دماغ کی قیمت

دماغ کی قیمت

ایک بار بادشاہ نے ملا نصر الدین کو دربار میں بلایا اور اپنی ذہانت کا رعب جمانے کے لیے پوچھا
“ملا! یہ بتاؤ کہ دنیا میں انسان کے دماغ کی کیا قیمت ہوگی؟”
ملا نے کچھ دیر سوچا اور بولے: “عالی جاہ! ہر انسان کے دماغ کی قیمت اس کی عقل کے حساب سے الگ ہوتی ہے۔ مثلاً، میرے دماغ کی قیمت ایک ہزار اشرفی ہے۔”
بادشاہ مسکرایا اور اپنے وزیر کی طرف اشارہ کر کے پوچھا: “اور ہمارے وزیر کے دماغ کی کیا قیمت ہوگی؟”
ملا بولے: “صرف پانچ سو اشرفی۔”
بادشاہ کو بڑا مزہ آیا۔ اس نے اپنا سینہ چوڑا کیا اور فخر سے پوچھا: “اور یہ بتاؤ، ہمارے اپنے دماغ کی کیا قیمت ہوگی؟”
ملا نے بغیر کسی خوف کے جواب دیا: “صرف دو اشرفی!”
بادشاہ غصے سے لال پیلا ہو گیا اور چلایا: “کیا؟ تم نے ہمیں اتنا سستا سمجھا؟ دو اشرفی میں تو صرف ایک معمولی سا کپڑا ملتا ہے!”
ملا نصر الدین نے ہاتھ جوڑ کر بڑی معصومیت سے کہا: “عالی جاہ! میں نے یہ قیمت آپ کے سر پر بندھے ہوئے اس شاہی عمامے (پگڑی) کی ہی لگائی ہے، ورنہ اندر تو…”

Leave a Reply

NZ's Corner