اہرام مصر “توتن خامون” کے مقبرے کی لعنت۔۔۔ ایک بھیانک سچ۔۔

اہرام مصر “توتن خامون” کے مقبرے کی لعنت۔۔۔ ایک بھیانک سچ۔۔

سن 1922 میں مصر کی خاموش ریت نے ایک ایسا راز اُگلا، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ راز تھا فرعون توتن خامون (Tutankhamun) کا مقبرہ، جو تقریباً تین ہزار سال سے زمین کے اندر خاموشی سے سو رہا تھا۔ جب ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر (Howard Carter) نے اس مقبرے کا دروازہ کھولا، تو کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ دریافت تاریخ کے ساتھ ساتھ خوف کی نئی داستان بھی لکھ دے گی۔

کمرے کے اندر سونا، زیورات، نایاب مجسمے اور دیواروں پر کندہ تحریریں موجود تھیں۔ سب کچھ اتنا محفوظ تھا جیسے وقت یہاں آ کر رک گیا ہو۔ لیکن اس خاموشی کے پیچھے کچھ اور بھی تھا، جو انسانی آنکھ سے چھپا ہوا تھا، مگر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔

مقبرہ کھلنے کے صرف چند ہفتوں بعد، اس مہم کے سرپرست لارڈ کارناروَن (Lord Carnarvon) اچانک بیمار پڑ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک معمولی مچھر کے کاٹنے سے زخم بنا، زخم بگڑا، اور پھر اچانک موت واقع ہو گئی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ جس لمحے وہ دنیا سے رخصت ہوئے، قاہرہ (Cairo) کی بجلی بند ہو گئی، اور اسی وقت لندن (London) میں ان کے پالتو کتے نے زور سے چیخ ماری اور وہ بھی مر گیا۔ یہ سب کچھ اتنا غیرمعمولی تھا کہ محض اتفاق کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ پراسرار واقعات بڑھتے چلے گئے۔ مقبرے میں داخل ہونے والے کچھ افراد شدید بیماریوں میں مبتلا ہو گئے، کچھ پراسرار حادثات کا شکار ہوئے، کچھ نے خودکشی کر لی، اور کچھ ہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے کسی نہ کسی شکل میں فرعون کی نیند میں خلل ڈالا تھا۔ جلد ہی دنیا بھر میں یہ سرگوشیاں پھیل گئیں کہ جو فرعون کی نیند توڑے گا، وہ خود کبھی سکون سے نہیں سوئے گا۔

کہا جاتا ہے کہ مقبرے کے اندر ایک تحریر بھی ملی تھی، جس میں درج تھا:
“جو میری قبر کو چھیڑے گا، اس پر موت اپنے پر پھیلا دے گی”
(“Death shall come on swift wings to him who disturbs the king’s peace.”)
اگرچہ بعض ماہرین اس تحریر کی موجودگی سے انکار کرتے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ مقبرہ کھلنے کے بعد مرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ سائنس بھی خاموش ہو گئی۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبروں میں موجود قدیم فنگس (Fungus) یا زہریلے جراثیم (Pathogens) ان اموات کا سبب بنے۔ ان کے مطابق جب یہ پرانے کمرے برسوں بعد کھلتے ہیں تو اندر کی ہوا نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ صرف جراثیم کی وجہ سے تھا، تو سب کیوں نہیں مرے؟ اور اگر بیماری تھی، تو وہ لوگ کیوں جان سے گئے جن کے جسم پر بیماری کی کوئی واضح علامت ہی نہیں ملی؟ اور وہ لوگ جنہوں نے خودکشی کی، ان کے ساتھ کون سا جراثیم تھا؟ کیا یہ سب محض اتفاق تھا، یا واقعی کوئی ایسی طاقت تھی جو اپنی نیند میں مداخلت برداشت نہیں کر سکی؟

آج بھی مصر میں کئی مقبرے ایسے ہیں جن پر واضح وارننگ لگی ہوتی ہے کہ اندر جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ کچھ دروازے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جہاں صرف مخصوص ماہرین کو داخلے کی اجازت ہے۔ ہو سکتا ہے یہ احتیاط صرف سائنسی وجوہات کے لیے ہو، لیکن کچھ دروازے ایسے بھی ہیں جو صدیوں سے مقفل ہیں، اور جن کے بارے میں مقامی لوگ آج بھی سرگوشی کے سوا کچھ نہیں کہتے۔

ماہرین خاموش ہیں، سائنس محتاط ہے، اور تاریخ آج بھی سوال بن کر کھڑی ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ لعنت تھی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسی کوئی طاقت موجود تھی تو کیا انسان کو ہر راز سے پردہ اٹھانا چاہیے؟ یا کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں نیند میں ہی رہنے دینا بہتر ہوتا ہے۔

اور ایک بات جس سے انکار ممکن نہیں، وہ یہ کہ اس دور میں جادو، ٹونا، نہوست اور نادیدہ اثرات کی باتیں عام تھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان تہذیبوں میں ایسی رسومات اور عملیات موجود تھیں، جنہیں آج بھی مکمل طور پر سمجھنا آسان نہیں۔ اور یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ وہ اثرات آج تک باقی ہوں۔ ہو سکتا ہے یہ سب انہی کے زیرِ اثر ہوا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں کچھ چیزیں صرف دیکھی نہیں جاتیں، بلکہ محسوس کی جاتی ہیں۔

حوالہ جاتی ماخذ
British Museum Archives
National Geographic Historical Records
History Channel Documentary Archives

کیا آپ احباب میں سے کوئی اس والے مقبرے میں جانے کی ہمت کرے گا؟ کم از کم میں تو نہیں۔۔۔💀

پوسٹ اچھی لگے تو شیئر ضرور کیجئے گا۔

Leave a Reply

NZ's Corner