شیر نے لومڑی سے کہا “میرے لیے کھانا لاؤ، ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا۔”
لومڑی نے چال چلی اور اس نے گدھے سے کہا “شیر تمہیں بادشاہ بنانا چاہتا ہے، آؤ میرے ساتھ چلو۔”
جب گدھا پہنچا تو شیر نے حملہ کر دیا اور گدھے کے کان کاٹ ڈالے تو گدھا بدک کر بھاگ نکلا۔
گدھے نے روتے ہوئے لومڑی سے کہا “تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے “
لومڑی بولی “بیوقوف مت بنو اس نے تو صرف تمہارے کان اس لیے کاٹے ہیں تاکہ وہ تمہارے سر پر تاج رکھ سکے۔”
گدھا واپس آ گیا اور شیر نے اس پے دوبارہ حملہ کیا اب کی بار اس کی دُم کاٹ ڈالی تو گدھا پھر کسی طرح سے بھاگ نکلا
اور لومڑی کو کہا تم نے پھر مجھ سے دھوکا کیا ہے
لومڑی نے کہا “پاگل، شیر نے تمہاری دم اس لیے کاٹی تاکہ تم تخت پر آرام سے بیٹھ سکو”
گدھے نے ایک بار پھر یقین کر لیا اور پھر سے شیر کے پاس جا پہنچا اس دفعہ شیر نے گدھے پے حملہ کر کے اسے جان سے مار ڈالا۔
لومڑی شیر کے لیے گدھے کے پھیپھڑے، جگر، اور دل لے کر آئی لیکن بھیجا (دماغ) نہ لے کر آئی
شیر نے پوچھا ” گدھے کا بھیجا کہاں ہے؟”
لومڑی نے جواب دیا “اگر اس کے پاس بھیجا ہوتا، تو وہ کان اور دُم کٹوانے کے بعد کبھی واپس نہ آتا۔”
آپ کے آس پاس بھی بہت سے لوگ لومڑی کی فطرت والے ہوتے ہیں جو آپ کو گدھا بنا کر آپ کو استعمال کرکے اپنی زندگی سنوارتے ہیں اس لیے کسی کی بھی چکنی چیڑی باتوں پر بھروسہ نہ کریں ہر وہ شخص جو آپ کو مشورہ دے رہا ہے ضروری نہیں کہ اس کی نیت بھی اچھی ہو۔
اس لیے سوال کرنا سیکھو ناکہ اندھا دھن کسی کی باتوں پے آنکھیں بند کر کے یقین کر لو اور لوگوں کی پہچان کرنا سیکھو کہ لومڑی کے جیسے اپنی جان بچانے کے چکر میں کوئی تمہاری زندگی کا سودا تو نہیں کر رہا ہے۔
کیونکہ آج کل حیوانوں اور انسانوں کی دنیا میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہ گیا بس چار اور دو ٹانگوں کا فرق باقی آ بچا ہے۔
انگریزی کہانی کا اردو ترجمہ۔
