جنگ عین جالوت (3 ستمبر 1260ء)

جنگ عین جالوت (3 ستمبر 1260ء)


1260ء کا موسم گرما تھا۔مصر میں ہوا تک خوف اور بے یقینی کے جال پھیلے ہوئے تھے۔ منگولوں کی برق رفتار پیش قدمی نے پورے مشرق کو لرزا دیا تھا۔ بغداد کی تباہی کے بعد اب شام بھی ان کے پنجوں میں تھا۔ ہر طرف یہی خبریں تھیں: “منگول آ رہے ہیں، اور وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے۔”
مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قلعے میں ایک اضطرابی فضا تھی۔ نوجوان سلطان سیف الدین قطز اپنے امیروں کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ ایک طرف سفیروں کے ذریعے ہلاکو خان کی ڈراؤنی اطاعت کی درخواست پڑی تھی، تو دوسری طرف شام سے آئے ہوئے مہاجرین کے چہروں پر تباہی کے آثار تھے۔
ایک روز دربار میں ایک طویل خاموشی کے بعد قطز نے اٹھ کر اعلان کیا:”میں کسی غلام کی طرح منگولوں کی اطاعت نہیں کروں گا۔ ہم جنگ کریں گے۔ فتح یا شہادت!”
ان کے ایک جرنیل، ظہیر بیبرس، جن کی آنکھوں میں چمک تھی، بولے: “سلطان! اگر ہم ان کا مقابلہ مصر کی سرزمین پر کریں گے تو تباہی پھیلے گی۔ بہتر ہے ہم ان سے مل کر شام میں جنگ کریں۔”
رمضان کا مہینہ تھا۔قطز نے تمام امرا کو اکٹھا کیا اور خطاب کیا: “اے لوگو! اگر تم منگولوں کے ہاتھوں قتل ہوگے تو شہید کہلاؤ گے۔ اور اگر تم فتح پا گئے تو اللہ کے نزدیک غازی اور مجاہد۔ تمہیں صرف دو ہی راستے نظر آتے ہوں گے: یا تو شہادت، یا فتح۔”
ایک زبردست فوج تیار ہوئی۔ قطز نے تمام مسلمان حکمرانوں کو خطوط بھیجے۔ جب فوج نے فلسطین کی طرف کوچ کیا تو راستے میں کئی مقامات پر قطز نے تقریریں کیں۔ ایک جگہ انہوں نے کہا: “اللہ کی قسم! اگر میں بھاگا تو مجھے قتل کر دینا۔ اور اگر میں مارا گیا تو میرے بعد بیبرس کو اپنا قائد بنا لینا۔”
25 رمضان کی صبح،عین جالوت کی وادی میں دونوں فوجیں آمنے سامنے تھیں۔ منگول فوج کا کماندار کتبغا اپنے گھوڑے پر سوار، فخر سے مملوک فوج کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے کئی اسلامی لشکروں کو شکست دی تھی، اور اسے یقین تھا کہ یہ جنگ بھی جیت جائے گا۔
جنگ شروع ہوئی۔ منگولوں نے اپنی مخصوص حکمت عملی سے مملوک فوج کے اگلے دستوں کو مشکلات میں ڈال دیا۔ کچھ مملوک دستے پیچھے ہٹنے لگے۔ یہ دیکھ کر قطز گھوڑے سے اترے، اپنا خود سر سے اتارا، اور زور سے پکارے: “وا اسلاماہ! اے اللہ! اپنے بندے قطز کی مدد فرما!”
یہ آواز سنتے ہی فوج میں جوش کی لہر دوڑ گئی۔ سلطان خود سب سے آگے تھے۔ ان کی بہادری نے حوصلے پھر سے بلند کر دیے۔
ادھر بیبرس اپنے دستے کے ساتھ میدان کے ایک اہم مقام پر موجود تھے۔انہوں نے منگول فوج کو اپنی طرف متوجہ کیا، اور پھر اچانک پسپائی کا ڈرامہ کیا۔ منگول فوج بیبرس کے پیچھے بھاگی، اور ایک تنگ وادی میں پھنس گئی۔ یہی موقع تھا جس کا بیبرس انتظار کر رہے تھے۔
انہوں نے اپنے دستوں کو حکم دیا: “اب! گھیرو اور حملہ کرو!”
مملوک فوج نے منگولوں کو گھیرے میں لے لیا۔ تیروں کی بارش ہونے لگی۔ نیزے چمکنے لگے۔ تلواریں کڑکڑانے لگیں۔ جنگ کا پانسا پلٹ رہا تھا۔
کتبغا نے بڑی بہادری سے لڑائی جاری رکھی،لیکن گھیراؤ تنگ ہوتا گیا۔ ایک مملوک جنگجو نے نیزے سے اس پر وار کیا۔ کتبغا گھوڑے سے گر پڑا۔ اس کے گرتے ہی منگول فوج میں بھگدڑ مچ گئی۔ جو بچے وہ میدان جنگ سے بھاگنے لگے۔
میدان فتح ہو چکا تھا۔ قطز اور بیبرس دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔ قطز نے بیبرس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: “آج اسلام بچ گیا۔ اور تم نے اس میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔”
فتح کی خبر جب قاہرہ پہنچی تو شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔مساجد میں اللہ کا شکر ادا کیا گیا۔ منگولوں کا وہ رعب جو پورے علاقے پر طاری تھا، وہ ٹوٹ گیا۔
کچھ ہی مہینوں بعد، شام کے شہر بھی منگول قبضے سے آزاد ہو گئے۔ وہ خطہ جو تباہی کے کنارے کھڑا تھا، وہ پھر سے اسلامی حکومت کے زیرنگین آ گیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner