بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک مولوی صاحب نے چرسی کو مسجد میں وضو کرتے دیکھا تو پوچھا:
“اوئے چرسی تو یہاں کیا کر رہا ہے؟”

چرسی جھٹ سے بولا:
“مرچیں تو تجھے تب لگیں گی جب جنت میں دیکھو گے۔”

بظاہر یہ لطیفہ ہے لیکن اس نے ایک لمحے کو ہوش اڑا دیئے۔ وہ لوگ جنہیں ہم نے حقیر جانا، جنہیں ہم گناہ گار کہتے رہے، جن پر ہم عمر بھر لعن طعن کرتے رہے، طرح طرح کے فتویٰ لگاتے رہے۔
کیا ہو اگر کل بروزِ حشر وہ خدا کے مقبول بندوں میں نکل آئے؟ کیا ہو اگر کہ ہم اسے خوش فہمی میں مارے گئے کہ ہم نے خدا کو راضی کیا اور خدا کو ہماری نیت ہی بھلی نہ لگی ہو۔
کیا ہو اگر کہ جنہیں ہم جہنمی اور بدکار کہتے رہے ہوں اور وہ جنت کے دروازے پر مسکراتے ملیں اور ہمیں جنت کی ہوا بھی نصیب نہ ہو۔
خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کا عمل اور کس کی نیت اس کے ہاں مقبول ہے۔
ہم ایک لمحے سے پہلے اگلے کو کافر، مشرک، قادیانی، بدعتی اور ناجانے کیسے کیسے القابات سے نواز دیتے ہیں اور سوچتے ہی نہیں کہ اگر وہ خدا کا مقبول ہوا، اور خدا کو ہمارے الفاظ پسند نہ آئے اور انہی الفاظ کی وجہ سے پکڑ ہوگئی تو ہم کیا کریں گے؟ ہم کہاں جا کر منہ چھپائیں گے۔
آپ کا پتا نہیں… لیکن یہ سوچ کر ہی میرے وجود میں جھرجھری سی دوڑ جاتی ہے اور دل پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے کہ بس خدا رحم ہی کرے۔ اس کی رحمت نہ ہو تو ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں۔
اللہ ہمارا خاتمہ ایمان بالخیر پر کرے اور دوسروں کو تحقیر کی نگاہوں سے دیکھنے سے باز رکھے

Leave a Reply

NZ's Corner