ایک تخیلاتی کہانی ہے کہ ایک نیک بزرگ پہاڑوں میں نکل گئے، پیچھے دیکھا ایک مفلس شخص آرہا تھا۔
بزرگ نے پوچھا،
“کیا چاہیے؟”
اس شخص نے کہا،
“غریب ہوں، کچھ عنایت فرمائیں۔”
بزرگ نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، پہاڑ سونے کا ہو گیا۔
بزرگ چل پڑے، دیکھا وہ شخص پھر پیچھے آرہا تھا۔
بزرگ نے پوچھا،
“اب کیا چاہیے؟”
وہ شخص بولا،
“یہ کافی نہیں۔”
بزرگ نے دوسرے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی۔ وہ بھی سونے کا ہو گیا اور اسی طرح تیسری اور پھر چوتھی طرف انگلی اٹھائی چاروں طرف کے پہاڑ سونے کے ہو گئے۔
بزرگ دوبارہ آگے بڑھ گئے اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ شخص پھر پیچھے آرہا تھا۔
بزرگ نے پوچھا،
“اب کیا چاہیے؟”
اس شخص نے عرض کیا،
“بزرگو…! آپ کی انگلی۔” 😅😅😅
منقول
سچ ہے کہ دولت اور مال و متاع کی لالچ ایسی چیز ہے کہ جوں جوں ملتا جاتا ہے، لالچ بڑھتا ہی جاتا ہے۔
کھانا کھانے سے پیٹ کی بھوک مٹ جاتی ہے لیکن دولت ملنے سے لالچی کی بھوک مزید بڑھتی چلی جاتی ہے۔
حلال اور وافر رزق کی تمنا بری بات نہیں لیکن پھر خدا کے دیئے رزق سے اس کی مخلوق پر خرچ نہ کرنا بہت ہی بری بلا ہے۔
بس دولت جمع کرنے کی ہوس انسان کو قبر کے گڑھے تک پہنچا دیتی ہے مگر بھوک پھر بھی باقی رہتی ہے۔ ایسوں کی بھوک صرف قبر کی خاک ہی مٹا سکتی ہے۔
