بلاعنوان۔۔۔😊!

بلاعنوان۔۔۔😊!

آخر ی مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایک ہاتھی تھا ، نام تھا اُس کا ” مولا بخش “ – یہ ہاتھی اپنے مالک کا بے حد وفادار تھا ۔

ہاتھی خاصہ بوڑھا تھا مگر تھا بہت صحت مند ۔ فطرتاََ شریر اور شوخ تھا ۔ ہر وقت مست رہتا تھا ۔ اپنے مہاوت کے سوا کسی کو پاس نہ آنے دیتا تھا ۔ یہ ہاتھی کھیلنے کا بڑا شیدائی تھا ۔ دہلی کے لال قلعے کے قریب کے بچے اُس کے گرد اکٹھے ہو جاتے تھے اور مولا بخش اُن کے ساتھ ساتھ کھیلتا رہتا ۔ پہلے بچے اُسے کہتے کہ

” ایک ٹانگ اٹھاؤ “

وہ اُٹھا لیتا ۔ بچے کہتے

” ایک گھڑی ( یعنی ایک منٹ ) پوری ہونے سے پہلے نہ رکھنا “

وہ ایک گھڑی یعنی ایک منٹ تک ایسے ہی رہتا ۔ پھر بچے کہتے

” گھڑی پوری ہوئی “

تو وہ ٹانگ نیچے رکھ دیتا ۔ پھر وہ مخصوص آواز نکالتا جس کا مطلب ہوتا کہ

” بچوں ! اب تمہاری باری آئی ۔ ”

چنانچہ بچے اپنی ٹانگ اُٹھا لیتے ۔ گھڑی پوری ہونے سے پہلے کوئی بچہ ٹانگ نیچے کرنے لگتا تو ہاتھی زور زور سے سر ہلاتا ۔ یعنی ابھی گھڑی پوری نہیں ہوئی ۔ غرض وہ بچوں کے ساتھ بہت خوش رہتا تھا ۔ اُنہیں اپنی سونڈ سے گنے اُٹھا اُٹھا کر دیتا ۔ جس دن بچے نہ آتے ، اُس دن شور مچاتا ۔ مجبوراََ مہاوت بچوں کو بلا کر لاتا ۔ ویسے تو یہ بہت شوخ ہاتھی تھا لیکن جب بادشاہ کی سواری کا موقع آتا تو بہت مؤدب اور سنجیدہ ہوجاتا ۔ جب تک بادشاہ صحیح طرح سے بیٹھ نہ جائے کھڑا نہیں ہوتا تھا ۔

1857 میں جب انگریز لال قلعے پر قابض ہوئے اور بہادر شاہ ظفر نے ہمایوں کے مقبرے میں پناہ لی تو مولا بخش بہت اُداس ہوگیا ۔ بادشاہ سے بچھڑنے کا اُسے اِتنا غم ہوا تھا کہ اُس نے کھانا پینا بھی چھوڑ دیا تھا ۔ قلعے کے نئے انگریز انچارج “سانڈرس” ( Saunders ) کو یہ خبر ملی تو اُس نے لڈو اور کچوریوں سے بھرے ٹوکرے منگوائے اور ہاتھی کے سامنے رکھے ۔ ہاتھ نے اپنی سونڈ سے وہ تمام ٹوکرے اُٹھا کر پھینک دئیے ۔ سانڈرس کو غصہ آگیا کہ یہاں تو ہاتھی بھی باغی ہے ۔ اُس نے ہاتھی کی نیلامی کا حکم دے دیا ۔ ہاتھی کو بازار میں کھڑا کر دیا گیا مگر کوئی بھی بولی نہیں لگا رہا تھا ۔ پھر ایک پنساری نے اڑھائی سو روپے کی بولی لگائی اور ہاتھی اُس کے ہاتھ نیلام کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ مہاوت نے یہ دیکھ کر کہا

” مولابخش ! ہم دونوں نے بادشاہ کی بہت غلامی کر لی ، اب تو تجھے ہلدی بیچنے والے کے دروازے پر جانا پڑے گا ۔ “

یہ سننا تھا کہ ہاتھی دھم سے زمین پر گرا اور مر گیا ۔ ہاتھی کی وفاداری کا یہ قصہ بہت انوکھا ہے ۔ مولابخش نے مالک کے سوا کسی کے پاس رہنا پسند نہ کیا اور اس غم نے اُس کی جان لے لی ۔

Leave a Reply

NZ's Corner