پچھلی صدیوں کی داستانیں ہمیشہ انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، ان میں چھپی عبرتیں اور سبق ہمارے لیے آج بھی مشعل راہ ہیں۔ ایسی ہی ایک داستان، جو کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ بہت سے بھٹکے ہوئے انسانوں کی کہانی ہے، آج میں تمہیں سناتا ہوں۔ یہ کہانی ہے “کھوئے ہوئے باغ” کی، جس کے ارد گرد دنیا کی چکاچوند بکھری ہوئی تھی، مگر اس کا باسی اپنے خالق سے غافل تھا۔ **کھوئے ہوئے باغ کا راجہ** ایک زمانہ تھا جب دنیا کی ایک حسین وادی میں ایک ایسا شخص رہتا تھا جسے لوگ “راجہ” پکارتے تھے، اگرچہ وہ کسی سلطنت کا بادشاہ نہیں تھا، مگر اس کی دولت اور اسبابِ دنیا ایسے تھے کہ کوئی بادشاہ بھی اس پر رشک کرتا۔ اس کے پاس ہر وہ چیز تھی جو انسان کو دنیا میں کامیاب اور خوشحال نظر آنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ سونے کے ڈھیر، چاندی کے پہاڑ، ہیرے جواہرات کی چمک، عالیشان محلات، اور ہر قسم کی عیاشی کے سامان۔ اس کا باغ اتنا وسیع اور خوبصورت تھا کہ اس میں ہر قسم کے پھل، پھول اور درخت موجود تھے، جہاں خوشبوؤں کا راج تھا اور پرندوں کی چہچہاہٹ دل کو موہ لیتی تھی۔ **دنیا کی محبت میں گرفتار** مگر ان سب نعمتوں کے باوجود، راجہ کے دل میں ایک ایسی بیماری تھی جو اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی تھی۔ یہ بیماری تھی دنیا کی بے پناہ محبت، مال و دولت کی ہوس، اور عیاشی کی لت۔ اس نے اپنی زندگی کا مقصد صرف اور صرف دنیاوی لذتوں کے حصول کو بنا لیا تھا۔ اس کے لیے اللہ کی عبادت، آخرت کی فکر، اور انسانیت کی خدمت سب بے معنی ہو چکے تھے۔ جب بھی اذان کی آواز آتی، وہ اسے اپنے کانوں سے اڑا دیتا۔ جب بھی کسی غریب یا محتاج کو دیکھتا، اس کی آنکھیں پھر لیتا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ اپنی طاقت، اپنی دولت اور اپنی ذہانت سے ہر مشکل کو شکست دے سکتا ہے۔ اس نے اپنے ارد گرد ایسے خوشامدیوں اور مشیروں کا ایک ہجوم اکٹھا کر رکھا تھا جو ہر وقت اس کی تعریفیں کرتے، اسے دنیاوی لذتوں میں مزید مگن رہنے کی ترغیب دیتے۔ وہ اپنی راتیں رقص و سرود کی محفلوں میں گزارتا، اور دن کاروبار اور دولت جمع کرنے کی نئی تدبیروں میں۔ اسے وقت کا کوئی احساس نہیں تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ وقت کس تیزی سے پر لگا کر اڑ رہا ہے اور ہر گزرتا لمحہ اسے اس کی اصل منزل سے دور کر رہا ہے۔ **غفلت کی انتہا اور انتباہ** کئی بار اسے انتباہ بھی ملے، کبھی کسی نیک بزرگ کی شکل میں جو اسے خدا کی طرف بلاتا، کبھی کسی پریشانی کی صورت میں جو اسے اپنی بے بسی کا احساس دلاتا، مگر وہ ہر بار ان اشاروں کو نظر انداز کر دیتا۔ وہ کہتا، “ابھی تو میری عمر ہی کیا ہے، ابھی تو مجھے اور بہت کچھ حاصل کرنا ہے، جب بوڑھا ہو جاؤں گا تو سب کچھ چھوڑ کر عبادت کروں گا۔” یہ غفلت اسے مزید گہرے گڑھے میں دھکیلتی رہی۔ اس نے اپنے باغ کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت محل تعمیر کروایا تھا، جہاں اس کی تمام محبوب چیزیں موجود تھیں۔ وہیں وہ اپنی دنیاوی سلطنت کا مزہ لوٹتا تھا، مگر اس باغ میں ایک چھوٹی سی جگہ ایسی بھی تھی جہاں اس نے اپنے والدین کی قبریں بنوائی تھیں۔ کبھی کبھار جب وہ وہاں سے گزرتا تو اسے ایک لمحے کے لیے خیال آتا کہ ایک دن اسے بھی یہیں آنا ہے، مگر وہ خیال بھی دنیا کی رنگینیوں میں جلد ہی گم ہو جاتا۔ **موت کا فرشتہ اور حقیقت کا سامنا** ایک دن جب وہ اپنی محفل میں مگن تھا اور دنیا کے مزے لوٹ رہا تھا، اچانک اس پر ایک نقاہت طاری ہوئی، اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ اس کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، بہترین اطباء کو بلایا گیا، مگر وقت آ چکا تھا۔ روح پرواز کرنے لگی۔ اس لمحے راجہ کو اپنی زندگی کی اصل حقیقت کا سامنا ہوا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح پوری زندگی گھوم گئی۔ وہ تمام غفلتیں، وہ تمام دنیاوی محبتیں جو اس نے اللہ کی عبادت پر ترجیح دیں، وہ تمام عیاشیاں جن میں وہ اپنی آخرت کو بھول بیٹھا… سب کچھ ایک ایک کر کے یاد آنے لگا۔ اسے نظر آیا کہ اس کا سونے کا پہاڑ اس کے کام نہیں آ رہا، چاندی کے ڈھیر بے معنی ہیں، ہیرے جواہرات صرف پتھر کے ٹکڑے ہیں۔ اس کے نوکر، اس کے دوست، اس کے خوشامدی… سب بے بس کھڑے تھے، کوئی بھی اس کی جان نہیں بچا سکتا تھا۔ آخری سانس کے ساتھ، اس کی روح نے جسم سے پرواز کی۔ اسے اٹھا کر اسی باغ کی اس چھوٹی سی جگہ پر لے جایا گیا جہاں اس کے والدین کی قبریں تھیں۔ جب اسے قبر میں اتارا جا رہا تھا، اس وقت اسے اپنے تمام اعمال کی حقیقت نظر آ رہی تھی۔ وہ تنہائی، وہ تاریکی، وہ اندھیرا جس کا ذکر کبھی اس نے سنا تھا، آج اس کا اپنا مقدر بن چکا تھا۔ **قبر کی تنہائی اور پچھتاوا** قبر میں اترتے ہی، راجہ کو وہ حقیقت سمجھ آئی جو اس نے پوری زندگی نظر انداز کی۔ اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ نہ اس کی دولت، نہ اس کا خاندان، نہ اس کے دوست۔ صرف اس کے اعمال تھے، اچھے یا برے۔ اس وقت اسے وہ تمام نیکیوں کی کمی محسوس ہوئی جو اس نے دنیا میں نظر انداز کر دی تھیں۔ اسے ہر سجدے کی قدر معلوم ہوئی جو اس نے چھوڑا تھا، ہر تسبیح کی اہمیت یاد آئی جو اس نے فراموش کی تھی۔ تاریکی اتنی گہری تھی کہ راجہ کا دل ڈوبنے لگا۔ اس کے پورے بدن پر خوف اور حسرت طاری ہو گئی۔ ایک طرف وہ دنیا کی رنگینیاں تھیں جو اس نے دیکھی تھیں، اور دوسری طرف یہ قبر کی تنہائی اور سناٹا۔ اس نے پوری زندگی جس چیز کے پیچھے بھاگا، وہ سب کچھ وہیں رہ گیا، اور اس کے ساتھ صرف اس کی غفلت اور نیک اعمال کی کمی آئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ہی منظر تھا: ایک ویران قبر، جہاں اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور اوپر سے مٹی کی تہوں کے بیچ اسے اپنے گناہوں کا حساب دینا تھا۔ اسے پچھتاوا ہوا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس کی پکار سننے والا کوئی نہیں تھا۔ اس کی بے بسی اور لاچاری اس کا مقدر بن چکی تھی۔ یہ کہانی صرف ایک راجہ کی نہیں، یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو دنیا کی محبت میں گم ہو کر اپنے اصل مقصد کو بھلا دیتا ہے۔ یہ ایک سبق ہے کہ دنیا کی یہ تمام چیزیں عارضی ہیں، اصل کامیابی صرف آخرت کی کامیابی ہے۔ کاش! ہم اس قبر کی تاریکی میں جانے سے پہلے اپنی آنکھیں کھول لیں اور اپنے خالق کی طرف رجوع کر لیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
