حاجت مند ڈاکو۔۔۔🙂!

حاجت مند ڈاکو۔۔۔🙂!

ایک نامی گرامی شاعر گزرا ہے۔ جو پہلے درجہ کا فیاض اور رحمدل انسان تھا ۔ ایک دن کا ذکر ہے ۔ کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ شہر سے باہر کسی سبزہ زار کی سیر کر رہا تھا ۔ دفعتہ ایک ہٹا کٹا آدمی بڑی تیزی کے ساتھ ایک جھاڑی سے نکلا اور شاعر کے سامنے پستول تان کر کھڑا ہو گیا بولا یہ جو کچھ جمع جتھا تمہارے پاس ہے ۔ یہاں رکھ دو ورنہ ابھی فائر کرتا ہوں ۔ شاعر اس آدمی کو دیکھ کر گھبرا گیا اور اُس کی بیوی ڈر کے مارے بیہوش ہو کر گر پڑی ۔ شاعر نے اپنی جیب سے روپیوں کی تھیلی نکالی اور ڈاکو کی طرف پھینک دی اُس آدمی نے تھیلی اٹھائی اور شاعر کی طرف احسان مندا نہ نگاہوں سے دیکھتا ہوتا تیزی سے ایک طرف کو چلا گیا

اتفاقاً جب ڈاکو بھاگ رہا تھا اُسی وقت شاعر کا نوکر وہاں آپہنچا۔ شاعر نے اُسے حکم دیا کہ اُس شخص کے پیچھے پیچھے بھاگو اور
پتہ لگاؤ کہ یہ کہاں رہتا ہے اور کیا کیا حرکتیں کرتا ہے ۔ نوکر نے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کی اور دو گھنٹہ کے بعد واپس آیا۔ شاعر نے دریافت کیا کہو ۔ اس شخص کے متعلق تم کیا حالات معلوم کر کے لائے ہو:

ملازم نے جواب دیا حضور ! میں اُس ڈاکو کے پیچھے پیچھے چھپتا چھپاتا اُس کے گھر تک گیا اُس نے مکان کے اندر جا کر دروازہ بند کر لیا ۔ میں دروازے کے اندر جھانکنے لگا ۔ دیکھا کہ ڈاکو نے روپیوں کی تفصیلی اپنی بیوی کے سامنے پھینک کر کہا ۔ لو میں اپنا ایمان بیچ کر یہ لایا ہوں ۔ اُس کے بعد اُس نے اپنے دو بیٹوں کو الگ الگ دونوں گھٹنوں  پر بٹھا لیا اور بولا” پیارے بچو: میں اپنے دین اور ایمان کو خاک میں ملا کر یہ روپیہ اس واسطے لایا ہوں کہ تم فاقوں سے بچے رہو۔  یہ کہہ کر ڈا کو زار زار رونے لگا :

شاعر نے نوکر سے ڈاکو کے مکان کا پورا پتہ پوچھ لیا تھوڑی دیر بعد وہ خود اس محلے میں پہنچا اور وہاں کے لوگوں سے اس کی بابت سارا حال دریافت کیا ۔ لوگوں نے بتایا کہ شخص ڈاکو نہیں ہے۔ لوگ اسے شریف اور محنتی آدمی سمجھتے ہیں۔ اس بیچارے کا کنبہ بھاری ہے اور آمدنی کم، اس لئے اُسے بڑی مصیبت اُٹھانی پڑتی ہے۔
یہ حالات سن کر شاعر کو یقین ہو گیا کہ اُس غریب آدمی سے جو گناہ سرزد ہوا ہے ، وہ مجبوری سے ہوا ہے بدنیتی سے نہیں :

یہ خیال آتے ہی شاعر کے دل میں ہمدردی کا دریا لہریں مارنے لگا ۔ وہ اس غریب آدمی کے مکان پر پہنچا اور اُسے بلایا ۔ پر آدمی شاعر کے قدموں پر گر پڑا اور رحم کی درخواست کی شاعر نے اُسے بہت دلاسا دیا اور اپنے ساتھ گھر لا کر کسی اچھی سی جگہ پر اُسے نوکر رکھوا دیا :

– تھوڑے دنوں میں اُس غریب آدمی کی حالت سدھر گئی اور اس کی تنگدستی دور ہو گئی۔

Leave a Reply

NZ's Corner