حضرت لوط علیہ السلام کی قومِ سدوم کی ہلاکت کا عبرت آموز واقعہ۔۔۔!

حضرت لوط علیہ السلام کی قومِ سدوم کی ہلاکت کا عبرت آموز واقعہ۔۔۔!


انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو صرف ایک قوم یا علاقے کی تباہی کا ذکر نہیں کرتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے دائمی سبق چھوڑتے ہیں۔ قومِ لوط کا قصہ اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ باب حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت، ان کی قوم کی سرکشی، فرشتوں کی آمد، عذابِ الٰہی کی کیفیت اور اس واقعے سے اخذ ہونے والے اسباق پر مبنی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل قرآنِ مجید کی مختلف سورتوں—اعراف، ہود، حجر، شعراء اور نمل—میں بکھری ہوئی ہے، جبکہ مفسرین اور محدثین نے اسے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔



نسب اور ابتدائی پس منظر

حضرت لوط علیہ السلام، خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ بچپن ہی سے آپ نے سیدنا ابراہیمؑ کی صحبت پائی اور ان کی دعوتِ توحید سے فیض حاصل کیا۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے بابل کو چھوڑا تو لوطؑ بھی ان کے ساتھ ہجرت کرگئے۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام کو قومِ سدوم و عمورہ کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ یہ قوم اردن اور فلسطین کی سرزمین میں آباد تھی۔



قومِ لوط کی اخلاقی تباہی

یہ قوم صرف عقیدہ میں بگڑی ہوئی نہ تھی بلکہ بداخلاقی اور بدعملی میں تمام اقوام سے بڑھ گئی تھی۔ قرآن ان کے گناہوں کو یوں بیان کرتا ہے:

مرد مرد کے ساتھ شرمناک فعل کرتے تھے۔

راستوں میں بیٹھ کر برائی پھیلانے والے کام کرتے تھے۔

اجنبیوں کو لوٹتے اور ان کی ناچیز چیزیں چھین لیتے تھے۔

بے حیائی کو فخر سمجھتے اور پاکیزگی اختیار کرنے والے لوگوں کا مذاق اڑاتے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ”
(الأعراف: 80)
تم ایسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی تھی۔

یہ برائی صرف عام لوگوں میں ہی نہیں بلکہ سردار اور معززین بھی اس فعل میں مبتلا تھے۔



حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت

حضرت لوط علیہ السلام نے سب سے پہلے انہیں توحید کی طرف بلایا اور شرک سے رکنے کا حکم دیا۔ پھر انہیں اخلاقی پاکیزگی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:

“بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ”
(النمل: 55)
“تم تو جہالت میں پڑے ہوئے لوگ ہو۔”

لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو بار بار سمجھایا:

اللہ سے ڈرو

بے حیائی چھوڑ دو

عورتوں سے نکاح کرو

زمین میں فساد نہ پھیلاؤ

مگر قوم نے ان کی نصیحت کو مذاق بنا لیا۔ ان کی قوم نے کہا:

“اخرجوا آل لوط من قريتكم إنهم أناس يتطهرون”
(النمل: 56)
“لوط اور اس کے گھر والوں کو بستی سے نکال دو، یہ پاک بننے والے لوگ ہیں۔”

یہ جملہ ان کی اخلاقی تباہی کی آخری حد کو ظاہر کرتا ہے۔



فرشتوں کی آمد اور قوم کی سرکشی

جب قوم لوط پر عذاب کا وقت قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے تین فرشتوں—حضرت جبریلؑ، میکائیلؑ اور اسرافیلؑ—کو نوجوان خوبصورت مہمانوں کی شکل میں پہلے حضرت ابراہیمؑ اور پھر لوطؑ کے پاس بھیجا۔

جب یہ فرشتے لوطؑ کے گھر پہنچے تو قوم کے فاسق لوگ ان کے گھروں کی خبر پا کر برائی کی نیت سے دوڑ پڑے۔ حضرت لوطؑ یہ منظر دیکھ کر سخت پریشان ہوئے اور قوم سے فرمایا:

“هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي لَكُمْ طَاهِرُونَ”
(ہود: 78)
“یہ میری بیٹیاں (یعنی تمہاری قوم کی عورتیں) تمہارے لیے بہتر اور پاکیزہ ہیں۔”

مگر قوم نے نہ سننی تھی نہ سنی، بلکہ مزید سرکشی میں بڑھ گئی۔

اسی لمحے فرشتوں نے کہا:

“يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوا إِلَيْكَ”
(ہود: 81)
“اے لوط! ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ لوگ تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔”

پھر حضرت جبریلؑ نے ایک ضرب سے ان کی آنکھیں اندھی کردیں اور وہ چیختے چلاتے بھاگ گئے۔



ہجرت کا حکم

فرشتوں نے فرمایا:

“فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ”
(ہود: 81)
“رات کے آخری حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ۔”

لیکن حضرت لوطؑ کی بیوی، جو دل سے قوم کی برائیوں کی طرف مائل تھی، عذاب میں شامل ہونے والی تھی۔ لہٰذا وہ نجات پانے والوں میں شامل نہ ہو سکی۔

حضرت لوطؑ ایمان والوں کو لے کر رات کے اندھیرے میں بستی سے نکل گئے۔



عذاب الٰہی کا نزول

جیسے ہی صبح کا وقت قریب آیا، اللہ کا عذاب قوم پر اتر پڑا۔

1. بستیوں کا الٹ دیا جانا

قرآن بیان کرتا ہے:

“فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا”
(الحجر: 74)
“ہم نے اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا اوپر کر دیا۔”

حضرت جبریلؑ نے اپنے پروں کی طاقت سے پوری بستی کو آسمان کی بلندی تک اٹھایا اور پھر ایک دھماکے کے ساتھ اُلٹ دیا۔

2. پتھروں کی بارش

اس کے بعد آسمان سے مخصوص نشان زدہ پتھر برسائے گئے:

“وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ”
(ہود: 82)

یہ پتھر ہر اُس شخص پر گرتے تھے جو اس گناہ میں شریک تھا۔

3. زمین کا بادل کی طرح ڈوب جانا

جہاں یہ بستی تھی وہاں آج بحرِ میّت (Dead Sea) موجود ہے، جو دنیا کا سب سے نیچا مقام ہے۔



حضرت لوط علیہ السلام کی ہجرت بعد عذاب

حضرت لوطؑ اپنے اہلِ ایمان کے ساتھ “زور” کے علاقے کی طرف ہجرت کر گئے۔ آپ اپنے رب کی عبادت اور دین کی دعوت میں باقی زندگی گزار کر وصال فرما گئے۔

Leave a Reply

NZ's Corner