لوہے کی تلوار اور سونے کی میان🤔

لوہے کی تلوار اور سونے کی میان🤔


ایک بادشاہ کے پاس دو تلواریں تھیں۔ ایک تلوار خالص سونے کی میان میں تھی جس پر ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے، جبکہ دوسری ایک معمولی لوہے کی تلوار تھی جو پرانے لکڑی کے خول میں پڑی رہتی تھی۔
سونے کی میان والی تلوار ہمیشہ اتراتی اور کہتی: “دیکھو! میں بادشاہ کی زینت ہوں، جب دربار سجتا ہے تو سب کی نظریں مجھ پر ہوتی ہیں۔ تم تو اتنی بدصورت اور زنگ آلود ہو کہ تمہیں کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔” لوہے کی تلوار خاموش رہتی کیونکہ اسے اپنی اوقات معلوم تھی۔
ایک دن اچانک ریاست پر دشمن نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے فوراً اپنی چمکدار سونے کی تلوار اٹھائی، لیکن جیسے ہی میدانِ جنگ میں اس سے وار کیا، وہ سونا نرم ہونے کی وجہ سے مڑ گئی اور کسی کام نہ آئی۔ بادشاہ نے گھبرا کر وہ پرانی لوہے کی تلوار نکالی۔ اس کی دھار اتنی تیز تھی کہ اس نے دشمن کی ڈھالوں کے پرخچے اڑا دیے اور بادشاہ کو فتح نصیب ہوئی۔

سبق: قیمتی وہ نہیں جو دکھنے میں اچھا ہو، بلکہ وہ ہے جو وقتِ ضرورت کام آئے۔

Leave a Reply

NZ's Corner