بارات کی عجیب شرط

بارات کی عجیب شرط

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی شادی ساتھ والے گاؤں میں طے پائی کہ فلاں دن دولہا بارات لے کر آئے اور اپنی دلہن لے جائے، لیکن ساتھ میں لڑکی والوں نے ایک شرط بھی رکھ دی کہ دولہا اپنے ساتھ جو بارات لائے گا اس میں ایک سو نوجوان ہونے چاہیں اور کوئی بھی بوڑھا شامل نہیں ہونا چاہیے …

میرے پیارو! یہ عجیب شرط سن کر دولہے والے بڑے حیران ہوئے، پر پھر بھی شرط منظور کر لی۔ لیکن دل ہی دل میں وہ پریشان بھی تھے کہ آخر ایسا کیا ماجرا ہے اور کیوں بوڑھوں کو ساتھ لانے سے منع کیا گیا ہے۔ دولہےکے گاؤں کے نوجوان خوش تھے کہ اس بارات میں کوئی بڑا بوڑھا نہیں جائے گا اور وہ مزے لوٹتے اور ہنستے کھیلتے بارات لے کر جائیں گئے۔ دوسری جانب گاؤں کے بڑے دانا بوڑھے پریشان ہو رہے تھے کہ آیا انہیں کیوں روکا گیا ہے …

خیر قارئین کرام، بارات کے جانے کا دن آن پہنچا۔ دولہے کا سہرا باندھا گیا، جب بارات دوسرے گاؤں روانگی کے لیے تیار تھی تو اسی لمحے گاؤں کےبزرگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بارات کے ساتھ ایک بوڑھا تھوڑے فاصلہ رکھ کر جائے گا اور سارے معاملات پر نظر رکھے گا۔ نوجوانوں کو یہ بات بُری لگی انہوں نے کہا کہ :
” ہم ایک سو نوجوان ہیں، ہم ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہم اپنے بھائی کی دلہن لے کر لوٹیں گے چاہے جو مرضی ہو جائے … “

مگر بڑے بزرگ نہیں مانے اور ایک بوڑھے کو بارات سے فاصلہ رکھ کر چلنے کو کہا۔ بارات جب روانہ ہوئی تو راستے میں نوجوانوں نے دل میں بہت بُرا محسوس کیا کہ :
” ہم ایک سو نوجوان جو بہادر ہیں، طاقت رکھتے ہیں، توانا ہیں، بڑے بڑے پہاڑوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ایسے میں ایک بوڑھے شخص کا جو مشکل سے چل رہا ہے ، ہاتھ میں اس کے لاٹھی ہے، آنکھوں پر چشمہ لگایا ہوا ہے، کھانس کھانس کر اور بلغم تھوکتا ہوا ساتھ آ رہا ہے، اس کا کچھ فائدہ نہیں … “

خیر دوستو! دل میں بُرا بھلا کہتے ہوئے یہ نوجوان اپنے بھائی/دوست کی بارات لیے دوسرے گاؤں میں دلہن کے گھر پہنچ گئے۔ دلہن کے عزیز و اقارب نے جب باراتیوں کو گِننا شروع کیا تو وہ پورے ایک سو صحت مند و توانا اور جوشیلے نوجوان ان کے سامنے موجود تھے اور ان میں کوئی بھی بوڑھا موجود نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر وہ دل ہی دل میں مسکرائے اور کہا کہ :
” دولہا کا نکاح اب اس وقت ہی ہو گا جب دوسری شرط بھی پوری کی جائے گی اور دوسری شرط یہ ہے کہ جب ایک سو نوجوان ایک سو بکرے کھائیں گے تب ہی نکاح اور دلہن کی رخصتی ممکن ہوگی … “

شرط کے سنتے ہی نوجوانوں کے اوسان خطاء ہو گئے اور وہ پریشانی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے کہ اب_کیا_ہو_گا …؟ “

ان نوجوانوں میں سے ہی ایک نوجوان کو اچانک خیال آیا کہ بارات کے ساتھ ایک بوڑھا بھی کچھ فاصلہ رکھ کر ان کے پیچھے آ رہا تھا۔ وہ نوجوان مجمعے سے آنکھیں بچاتا اور چُھپتے چُھپاتے ہوئے باہر کو نکلا اور فاصلہ رکھ کر ساتھ آنے والے بزرگ کو ڈھونڈنے لگا، اس نوجوان کو وہ بُزرگ ایک درخت کی اوٹ میں آرام کرتے ہوئے ملے اور اس نے جلدی سے سارا واقعہ ان کے سامنے بیان کیا اور رہنمائی طلب کی۔ بوڑھے نے سارا واقعہ سنا اور کہا کہ :
” تم واپس جاؤ اور دلہن والوں کے سامنے اپنی شرط پیش کرو کہ بکرا ایک ایک کر کے ان کے سامنے لایا جائے اور جب ایک بکرا ان کے سامنے پہنچے تو سب نوجوان ایک دم ہی اس پر ٹوٹ پڑیں اور اکٹھے کھائیں … “

نوجوان بوڑھے شخص سے ہدایات لے کر واپس پہنچا اور اس نے وہی کِیا، جیسا کہ اسے ہدایت کی گئی تھی۔ یہ سارا منظر و ماجرا دیکھ کر دولہن والے پریشان ہوگئے اور دولہے والوں نے دلہن والوں کی یہ شرط پوری کر دی اور ایک سو بکرے کھا لیے، اور پھر نکاح کے بعد دلہن کو لے کر بارات ہنسی خوشی واپس آ گئی۔ نوجوانوں کو پھر احساس ہوا کہ کس طرح ایک بزرگ نے رہنمائی کر کے ان کی پریشانی کو راحت میں تبدیل کر دیا …

عزیز قارئین کرام! مندرجہ بالا سطور میں تمثیلاً ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے جو اس کم فہم فرحان کی ناقص معلومات کے مطابق صد فیصد درست ہے اور یہ علی گڑھ کالج کے نوجوانوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ بہرحال المختصر و مقصودِ تحریر منجانب حقیر فقیر یہ کہ نہایت معذرت کے ساتھ آج ہم اپنے بزرگوں کا وجود اپنے لیے غیر اہم سمجھتے ہیں۔ ان کی صُحبت میں وقت گزارنا ہم پر گِراں گزرتا ہے، چہ جائے کہ ہم ان کی نصیحت آموز باتوں کو اپنے لیے توشۂ زیست سمجھیں۔ سو کوشش کریں کہ اس واقعہ سے سبق حاصل کریں اور اپنی دنیا و آخرت کی آسانیاں سمیٹیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner