9 صفر 38 ہجری (17 جولائی 658ء) کی ایک سحر، نہروان کے میدان میں ہوا کچھ یوں:
ہوا میں تلخی اور خاموشی کے ساتھ ایک عجیب دھند چھائی ہوئی تھی۔ ایک طرف حضرت علی بن ابی طالبؓ کا لشکرِ حق ڈٹا تھا، تو دوسری طرف وہی لوگ جو کل تک اسی لشکر کا حصہ تھے—خوارج—اپنے ہی بھائیوں کے سامنے صف آرا تھے۔ یہ جنگ نہیں، ایک المناک انجام تھا جو اپنے ہی ہاتھوں لکھا جا رہا تھا۔
سب کچھ جنگِ صفین کے بعد شروع ہوا۔ جب معاملہ ثالثی کے لیے گیا تو حضرت علیؓ کے لشکر میں سے ایک گروہ آگ بگولا ہو گیا۔ ان کا نعرہ تھا: “حکم صرف اللہ کا ہے!”۔ ان کے نزدیک دو انسانوں کو فیصلہ کا اختیار دینا کفر تھا۔ وہ چار ہزار کی تعداد میں حروراء نامی جگہ پر جمع ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ اب علیؓ کی خلافت بھی ناجائز ہے۔ انہوں نے اپنا ایک الگ “خلیفہ” بھی بنا لیا—۔
لیکن محض عقیدے کا اعلان ہی کافی نہیں تھا۔ انہوں نے عام بستیوں میں دہشت پھیلانی شروع کر دی۔ جو ان کے عقیدے سے متفق نہیں تھا، اسے کافر قرار دے کر قتل کر دیا جاتا۔ عبداللہ بن خبابؓ نامی ایک صحابی اور ان کی حاملہ بیوی کا قتل اس انتہا کی آخری حد تھی۔ جب قاتل حضرت علیؓ کے پاس گرفتاری کے لیے لائے گئے تو خوارج نے زور دے کر کہا کہ انہیں چھوڑ دو۔ اب صرف ایک ہی راستہ بچا تھا۔
حضرت علیؓ نے فوج تیار کی، لیکن ان کا دل جنگ کے لیے نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ انہی کے بھائی ہیں۔ انہوں نے میدانِ نہروان پہنچ کر خوارج کے پاس ایک قاصد بھیجا: “صرف قاتلوں کو حوالے کر دو، باقی سب معاف۔”
خوارج نے جواب دیا: “ہم سب قاتل ہیں، ہم سب نے فیصلہ کیا تھا۔” بات بنتی نظر نہیں آ رہی تھی۔
تب حضرت علیؓ نے اعلان کروایا: “جو شخص ہمارا لشکر چھوڑ کر چلا جائے، یا خوارج کے لشکر سے الگ ہو کر ہمارے پاس آ جائے، اس کے لیے امان ہے۔” یہ اعلان ایک کاری ضرب ثابت ہوا۔ خوارج کے لشکر میں تفرقہ پڑ گیا۔ 1,200 سے 1,500 کے قریب لوگ، جو ممکنہ طور پر صرف جذبات میں آ کر شامل ہوئے تھے، راتوں رات میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ باقی رہ گئے محض 2,800 افراد، جو اپنی بات پر ڈٹے رہنے کو تیار تھے۔
صبح ہوئی۔ حضرت علیؓ نے اپنی فوج کو حکم دیا: “تم حملہ نہ کرنا، جب تک وہ حملہ نہ کریں۔” دونوں فوجیں گھنٹوں آمنے سامنے کھڑی رہیں۔ اچانک، خوارج کی صف سے ایک شخص باہر نکلا اور چیخا: “اے علیؓ! ہمارے درمیان خدا کی کتاب حاکم ہے، اسے پکار!”
حضرت علیؓ نے جواب دیا: “میں اس سے زیادہ کتابِ خدا کا طالب ہوں۔”
یہ جواب سنتے ہی خوارج کا ایک گروہ بپھر گیا۔ انہوں نے پہلا تیر چلایا۔ پھر دوسرا۔ پھر ایک ہی جوش میں، تمام 2,800 خوارج نے اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر پر یکبارگی حملہ کر دیا۔
یہ جنگ نہیں تھی، یہ ایک قتلِ عام تھا۔ حضرت علیؓ کے تربیت یافتہ لشکر نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ تلواریں چلنے لگیں۔ آوازیں گونجنے لگیں۔ تھوڑی ہی دیر میں سب ختم ہو گیا۔
شام ڈھلتے ڈھلتے، نہروان کا میدان ایک خوفناک خاموشی میں ڈوب گیا۔ زمین 2,400 سے زائد خوارج کی لاشوں سے پٹی پڑی تھی۔ حضرت علیؓ کے لشکر سے محض سات سے تیرہ افراد شہید ہوئے تھے۔
حضرت علیؓ نے زخمیوں کے علاج کا حکم دیا۔ لاشوں کو ان کے خاندانوں کے حوالے کرنے کا بندوبست کیا گیا۔ ان کے چہرے پر فتح کی خوشی نہیں، بلکہ ایک گہرا غم تھا۔ وہ زمین پر بیٹھ گئے اور فرمایا: “افسوس! کاش میں کل ہی مر گیا ہوتا۔”
لیکن اس خونریزی سے صرف نو سے بارہ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ انہی فراریوں میں ایک نام عبدالرحمن بن ملجم المرادی کا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جس نے تقریباً دو سال بعد، 19 رمضان 40 ہجری کو، مسجد کوفہ میں نماز کی حالت میں حضرت علیؓ کے سر پر زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے وہ وار کیا، جو آپ کی شہادت کا سبب بنا۔ نہروان کا خونی سایہ، آخر کار اپنے مرکز تک پہنچ ہی گیا۔
نہروان کا میدان خالی ہو گیا، لیکن یہ اختلاف ختم نہ ہوا۔ خوارج کا نظریہ ایک آگ کی طرح پھیلتا رہا۔ وہ ایک باقاعدہ فرقہ بن گئے اور آنے والی صدیوں میں کئی بار بغاوتیں کرتے رہے۔ انہوں نے یہ خطرناک عقیدہ دیا کہ “جو ہمارا عقیدہ نہیں رکھتا، وہ کافر ہے اور اس کا قتل جائز ہے۔”
جنگ نہروان محض ایک لڑائی نہیں تھی۔ یہ وہ المناک موڑ تھا جہاں سیاسی اختلاف، مذہبی تفسیر اور تلوار کا راستہ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اس دن مسلمانوں نے پہلی بار بڑی تعداد میں اپنے ہی بھائیوں کو میدانِ جنگ میں دیکھا۔ یہ وہ زخم تھا جو کبھی پورے طور پر نہیں بھرا۔ آج بھی جب اسلامی تاریخ میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی بات ہوتی ہے، تو نہروان کا یہ واقعہ ایک گہرا اور پر درد سبق بن کر سامنے آتا ہے۔
