عقل و شعور اور اجتماعی مستقبل سے بھی زیادہ اہم ہو چکی ہیں؟
آئیے! اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے ووٹ کا درست استعمال کرنے اور بدعنوانی، نااہلی اور عوام دشمن طرزِ سیاست کو مسترد کرنے کا عہد کریں۔ اگر ہمارے ضمیر اب بھی سیاسی وابستگیوں اور مفاد پرستی کی نیند سوتے رہے تو نہ صرف ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی بلکہ آخرت میں بھی ہمیں جواب دہ ہونا پڑے گا کہ ہم نے ظالموں، بدعنوانوں اور عوام کا استحصال کرنے والوں کو اقتدار میں لانے میں اپنا کردار کیوں ادا کیا؟
خدارا! اپنی جھوٹی اناؤں کے خول سے باہر نکلیں، ذہنی غلامی کے لبادے اتار پھینکیں اور عقل و شعور کی آنکھیں کھلی رکھ کر اچھے اور برے میں تمیز کریں۔ ووٹ کسی شخصیت، خاندان یا جماعت کی اندھی حمایت کا نام نہیں بلکہ ایک قومی امانت ہے۔ اسے دیانت داری اور شعور کے ساتھ استعمال کریں۔
اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستانی عوام کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!


