ایک صاحب کے حالات بہت خراب تھے۔ نہ روزگار تھا، نہ جمع پونجی۔ زندگی جیسے مشکلوں میں الجھ گئی تھی۔
ایسے میں ان کے ذہن میں شیطانی خیال آیا،
“کیوں نہ کوئی جن قابو کیا جائے، اور اس کی مدد سے دولت کمائی جائے؟”
انہیں کسی بابا جی کا پتا ملا جو عملیات میں کمال رکھتے تھے۔ بابا جی نے چالیس دن کا ایک مجرّب عمل بتایا۔
رات کے وقت اُن صاحب نے اپنے گھر کے ایک کمرے کا انتخاب کیا اور عمل شروع کر دیا۔
وہ بتاتے ہیں:
“تین دن تک عمل جاری رہا۔ اس دوران کئی ڈراؤنی شکلیں نظر آئیں، مگر میں ڈٹا رہا۔ چوتھی رات عمل کے دوران، جب میں حصار کے اندر بیٹھا تھا، اچانک ایک خوفناک نسوانی آواز گونجی…
“منّے کے ابّا… منّے کا فیڈر فریج سے نکال لائیں!”
میں چونک گیا۔ فوراً سمجھ گیا کہ کوئی ہوائی مخلوق میرے عمل کو بگاڑنے آئی ہے۔
بابا جی نے سختی سے کہا تھا، “چاہے کچھ بھی ہو جائے، حصار مت توڑنا، ورنہ جان کا خطرہ ہوگا۔”
اچانک وہی آواز پھر گونجی…
“منّے کے ابّا، جلدی فیڈر لے آؤ!”
میں نے اسے نظرانداز کیا۔ مگر دس منٹ بعد دیکھا… ایک چُڑیل میری بیوی کا چہرہ لیے میری طرف بڑھ رہی تھی!
میں ڈرا نہیں، ورد تیز کر دیا۔ کیونکہ میں تو حصار میں محفوظ تھا۔
وہ چُڑیل میرے بالکل قریب آ گئی۔
میں نے بلند آواز میں کہا،
“دفع ہو جا کمبخت! تو میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی!”
بس اتنا کہنا تھا کہ وہ چُڑیل حصار کے اندر کود آئی۔
اور اگلے ہی لمحے
اس کے ہاتھ میں بیلن تھا… اور وہ مجھ پر بیلن برسائے جا رہی تھی!
میں سمجھا یہ بھی جنّات کی کوئی چال ہے، شاید آزمائش ہو۔
میں چیخ رہا تھا اور باہر کھڑے سب جنّات پیٹ پکڑ کر زور زور سے ہنس رہے تھے۔
جب چُڑیل (یعنی میری بیگم) مجھے پِیٹ پِیٹ کر تھک گئی اور گھسیٹ کر حصار سے باہر لے گئی،
تو ایک بدتمیز جن میرے کان کے قریب آ کر بولا…
“سرکار! پہلے اپنی بیگم قابو کرو… پھر ہمارا بھی سوچ لینا
😅😅😅
