بلاعنوان۔۔۔۔😃!

بلاعنوان۔۔۔۔😃!

قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون ایک دن ایک چھوٹی سی دکان میں داخل ہوئی۔ اس کی نظر فوراً دکان کے کاؤنٹر پر پڑی، جہاں ایک شخص بلی کو دودھ پلا رہا تھا۔ مگر دودھ سے زیادہ اس کی توجہ اُس پیالے نے کھینچ لی جس میں دودھ رکھا تھا۔ وہ فوراً پہچان گئی کہ یہ عام برتن نہیں بلکہ نہایت نایاب چینی کا قدیم پیالہ ہے، جس کی قیمت کم از کم تیس ہزار ڈالر ہو سکتی ہے۔
خاتون نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید دکاندار اس پیالے کی اصل قدر و قیمت سے بالکل ناواقف ہے۔ اس نے اپنی حیرت چھپاتے ہوئے بڑی چالاکی سے پوچھا:
“جناب، کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟”

دکاندار نے مسکرا کر جواب دیا:
“یہ تو میری پالتو بلی ہے، لیکن اگر آپ کو بہت پسند آ گئی ہے تو پچاس ڈالر میں لے جا سکتی ہیں۔”

خاتون نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پچاس ڈالر نکالے اور بلی خرید لی۔ جاتے ہوئے اس نے بے ساختہ سا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا:
“اب جبکہ بلی میری ہو گئی ہے، میرا خیال ہے یہ پیالہ بھی آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ اگر برا نہ مانیں تو یہ بھی مجھے دے دیجیے، میں اسی میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔”

دکاندار نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: “خاتون! یہ پیالہ میں نہیں بیچ سکتا، کیونکہ اسی پیالے کو دکھا کر میں اب تک تین سو بلیاں فروخت کر چکا ہوں۔”

منقول

اخلاقی سبق:
ظاہری چالاکی اور وقتی فائدے کی کوشش ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی۔ بعض اوقات جسے ہم ناسمجھی سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ دراصل گہری سمجھ بوجھ اور تجربے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ دوسروں کو کمتر یا بے خبر سمجھ کر فائدہ اٹھانے کی سوچ خود ہمارے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
دراصل ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں، جو خود کو بہت شاطر اور ہوشیار سمجھتے ہیں اور باقیوں کو یوں سمجھتے ہیں جیسے انہوں نے دنیا میں کچھ دیکھا ہی نہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Leave a Reply

NZ's Corner