❤️ 💙 💜 💖 💗 ❤️ 💙 ❤️ 💙 💜 💖

❤️ 💙 💜 💖 💗 ❤️ 💙 ❤️ 💙 💜 💖

آپ نے بہادری کے بڑے قصے سنے ہونگے 🔥❤️
آئیں یہ بھی پڑھیں کائنات میں کوئی شخص
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر نہیں۔
ابیّ بن خلف دنیا کے بدترین انسانوں سے ایک ہے جو
جہنم کے شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گا۔یہ قریش کے نمایاں افراد میں سے ایک تھا جنگ بدر میں قیدی بنا لیکن اسے رہاکردیا گیا ۔اس احسان کا بدلہ اس نے یہ دیاکہ قسم اُٹھائی کہ میں اپنے قیمتی گھوڑے” العُود “کو روزانہ اتنے سیر مکئی کا دانہ کھلایا کروں گا اور پھر اس پر سوار ہوکر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کردوں گا۔اسکی یہ بڑجب حضور کے گوشِ انور تک پہنچی تو آپ نے فرمایا”وہ نہیں بلکہ میں اسے موت کے گھاٹ اتاروں گا،انشاءاللہ“ ۔

اُحد کے دن وہ اپنے اسی گھوڑے پر سوار ہوکر شریک ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا ”خیال رکھنا ،مباداکہ ابّی بن خلف مجھ پر عقب سے حملہ آور ہو،تم اسے دیکھو تو مجھے اطلاع دے دینا “۔یہ ارشاد اس لیے ہوا کہ حضور لڑائی کے دوران پیچھے مڑکر نہیں دیکھا کرتے تھے،جب حضور اُحد کی گھاٹی پر تھے تو اچانک یہ آدھمکا۔اس نے سر پر خود اورچہرے پر آہنی نقاب ڈالا ہوا تھا وہ گھوڑے کو ایڑ لگاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا ،وہ کہہ رہا تھا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کہاں ہیں؟اگروہ بچ گئے میرا بچنا محال ہے اسکے عزائم بھانپ کر بہت سے مجاہدین نے اس کا راستہ روکنا چاہا، لیکن حضور علیہ السلام نے بلند آواز سے کہا ”اسے چھوڑدو،اس کا راستہ خالی کردو۔“پھر حضور نے ابّی سے کہا ”اے کذاب! اب بھاگ کر کہاں جاتے ہو؟

آپ نے حارث بن صِمہ کے ہاتھ سے چھوٹا نیزہ پکڑ لیا اورایک ایسے عالمِ جلال میں بڑے جوش سے جھرجھری لی کہ صحابہ کرام بھی اسکی تاب نہ لاسکے اور دیکھنے والوں کے بدن پر لرزہ طاری ہوگیا ۔ آپ نے اکیلے اسکے سامنے کھڑے ہوکر نیزے سے اسکی گردن کے اس حصے پر ضرب لگائی جو خود اور زرہ کے درمیان ننگا رہ گیا تھا،پھر کیا تھا اُسکے توحواس باختہ ہوگئے، سر چکراگیا گھوڑے کی پشت سے غش کھا کر لڑھکنے لگا، اس ضرب سے بظاہر معمولی خراش آئی تھی لیکن بظاہر معمولی چوٹ نے اسکے سینے کی پسلیاں اورجسم کی ہڈیاں کڑکڑادی تھیں اور سر پیٹتا ،چیختاچلاتا اپنی قوم کے پاس پہنچا ۔

بخدا مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قتل کردیا ،لوگوں نے معمولی خراش دیکھی تو کہنے لگے ،حد ہوگئی تمہاری بزدلی کی بھی،کوئی گہرا زخم تو آیا نہیں اورتم نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا ہے ۔اس قسم کی خراش توہم میں سے کسی کی آنکھ پر بھی لگ جاتی تو قطعاً نقصان دہ نہ ہوتی۔ وہ کہنے لگا ،لات اورعزٰی کی قسم ! جو چوٹ مجھے لگی ہے وہ چوٹ اگر ربیعہ اورمضر قبائل کو بھی لگتی تو سارے کے سارے ہلاک ہوجاتے اوروہ بالکل درست کہہ رہا تھا۔ اُن غفلت شعاروں کو کیا خبر کہ نبی کی قوت کیا ہوتی ہے اوراسکی لگائی ہوئی ضرب کا اثر کیا ہوتا ہے اورکہاں تک ہوتا ہے۔ وہ واپسی کے سارے سفر میں اسی اذیت میں مبتلا رہا اورمکہ کے قریب سرف کے مقام پر پہنچ کر ہلاک ہوگیا اور جہنم کے بدترین اورشدید ترین عذاب کا ایندھن بن گیا۔

واللہ اعلم بالصواب ۔
دوستو….!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے.

Leave a Reply

NZ's Corner