“مجھے خبر ملی ہے کہ اُن ننگے بھوکے عربوں نے تجھے شکست دیدی اور تیرے بیٹے کو بھی مار ڈالا ہے؟”
دروان شہنشاہِ روم ہرقل کا خط پڑھ رہا تھا جو اسے حضرت خالد بن ولید ؓ سے شکست کھانے کے بعد موصول ہوا تھا۔
“اگر میں تیری ہمت اور طاقت کا عینی گواہ نہ ہوتا تو اسی وقت تیری گردن مارنے کا حکم دے دیتا۔”
یہ الفاظ پڑھ کر دروان کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ وہ شہنشاہِ روم کے غضب سے ڈر رہا تھا۔
“چلو خیر جو ہوا سو ہوا، اب آگے کا منصوبہ یہ ہے کہ میں ایک بہت بڑا لشکر اجنادین روانہ کر رہا ہوں، اس لشکر میں نوّے ہزار رومی جوان شامل ہیں، میں تجھے ان سب کا کمانڈر مقرر کرتا ہوں، تم ان کو لے کر دمشق کے باشندوں کی مدد کو پہنچو۔ اور ایسا کرنا کہ ان میں سے کچھ سپاہی فلس طین کی طرف بھیج دینا، وہاں جو عرب موجود ہیں یہ ان سے لڑیں، کچھ سپاہیوں کے دستے اس رستے پر تعینات کردینا جو دمشق اور فلس طین کو ملاتا ہے، تاکہ عربوں کے یہ دونوں گروہ اکٹھے نہ ہوسکیں۔ تمھاری طاقت اور بہادری دینِ مسیح اور عیسائی قوم کی بہتری کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔”
خط مکمل پڑھنے کے بعد دروان کو کچھ حوصلہ ہوا۔ وہ شکست کے بعد شہنشاہ سے کافی خوف زدہ تھا۔ چنانچہ اس نے اسی وقت اپنا سامانِ جنگ درست کیا اور بچے کچھے ساتھیوں کو لے کر اجنادین کی طرف روانہ ہوگیا۔
دروان جب اجنادین پہنچا تو دیکھا پورا علاقہ سپاہیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ بے پناہ ہجوم ہے۔ صلیبوں اور جنگی نشانات ہر طرف نظر آرہے ہیں۔
پھر ایک سپاہی نے سب کو شاہی فرمان پڑھ کر سنایا کہ شہنشاہ روم نے دوران کو تمام افواج کا سپہ سالار اعلیٰ مقرر کیا ہے۔ رومیوں نے اس فرمان کو سنا اور بخوشی قبول کرلیا۔ پھر دروان نے اعلان کیا کہ سب سپاہی ہتھیاروں کو تیز کرلیں اور ایک بڑی جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔ رومیوں نے ایسا ہی کیا جیسا کہ دروان کا حکم تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“حضرت! رومیوں کا ایک بہت بڑا لشکر اجنادین کی طرف روانہ ہوچکا ہے۔”
قاصد نے آکر خبر دی۔
“اندازاً کتنے سپاہی ہوں گے؟”
آپ نے پوچھا۔
“نوے ہزار۔”
قاصد نے بتایا۔
“سپہ سالار کون ہے؟”
آپ نے دریافت فرمایا۔
“وہی جسے آپ نے مار بھگایا تھا۔ یعنی دروان!”
قاصد نے کہا۔
حضرت خالد بن ولید ؓ کی خدمت میں عباد بن سعید حاضر تھے۔ ان کو بصرہ سے حضرت شرحبیل بن حسنہ ؓ نے قاصد بنا کر بھیجا تھا۔
جب انھوں نے آکر یہ اطلاع دی تو آپ فوراً گھوڑے پر سوار ہوئے اور حضرت امین الامۃ ؓ کے پاس بابِ جابیہ پہنچے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ حضرت امین الامۃ ؓ نے فرمایا:
“ابو سلیمان! (خالد بن ولید ؓ کی کنیت) ہمارے خاص خاص سپہ سالار مختلف محاذوں پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مثلاً شرحبیل بن حسنہ ؓ ، عمرو بن العاص ؓ، یزید بن ابی سفیان ؓ، معاذ بن جبل ؓ ، نعمان بن مغیرہ وغیرہ! اس لیے میرے نزدیک بہتر یہ ہے آپ ان سب کو خطوط لکھیں اور فوراً روانہ کریں۔ ان کو لکھیں کہ وہ اپنی افواج کو ساتھ لے کر جلد از جلد ہمارے پاس پہنچیں۔ ہم سب مل رومیوں کا مقابلہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائیں گے۔”
چنانچہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے عمرو بن العاص ؓ کو خط لکھا کہ:
“تمھارے مسلمان بھائیوں نے اجنادین کی طرف جانے کا ارادہ کرلیا ہے، کیوں کہ دشمنانِ اسلام نے وہاں پر نوّے ہزار کا لشکر جمع کردیا ہے اور ان کا ارادہ ہے کہ خدا کے دین کو ختم کردیں۔ اسلام کو مٹا دیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کرنا ہے۔ خواہ دین دشمنوں کو کتنا ہی برا لگے۔ جیسے ہی یہ خط تمھیں ملے تم فوراً اپنا لشکر لے کر اجنادین کی طرف چل پڑو، ہم ان شاء اللّٰه وہیں آپ کو ملیں گے۔ والسلام علیک”
اسی طرح کے مزید خطوط لکھ کر آپ نے دوسرے اسلامی سپہ سالاروں کے پاس بھی روانہ کر دیے۔ پھر آپ نے تمام لشکر جو باب شرقی اور باب جابیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھا، کوچ کی تیاری کا حکم دے دیا۔
چنانچہ لوگوں نے جلد از جلد اپنا سامان باندھا، خیمے گھوڑوں اور اونٹوں پر لادے، مالِ غنیمت اور جانوروں کو سمیٹا اور چلنے کے تیار ہوگئے۔
چلنے سے پہلے آپ نے سب کو مخاطب کرکے کہا:
“لوگو! تم دشمن کے بہت بڑے لشکر کی طرف جا رہے ہو، اپنی ہمتیں مضبوط رکھو، موت سے محبت تمھارے دل میں ہونی چاہیے ، اللہ تعالیٰ نے جو مقدر میں لکھا ہے وہ ہوکر رہے گا، ہماری توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رہنی چاہیے اور ہر دم اسی سے مدد طلب کرتے رہنی چاہیے۔ بہت سی چھوٹی چھوٹی سی جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے لشکروں کے مقابلے میں فتح نصیب فرمائی ہے، اس لیے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہوگا۔”
آپ نے حضرت امین الامۃ ؓ سے کہا:
“اگر مناسب سمجھیں تو میں اپنے مخصوص دستے کے ساتھ لشکر کے سب سے آخر میں رہوں اور آپ آگے رہ کر قیادت فرمائیں۔”
حضرت امین الامۃ ؓ نے فرمایا:
“نہیں، چونکہ تم نے دروان کو مار بھگایا تھا تو وہ تم سے خوف زدہ ہے، اس لیے تم آگے آگے رہو تاکہ اگر رستے میں آمنا سامنا ہو جائے تو وہ تمھیں دیکھ کر خود ہی رستہ بدل لے۔”
آپ نے کہا:
“جیسے آپ کا حکم۔”
پھر آپ اپنے دستے کو لے کر تیزی کے ساتھ آگے آگے چل دیے اور حضرت امین الامۃ ؓ لشکر کے پیچھے پیچھے۔
چونکہ لشکر کے آخری حصے میں خواتین، بچے اور مال برداری کے جانور وغیرہ تھے تو ان کی دیکھ بھال نیز پیچھے سے دشمن کے حملے سے بچاؤ کے لیے ایک مختصر مسلح دستے کا ہونا ضروری تھا، اس لیے آپ نے یہ خدمت سنبھالی۔
حضرت خالد بن ولید ؓ تیزی سے چل رہے تھے اور آپ خواتین، بچوں اور سامان سے لدے جانوروں کی وجہ سے ذرا آہستہ سفر کر رہے تھے۔ اسلام کے یہ جانباز مرد و خواتین اور بچے دین دشمنوں کے ایک بہت بڑے لشکر کا مقابلہ کرنے جا رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہلِ دمشق نے جب مسلمانوں کو محاصرہ ختم کرکے رخصت ہوتے دیکھا تو وہ خوشی سے چیخنے چلانے لگے۔ وہ سمجھے کہ مسلمان شہنشاہ کی طرف سے بھیجی گئی فوج سے ڈر کر بھاگ رہے ہیں۔ بعض رومی دانشور کہنے لگے کہ:
“یہ دیکھو مسلمانوں کا لشکر جاتا کس رستے سے ہے؟ اگر تو بعلبک کی طرف روانہ ہوئے ہیں تو پھر ان کا ارادہ حمص فتح کرنے کا ہے۔ اگر یہ دوسرے رستے پر جاتے ہیں تو سمجھو پھر یہ سیدھا اپنے خلیفہ کے پاس مدینہ جاکر ہی دم لیں گے۔ بلکہ وہ علاقے جو انھوں نے فتح کرلیے ہیں انھیں بھی چھوڑ چھاڑ کر بھاگ جائیں گے۔ کیوں کہ شہنشاہ نے ایک لشکرِ جرار اجنادین میں جمع کردیا ہے، اس لیے اب یہ لوگ مقابلے سے بھاگ رہے ہیں۔”
یہ سن کر رومی خوشی سے خوب بغلیں بجانے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دمشق میں ایک رومی شخص بولص بن بلقا رہتا تھا۔ یہ بڑا جنگجو اور قوت والا شخص تھا۔ شہنشاہ کے نزدیک بھی اس کا بڑا مرتبہ تھا، بلکہ یہ شہنشاہ کا خاص ایلچی رہ چکا تھا۔ اس کی طاقت، بہادری اور تیراندازی بہت مشہور تھی۔ کہتے ہیں اس کے گھر میں ایک بہت موٹا درخت لگا ہوا تھا۔ ایک دن اس نے اس میں اتنی طاقت سے تیر مارا کہ وہ درخت کے تنے میں گھستا چلا گیا۔ پھر اس نے وہاں لکھا:
“اگر کوئی شخص مجھ سے زیادہ ماہر اور طاقتور ہو وہ درخت کے تنے میں دوسری طرف سے ایسے ہی تیر مارے جیسے کہ میں نے مارا ہے۔”
اس کا یہ قصہ بہت مشہور ہوگیا تھا۔ اگرچہ بولص بڑا بہادر انسان تھا مگر جب سے اصحابِ رسول ﷺ کا لشکر شام میں داخل ہوا تھا اس نے ابھی تک ان کا سامنا نہیں کیا تھا۔
ایک دن بولص اپنی بیٹھک میں بیٹھا ہوا تھا کہ اہلِ دمشق کے سرکردہ افراد اس کے پاس آئے اور کہا:
“بولص! کیا تمھیں پتا نہیں چلا کہ عرب محاصرہ اٹھا کر جا رہے ہیں؟”
بولص ناگواری سے بولا:
“مجھے اس سے کیا غرض کہ وہ جارہے ہیں یا نہیں؟ کوئی اور بات کرو!”
وہ بولے:
“دیکھ بولص، تمھارے پاس بڑا نادر موقع ہے اہلِ شام اور شہنشاہ کی نظروں اپنا مقام و مرتبہ اونچا کرنے کا۔”
بولص ناسمجھی کے انداز میں بولا:
“کیا مطلب ہے تمھارا؟ مجھ سے تم کیا چاہتے ہو؟!”
وہ بولے:
“عرب یہاں سے واپس لوٹ رہے ہیں۔ محاصرہ ختم ہوچکا ہے۔ وہ اجنادین والے لشکر سے خوف زدہ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں تمھاری قیادت میں سب مل کر ان کے تعاقب میں چلیں اور ان پر حملہ کردیں۔”
بولص اہلِ دمشق کی بزدلی سے کافی نالاں تھا۔ اس نے کہا:
“میں نے پہلے بھی تمھاری مدد اس لیے نہیں کی کہ تم سب بزدل ہو، تمھارے اندر ان سے لڑنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ تم ان سے پے در پے شکستیں کھاتے آرہے ہو۔ اس لیے آپ لوگ اپنی راہ پکڑیں، مجھے ان سے لڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”
وہ لوگ ذرا جذباتی انداز میں بولے:
“ہم مسیح اور انجیل کی قسم کھاتے ہیں، ہم سب تمھارے ساتھ جائیں گے اور مقابلہ کریں گے۔ کوئی شخص نہیں بھاگے گا۔ اگر کوئی بھاگے تو تمھیں اختیار ہوگا کہ اس کا سر اڑا دے۔”
جب سارے وعدے ہوگئے تو بولص اٹھ کر گھر کے اندر گیا اور اپنا جنگی لباس پہننے لگا۔ یہ دیکھ کر اس کی بیوی نے کہا:
“آپ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟”
اس نے کہا:
“مجھے دمشق کے باشندوں نے اپنا سپہ سالار منتخب کرلیا ہے اور ہمارا اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ میں لشکر کی قیادت کرتا ہوا عربوں کا تعاقب کرکے ان کو تہہ تیغ یا گرفتار کروں۔”
بیوی بولی:
“ایسا نہ کرو، یہیں گھر میں رہو۔ تمھیں پتا ہے کہ عربوں سے ابھی تک کوئی بھی نہیں جیت سکا، اس لیے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔”
پھر بولی:
“میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ تمھارے ہاتھ میں تیر کمان ہے اور تم چڑیوں کا شکار کر رہے ہو، بعض چڑیاں زخمی ہوکر گرچکی ہیں، مگر پھر اٹھ کر اڑنے لگیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی۔ اتنے میں اچانک چند عقاب کہیں سے آئے، تم اور تمھارے ساتھیوں پر انھوں نے اس زور سے حملہ کیا کہ سب کے منہ نوچ ڈالے۔ تمھارے سب ساتھی بے ہوش ہوکر گر پڑے۔ میں یہ خواب دیکھ کر ڈر گئی اور اٹھ بیٹھی!”
بولص نے پوچھا:
“کیا میں بھی بے ہوش ہوگیا تھا؟”
اس نے کہا:
“ہاں! تم بھی بے ہوش ہوکر گر پڑے تھے۔”
یہ سن کر بولص نے بیوی کے منہ پر ایک طمانچہ مارا اور دھاڑتے ہوئے بولا:
“مجھے کوئی اچھی تعبیر دینے کے بجائے خوف زدہ کر رہی ہو؟ تم عربوں سے اس قدر ڈر گئی ہو کہ اب وہ تمھیں خواب میں بھی نظر آنے لگے؟”
پھر ذرا تحمل سے بولا:
“میرے ہوتے ہوئے تمھیں ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ میں ان کے سالار کو تیرا خادم بناؤں گا اور ان کی عورتوں کو تیری کنیزیں۔ ان کے لڑکے ہماری بکریوں اور سوروں کے ریوڑ چرائیں گے۔”
بیوی بولی:
“تمھاری مرضی ہے جو چاہو کرو، میرا کام تمھیں نصیحت کرنا تھا جو کر چکی ہوں، اور بس!”
بولص اس کی بات سنی ان سنی کرتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا۔ پھر گھوڑے پر سوار ہوا اور اہلِ دمشق کے لشکر میں پہنچ گیا۔
دمشق والوں نے چھ ہزار سے زائد لوگوں کا لشکر ترتیب دیا تھا۔ ان میں شہر کے بڑے بڑے شمشیر زن بھی شامل تھے۔ جب بولص پہنچ گیا تو سب مل کر اس کی قیادت میں مسلمانوں کے تعاقب کے لیے چل پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت خالد بن ولید ؓ اپنے لشکر کے ساتھ کافی آگے نکل گئے تھے اور حضرت امین الامۃ ؓ کے لشکر میں چونکہ خواتین اور بچے بھی شامل تھے، اس لیے آپ ان سے کافی پیچھے تھے۔
لشکر رواں دواں تھا کہ جب آپ کے ایک ساتھی نے پکارا:
“حضرت! پیچھے دیکھیے۔”
آپ نے جب پیچھے مُڑ کر دیکھا تو گرد و غبار کا طوفان اٹھتا دکھائی دیا۔ آپ نے فوراً لشکر کے وہ سپاہی جو آپ کمان میں تھے وہ خواتین، بچوں اور مال وغیرہ کی حفاظت پر مامور تھے، ان کو پکار کر کہا:
“مسلمانو! ہوشیار ہو جاؤ، ہمارے تعاقب میں دشمن کا لشکر سر پر آپہنچا ہے۔”
ابھی آپ کے الفاظ پورے ہی ہوے تھے کہ اہلِ دمشق کا لشکر جو بولص کی قیادت میں تھا، آپ کے پاس پہنچ گیا اور سب کو گھیرے میں لے کر حملہ کردیا۔
دونوں طرف سے حملے ہونے لگے۔ عورتوں اور بچوں نے چیخ و پکار شروع کردی۔ آپ اس آفت سے سخت گھبرائے مگر حوصلے کے ساتھ دشمن سے بھڑ گئے۔ صحابہ و تابعین اس لشکر میں شامل تھے۔ یہ سب اللہ کا ذکر کرتے ہوئے دشمن کے سامنے ڈٹ گئے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ دشمن بچوں اور خواتین کو نقصان نہ پہنچائے مگر اسی وقت بولص کا بھائی پطرس اپنے دستے کے ساتھ پہنچ گیا اور اس نے بچوں اور خواتین کو یرغمال بنا لیا۔
دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور اسلامی لشکر میں سپاہی بہت کم۔ ان کو اپنے ساتھ ساتھ مال، بچوں اور خواتین کا تحفظ بھی کرنا تھا۔ لیکن دشمن اسلامی لشکر کو مکمل گھیرے میں لے چکا تھا۔ چنانچہ پطرس نے مال و اسباب لوٹا، بچوں اور خواتین کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ دمشق کی جانب چل دیا۔ یہ ان سب کو لے کر جب ایک نہر جسے “استریاق” کہا جاتا تھا، کے پاس پہنچا تو وہاں رک کر اپنے بھائی بولص کا انتظار کرنے لگا۔ اس کا ارادہ تھا کہ دونوں بھائی فاتح بن کر اکٹھے دمشق میں داخل ہوں گے۔
اگرچہ مسلمانوں کے مسلح افراد کی تعداد صرف ایک ہزار تک تھی مگر وہ بولص کے حملے کا دلیری سے دفاع کر رہے تھے۔ اسی دوران بولص نے حضرت امین الامۃ ؓ پر حملہ کیا، آپ نے اس کا جواب دیا، پھر دونوں میں سخت لڑائی ہونے لگی۔ میدان میں زور و شور سے تلوار چل رہی تھی۔ گرد و غبار اور خون ہر طرف پھیلا تھا۔ اتنے میں سہیل بن صباح ایک یمنی گھوڑے پر، جو نہایت تیز رفتار ہوتے ہیں، سوار ہوئے اور اس کا رخ حضرت خالد بن ولید ؓ کے لشکر کی طرف کرکے باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔
گھوڑا بہت تیزی سے دوڑا اور کچھ دیر بعد وہ حضرت خالد بن ولید ؓ کے لشکر سے تھوڑے سے فاصلے پر پہنچ گیا۔ انھوں نے گھوڑے کو مزید تیز دوڑایا تاکہ جتنی جلدی ہو سکے پہنچ جاؤں۔ جب حضرت خالد بن ولید ؓ کے سپاہیوں نے اپنے پیچھے ایک گھڑ سوار کو آتے دیکھا تو یہ رک گئے اور اس کے منتظر ہوئے۔ سہیل بن صباح وہاں پہنچے اور پکار کر حضرت خالد بن ولید ؓ سے کہا:
“اے امیر محترم! جلدی کریے اور حضرت امین الامۃ ؓ کی مدد کو پہنچیے۔ دشمن ان سب کو گھیرے میں لے چکا ہے۔”
یہ سن کر حضرت خالد بن ولید ؓ نے إِنَّالِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رٰجِعونَ پڑھا اور رافع بن عمیرہ الطائی کو حکم دیا:
“تم فوراً ایک ہزار سواروں کے ساتھ وہاں پہنچو، میں بھی تمھارے پیچھے آرہا ہوں۔”
یہ تیزی سے نکلے تو ان کے پیچھے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ بھی ایک ہزار سواروں کے ساتھ چلے۔ ان کے بعد حضرت خالد بن ولید ؓ نے ضرار بن الازور ؓ اور قیس بن ہبیرہ المردی ؓ کو ہزار ہزار کا دستہ دے کر بھیج دیا۔ پھر باقی لشکر کو آپ اپنی کمان میں لے کر تیزی سے ان کی طرف بڑھے۔
بولص کو مسلمانوں نے کم تعداد میں ہونے کے باوجود خوب الجھایا ہوا تھا۔ وہ ابھی تک کسی مسلمان سپاہی کو مارنے یا گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ یہ جنگ جاری تھی کہ مسلمانوں کا پہلا دستہ رافع بن عمیرہ الطائی کی کمان میں وہاں پہنچ گیا، پھر حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر، اور اس کے بعد ضرار بن الازور ؓ اور قیس بن ہبیرہ المردی ؓ بھی اپنے دستوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے دمشقیوں کو ہر طرف سے گھیر لیا اور خوب زور دار حملہ کیا۔ تلواریں چلنے لگیں اور دمشقیوں کے سر کٹ کٹ کر گرنے لگے۔
بولص ان حضرات کے یوں اچانک پہنچنے سے سخت گھبرایا۔ ابھی دمشقیوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ حضرت خالد بن ولید ؓ باقی ماندہ فوج کے ساتھ آ پہنچے۔ بس پھر مسلمانوں کے نعرے تھے اور دمشقیوں کی چیخیں۔ لمحوں میں دمشقیوں کو ہر طرف سے گھیر لیا گیا اور ان کو تلواروں کی نوک پر رکھ لیا۔
اچانک حضرت ضرار ؓ کی نظر بولص پر پڑی تو یہ اس کی طرف دوڑے۔ بولص ضرار بن الازور ؓ کی بہادری جانتا تھا، وہ ان کو دیکھ کر تھر تھر کانپنے لگا اور پھر بچنے کے لیے دوڑا۔ بولص نے حضرت امین الامۃ ؓ سے پکار کر کہا
” مجھے اس جن سے بچاؤ!”
حضرت ضرار ؓ نے کہا:
“یہ جن اب تجھے چھوڑنے والا نہیں ہے۔”
یہ کہہ کر ضرار بن ازور ؓ نے اس کی طرف نیزہ مارا، وہ اس سے بچنے کے لیے گھوڑے سے کود گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ضرار بھی گھوڑے سے کود گئے اور اس کے پیچھے بھاگے۔ اس نے بچنے کی بہت کوشش کی مگر حضرت ضرار ؓ نے اسے گردن سے دبوچ لیا۔ ضرار بن ازور جب اس کا کام تمام کرنے لگے تو اس نے کہا:
“مجھے نہ مارو، میری سلامتی میں ہی تمھاری عورتوں اور بچوں کی سلامتی ہے۔”
یہ سن کر حضرت ضرار ؓ اسے مارنے سے رک گئے۔
ایک راوی کہتے ہیں میں اس دن حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے لشکر میں شامل تھا۔ اس دن ہم نے دمشقیوں کو ایسے مارا کہ چھ ہزار میں سے بمشکل سو سوا سو بچ کر واپس گئے ہوں گے۔ دمشق کے لشکریوں کی اکثریت ماری گئی اور باقی شدید زخمی پڑے کراہ رہے تھے۔
ان سے فراغت کے بعد حضرت خالد بن ولید ؓ نے حضرت امین الامۃ ؓ سے کہا:
“حضرت! میں خواتین کو بچانے کے لیے روانہ ہو رہا ہوں، آپ باقی بچ جانے والی خواتین بچوں اور مال و اسباب کو لے کر آہستہ آہستہ آگے چلیں۔”
پھر آپ نے دو ہزار شہسوار چن کر اپنے ساتھ رکھے باقی لشکر کو حضرت امین الامۃ ؓ کی کمان میں روانہ کردیا کہ اگر خدانخواستہ کہیں رستے میں دروان سے مڈبھیڑ ہوگئی تو سپاہیوں کی موجود گی سے کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ رومی سپہ سالار بولص جو اب قیدی بن چکا تھا، اسے بھی ان کے ساتھ سپاہیوں کی نگرانی میں روانہ کردیا۔
حضرت خالد بن ولید ؓ کے ساتھ جو دو ہزار سوار تھے یہ بڑے خاص لوگ تھے۔ ان میں سے ہر ایک کئی کئی بہادروں پر بھاری تھا۔ رافع بن عمیرہ الطائی، ضرار بن ازور ؓ ، میسرہ بن مسروق العبسی جیسے سالار بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ اب ان شہسواروں کا رخ دمشق کی طرف تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پطرس اپنے ساتھیوں سمیت نہر استریاق کے کنارے اپنے بھائی بولص کے انتظار میں کھڑا تھا۔ ان کے سامنے وہ یرغمال بنائی گئی خواتین بھی کھڑی تھیں۔ ان خواتین میں ضرار بن الازور ؓ کی بہن خولہ بنت ازور ؓ بھی شامل تھیں۔ یہ بہادر بھائی کی بہادر بہن تھیں۔ ان کے ساتھ دیگر معزز قبائل کی ذرا بڑی عمر کی خواتین بھی تھیں جو لڑنے بھڑنے کا فن جانتی تھیں۔
جب پطرس اور اس کے خاص ساتھیو نے ان کو ہراس کرنے کی منصوبہ بندی کی تو خواتین نے ان کے غلیظ ارادے کو تاڑ لیا۔ انھوں نے متفقہ فیصلہ کرلیا کہ ہمارے جیتے جی ممکن نہیں کہ یہ ہمیں میلی آنکھ سے دیکھیں یا دل و دماغ میں بھی کسی جرم پر عمل پیرا ہونے کا خیال لائیں۔
خولہ بنت ازور سمیت دیگر قبائل کی بہادر خواتینِ اسلام نے آناً فاناً منصوبہ بندی کی اور ایک دم سے سامان میں موجود خیموں کی چوبیں ہاتھوں میں لیے دشمن پر ٹوٹ پڑیں۔
دشمن کو ان سے یہ توقع نہیں تھی۔ مگر یہ اسلام کی بیٹیاں تھیں، انھوں نے ایسی مہارت سے وار کیے کہ دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا۔
جب کئی زخمی اور چند ایک مارے گئے تو پطرس نے اپنے ساتھیوں کو کہا ان سب کو گھیرے میں لے لیا جائے۔ دشمن کے سپاہیوں نے ان کو گھیرے میں لے لیا اور تلواریں تان لیں۔ چند ایک سپاہیوں نے ان کے قریب آنے کی کوشش کی تو انھوں نے اس کے گھوڑے پر وار کرکے گرادیا۔ پھر سوار پر تابڑ توڑ وار کرکے موت کی وادی میں پہنچا دیا۔
یہ دیکھ کر پطرس چیخا:
“بے شرمو! یہ عورتیں ہوکر تم پہ چھاگئی ہیں؟ تم کیسے مرد ہو؟”
رومی سپاہی یہ سن کر حرکت میں آئے ہی تھے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور نعروں کی آوازیں سن کر پیچھے مڑے۔ خواتینِ اسلام نے خوشی سے ایک دوسرے کو گلے لگایا کہ مدد آگئی اور ہمارے بھائی پہنچ گئے۔
پطرس اس امید پر تھا کہ اس کا بھائی بولص پہنچنے والا ہے مگر اس کی جگہ اسلامی لشکر پہنچ گیا۔ یہ دیکھ کر پطرس نے گھوڑے کا رخ دمشق کی طرف کیا اور بھاگا۔ اسلامی لشکر سے ضرار بن ازور نے اپنے گھوڑے کو تیزی سے اس کے پیچھے دوڑایا، خولہ بنت ازور اور قبیلہ حمیر کی خاتون حضرت عفیرہ نے پطرس کے بھاگتے گھوڑے پر چوب دے ماری اور اسے گرادیا۔ اتنے میں حضرت ضرار اور حضرت خالد بن ولید ؓ بھی وہاں پہنچ گئے۔ حضرت ضرار نے پہنچتے ہی پطرس کو، جو اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا، اس زور سے نیزہ مارا کہ وہ اس کے جسم کے آر پار ہوگیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے ضرار بن ازور کو بہترین وار کرنے پر داد دی۔
باقی لشکر رومیوں کی تکہ بوٹی کر رہا تھا۔ پطرس کے مرتے ہی سپاہی دمشق کی طرف بھاگے، مسلمان سپاہیوں نے ان کا تعاقب شروع کردیا۔ جو ہاتھ لگا وہ مارا گیا اور باقیوں نے شہر میں داخل ہو کر فصیل کا دروازہ بند کرلیا۔
مسلمان سپاہی یہ دیکھ کر واپس پلٹ آئے۔ اس وقت تک پیچھے موجود سپاہیوں نے میدان میں رومیوں کا بکھرا ہوا سامان اکٹھا کرلیا تھا۔ اب یہ لشکر اپنی خواتین، مال و اسباب اور بچوں کو حفاظت میں لے کر واپس حضرت امین الامۃ ؓ کی طرف چل پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واقدی کہتے ہیں ضرار بن ازور نے پطرس کا سر قلم کرکے اپنے نیزے پر لٹکا رکھا تھا۔ جب یہ لوگ حضرت امین الامۃ ؓ کے پاس پہنچے، جو اس وقت مرج نامی علاقے میں ٹھہرے ہوئے تھے، تو انھوں نے بلند آواز سے نعرہ تکبیر لگایا۔ جواب حضرت امین الامۃ ؓ کے لشکر نے بھی نعرہ تکبیر بلند کرکے ان کا استقبال کیا۔
پھر سب ایک دوسرے کو ملے اور کامیاب کارروائی پر مبارک باد دی۔ مسلمان اپنی خواتین اور بچوں کو سلامت دیکھ کر خوش ہوئے اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
پھر حضرت خالد بن ولید ؓ نے بولص کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ آیا تو اس نے پوچھا:
“تم نے میرے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟”
حضرت ضرار بن ازور نے اس کے بھائی کا سر اس کے سامنے پھینک دیا۔ یہ دیکھ کر وہ رونے اور چلانے لگا۔
پھر حضرت خالد بن ولید ؓ نے اسے اسلام کی دعوت دی اور ساتھ ہی اسلام قبول کرنے پر اس کے جرم کو معاف کردینے کی پیشکش بھی کی۔ مگر وہ انکاری رہا اور کہنے لگا:
“مجھے بھی میرے بھائی کے پاس پہنچا دو۔ مجھے اب زندہ رہنے کا کوئی شوق نہیں۔”
چنانچہ اس کی اس خواہش کو فوراً پورا کردیا گیا۔
ماخوذ از فتوح الشام للواقدی۔فتوحات_شام20)
