گھنے جنگل میں ایک پرانا الو رہتا تھا جسے جانور دانا سمجھتے تھے۔ وہ کم بولتا، مگر جب بولتا تو سب خاموش ہو جاتے۔ اسی جنگل میں ایک بندر بھی تھا جو نہایت چالاک، باتونی اور مجمع پسند تھا۔
جب بھی جنگل میں کوئی مسئلہ ہوتا، مجلس بلائی جاتی۔ الو سوچ سمجھ کر رائے دیتا، مگر بندر ہمیشہ شور مچاتا، قصے سناتا اور اپنی بات کو عقل کہہ کر پیش کرتا۔
ایک سال جنگل میں خوراک کی شدید کمی ہو گئی۔ مجلس بلائی گئی کہ کیا کیا جائے۔ الو نے کہا:
“ہمیں شکار کی حد مقرر کرنی چاہیے، ورنہ جنگل خالی ہو جائے گا۔”
بندر فوراً اچھل پڑا:
“یہ بوڑھا الو ہمیں ڈرانا چاہتا ہے۔ جو طاقتور ہے وہ کھائے، جو کمزور ہے وہ سیکھے!”
بندر کی بات پر تالیاں بجیں۔ جانوروں نے اسی پر عمل کیا۔
چند مہینوں میں جنگل ویران ہو گیا۔ شکار ختم، درخت اجڑ گئے۔ بندر دوسرے جنگل کی طرف بھاگ گیا، مگر باقی جانور پھنس گئے۔
آخر میں جب پھر مجلس ہوئی تو الو نے بس اتنا کہا:
“عقل کی آواز اکثر کمزور ہوتی ہے، مگر اس کا انجام سب سے گہرا ہوتا ہے۔”
شور اور عقل میں فرق نہ کیا جائے تو فیصلہ بھی شور کے حق میں ہو جاتا ہے، اور نقصان سب کو اٹھانا پڑتا ہے۔
