کنویں کا مینڈک

کنویں کا مینڈک

کنویں کی گہری خاموشی میں ایک ننھے مینڈک کی آنکھ کھلی تو اس کے استقبال کے لیے گویا پوری دنیا منتظر تھی۔ اس کے ماں باپ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ برسوں کی دعاؤں، آرزوؤں اور منتوں کے بعد انہیں یہ اولاد نصیب ہوئی تھی۔ ان کے لیے وہ محض ایک بچہ نہیں، ان کی زندگی کا حاصل اور ان کی کائنات کا مرکز تھا۔
دونوں نے اسے اس قدر ناز و محبت سے پالا کہ اس کی ہر خواہش حکم اور ہر ضد ضرورت بن گئی۔ اس کے لیے خوراک کا انتظام ہوتا، آرام کا خیال رکھا جاتا اور ذرا سی آہٹ پر ماں کا دل دھڑکنے لگتا۔ مگر محبت کے اس حصار میں ایک خوف بھی پروان چڑھ رہا تھا؛ انہیں ڈر تھا کہ اگر ان کا لختِ جگر کبھی کنویں سے باہر نکل گیا تو شاید کسی خطرے کا شکار ہو جائے۔ دنیا کی وسعتیں انہیں دکھائی نہیں دیتی تھیں، البتہ ان کے اندیشے بہت وسیع تھے۔

چنانچہ انہوں نے اپنے بچے کے ذہن میں ایک ہی حقیقت بٹھا دی کہ یہی کنواں اس کی پوری کائنات ہے۔ اس کی بلند دیواروں سے آگے کچھ نہیں، ان دیواروں کے پار زندگی نہیں، اور اس چھوٹے سے پانی اور پتھروں کے جہان میں وہی سب سے زیادہ اہم، سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ باخبر ہے۔
ننھے مینڈک نے بھی یہی بات سچ مان لی۔ اس کی نگاہ جب کنویں کی گول دیواروں پر پڑتی تو اسے اپنی سلطنت کی سرحدیں دکھائی دیتیں۔ وہ پانی میں اچھلتا، پتھروں پر پھدکتا اور اپنے چھوٹے سے جہان میں خود کو سب سے بڑا سمجھتا۔ اس کے نزدیک علم کی انتہا بھی وہی تھی جو اس نے دیکھ رکھی تھی، اور کائنات کی وسعت بھی اتنی ہی تھی جتنی اس کی نگاہ کنویں کے اندر ناپ سکتی تھی۔

یوں بچپن گزرا، پھر جوانی آئی۔ عمر بڑھتی رہی، مگر اس کی دنیا نہ بڑھی۔ وہی دیواریں، وہی پانی، وہی پتھر اور وہی محدود آسمان۔ اس کے والدین بھی رفتہ رفتہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پہلے باپ نے آنکھیں بند کیں، پھر ماں بھی اپنے بچے کو تنہا چھوڑ کر چلی گئی۔ اب وہ خود عمر رسیدہ ہو چکا تھا۔ جسم میں پہلے جیسی پھرتی نہ رہی تھی، مگر اپنی کائنات کے بارے میں اس کا یقین آج بھی اتنا ہی مضبوط تھا۔
وہ اکثر کنویں کے کنارے بیٹھ کر پانی میں اپنا عکس دیکھتا اور اپنے جہان پر ناز کرتا۔ اسے کبھی خیال نہ آیا کہ جس دنیا کو وہ مکمل سمجھتا ہے، شاید وہ کسی بہت بڑی دنیا کا ایک معمولی سا گوشہ بھی نہ ہو۔

پھر ایک دن قدرت نے اس کے لیے ایک ایسا دروازہ کھول دیا جس کا تصور بھی اس کے ذہن میں نہ تھا۔
ایک مسافر پانی کی تلاش میں وہاں آن پہنچا۔ اس نے کنویں میں ڈول ڈالا تو پانی کے ساتھ بوڑھا مینڈک بھی اس میں جا گرا۔ ڈول جب آہستہ آہستہ اوپر کھینچا جانے لگا تو مینڈک گھبرا گیا۔ اس نے اپنے گرد دیکھا، مگر اب اس کے سامنے کنویں کی مانوس دیواریں نہیں تھیں۔ وہ ایک ایسی جگہ پہنچ چکا تھا جہاں اس کا کوئی اختیار نہ تھا، نہ کوئی پہچان، نہ کوئی مانوس گوشہ۔

ڈول کنویں کے دہانے تک پہنچا تو مینڈک نے پوری قوت سے چھلانگ لگائی اور باہر زمین پر جا گرا۔
اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسی وسعت پھیلی جس نے اس کے سارے یقین کو ہلا کر رکھ دیا۔ اوپر کھلا آسمان تھا، دور تک پھیلی زمین، بلند درخت، بہتے پانی کی ندیاں، دور کھڑے پہاڑ اور بے شمار مخلوقات۔ اس نے جس طرف دیکھا، ایک نیا منظر اس کے سامنے کھلتا چلا گیا۔ اسے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ افق کے پار بھی افق ہوتے ہیں، راستوں کے آگے بھی راستے نکلتے ہیں اور دنیا کسی ایک دیوار پر ختم نہیں ہوتی۔
وہ حیرت سے کبھی درختوں کو دیکھتا، کبھی پہاڑوں کو اور کبھی بہتے پانی کو۔ اس کی نگاہ جہاں تک پہنچتی، وسعت ہی وسعت دکھائی دیتی۔ اس کے چھوٹے سے کنویں کی دنیا اس عظیم کائنات کے سامنے ایک معمولی سا قطرہ معلوم ہونے لگی۔

اس کے دل میں ایک خیال بار بار سر اٹھانے لگا: کیا میرے والدین نے مجھے سچ بتایا تھا؟ کیا واقعی یہی کنواں پوری دنیا تھا؟ اگر یہی حقیقت تھی تو پھر یہ پہاڑ، یہ ندیاں، یہ درخت اور یہ بے شمار مخلوقات کہاں سے آ گئیں؟
اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ اس کے والدین نے اسے جس دنیا کا مالک سمجھایا تھا، وہ دراصل اس کی لاعلمی کی حد تھی۔ وہ اپنی محدود نگاہ کو کائنات کی آخری سرحد سمجھ بیٹھا تھا۔
مگر اب عمر کا بڑا حصہ گزر چکا تھا۔ وہ جوانی میں اس کنویں سے نکلتا تو شاید اس وسیع دنیا کے راستے تلاش کرتا، نئے مناظر دیکھتا، نئے تجربات حاصل کرتا اور اپنی زندگی کو کسی نئے مقصد سے آشنا کرتا۔ مگر جس عمر میں اسے حقیقت کا ادراک ہوا، اس وقت اس کے قدم تھک چکے تھے۔
اس دن اسے معلوم ہوا کہ کبھی کبھی ہماری سب سے بڑی محرومی یہ نہیں ہوتی کہ  ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ آپ کی نگاہ کا دائرہ بہت چھوٹا ہے۔

حاصل سبق:
ہم میں سے بہت سے لوگ بھی اسی کنویں کے مینڈک کی طرح اپنی ذات کے محدود حصار میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے علم پر ناز ہوتا ہے، اپنی قابلیت پر غرور اور اپنے تجربات پر اس قدر بھروسا کہ دوسروں کی بات سننے، نئے خیالات قبول کرنے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں، وہی مکمل حقیقت ہے؛ جو راستہ ہم نے دیکھ لیا، وہی منزل تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے، اور جو کچھ ہماری نگاہ میں نہیں، شاید دنیا میں اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔

یہی ’’میں، میں اور صرف میں‘‘ کا حصار انسان کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی دیوار بن جاتا ہے۔ وہ دوسروں سے سیکھنے کے بجائے انہیں کم تر سمجھنے لگتا ہے، سوال کرنے کے بجائے اپنے علم کا اعلان کرتا ہے، اور آگے بڑھنے کے بجائے اپنی ہی محدود دنیا میں خود کو سب سے بڑا سمجھ کر مطمئن ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیے، علم کی پہلی سیڑھی یہ نہیں کہ انسان خود کو سب سے زیادہ جاننے والا سمجھے، بلکہ یہ احساس ہے کہ ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ جو شخص اپنی ذات سے باہر نہیں نکلتا، وہ دنیا کی وسعتوں سے کیسے آشنا ہو سکتا ہے؟ جو دوسروں کے تجربات سے سیکھنے پر آمادہ نہیں، وہ اپنی غلطیوں سے آگے کیسے بڑھے گا؟
دنیا ہماری نگاہ سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ہماری آنکھیں تھک سکتی ہیں، ہماری عمر تمام ہو سکتی ہے، مگر اس کائنات کے اسرار اور امکانات ختم نہیں ہوتے۔
اس لیے اپنے ذہن کو کسی کنویں کی دیواروں میں قید نہ کیجیے۔ اپنی ذات کے حصار سے باہر نکلیے، دوسروں کو سنیے، سوال کیجیے، سیکھیے اور اپنی سوچ کو وسعت دیجیے۔ کیونکہ جو شخص ساری عمر اپنے ہی محدود جہان کو مکمل کائنات سمجھتا رہے، وہ کبھی اس وسیع دنیا کا مسافر نہیں بن سکتا۔

Leave a Reply

NZ's Corner