سسرال کی دعوت اور “شرمیلا” داماد 🍗
یہ قصہ ہے نصیر صاحب کا، جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ نصیر صاحب ویسے تو ماشاءاللہ سے “کھاؤ پیو” قسم کے انسان تھے، لیکن سسرال میں اپنی شرافت اور نفاست کا رعب جمانے کے لیے انہوں نے “کم گو اور کم خور” بننے کی اداکاری شروع کر رکھی تھی۔
ایک بار انہیں سسرال سے خصوصی دعوت آئی۔ ساس صاحبہ نے داماد کے لیے دیسی گھی کے پراٹھے، کڑاہی گوشت، مچھلی اور کھیر کا اہتمام کیا۔ دسترخوان پر بیٹھ کر نصیر صاحب کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے، لیکن شرم کے مارے انہوں نے ایسے منہ بنایا جیسے انہیں بھوک ہی نہ ہو۔
ساس نے پیار سے کہا: “نصیر میاں! ایک پراٹھا اور لیں نا۔”
نصیر صاحب نے ایک چھوٹی سی نوالہ لیتے ہوئے کہا: “جی نہیں امی جی! بس آدھا پراٹھا ہی کافی ہے، میرا معدہ بہت نازک ہے، زیادہ نہیں کھا پاتا۔”
اندر سے ان کا معدہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا: “ظالم انسان! پورا پراٹھا ادھر آنے دے”، لیکن نصیر صاحب مسکراتے رہے۔
رات کے دو بجے نصیر صاحب کی آنکھ کھلی تو پیٹ میں بھوک کے مارے چوہے نہیں بلکہ ہاتھی ناچ رہے تھے۔ انہیں یاد آیا کہ کچن میں قورمے کی پتیلی اور پراٹھے بچ گئے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ سب سو رہے ہیں، کیوں نہ خاموشی سے کچن پر “سرجیکل اسٹرائیک” کی جائے۔
وہ دبے پاؤں کچن میں پہنچے۔ اندھیرا تھا، اس لیے انہوں نے لائٹ نہیں جلائی کہ کہیں کوئی جاگ نہ جائے۔ انہوں نے اندھیرے میں ہاتھ مارا تو ایک پتیلی ہاتھ لگی۔ انہوں نے سوچا یہ “قورمہ” ہے۔ بغیر کچھ سوچے سمجھے انہوں نے پتیلی سے ایک بڑی بوٹی اٹھائی اور منہ میں ڈال لی۔
جیسے ہی انہوں نے دانت مارے، ان کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔ وہ بوٹی نہیں تھی بلکہ کچا کریلا تھا جو ساس نے صبح پکانے کے لیے کڑوے پانی میں بھگو کر رکھا ہوا تھا!
کڑواہٹ اتنی شدید تھی کہ نصیر صاحب کا دماغ گھوم گیا۔ انہوں نے جلدی سے پانی پینے کے لیے قریب پڑے ایک جگ کو اٹھایا اور غٹ غٹ پی گئے۔ لیکن وہ پانی نہیں تھا، بلکہ املی اور آلو بخارے کا وہ کھٹا عرق تھا جو ساس نے چٹنی کے لیے نکال کر رکھا تھا۔
اب حالت یہ تھی کہ ایک طرف کڑواہٹ اور دوسری طرف دانت کھٹے کرنے والی کھٹاس! نصیر صاحب نے گھبرا کر پیچھے قدم ہٹایا تو ان کا پاؤں کچن میں رکھی خالی بوتلوں کے ڈھیر سے ٹکرا گیا۔
“ٹھاہ! دھڑام! کڑ کڑ!”
سارے گھر والے جاگ گئے۔ سالے لاٹھیاں لے کر کچن کی طرف بھاگے کہ “چور آگیا!”۔ جیسے ہی سسر نے لائٹ جلائی، سب کے سامنے ایک عجیب منظر تھا۔ نصیر صاحب کچن کے کونے میں بیٹھے تھے، ایک ہاتھ میں کچا کریلا تھا، منہ سے املی کا پانی بہہ رہا تھا اور چہرہ ایسا بنا ہوا تھا جیسے انہوں نے زہر پی لیا ہوجب ساس نے پوچھا کہ “بیٹا! آدھی رات کو کچن میں کیا کر رہے ہو؟” تو نصیر صاحب کے منہ میں کڑوے کریلے اور کھٹی املی کا ایسا طوفان برپا تھا کہ وہ بولنے کے قابل ہی نہ تھے۔ انہوں نے گھبرا کر پاس پڑا ایک ڈبہ اٹھایا اور اسے “چینی” سمجھ کر مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لیا تاکہ کڑواہٹ ختم ہو۔
لیکن وہ چینی نہیں بلکہ “واشنگ پاؤڈر (سرف)” تھا!
اب جیسے ہی نصیر صاحب نے اسے نگلنے کی کوشش کی، ان کے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو گئی۔ سالے نے چیخ ماری: “ابا جی! لگتا ہے کچا کریلا کھا کر داماد جی کو ‘ریبیز’ (ہلکا پن) ہو گیا ہے، یہ تو پاگل کتے کی طرح جھاگ نکال رہے ہیں!”
سسر صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، قریب پڑا پانی کا پائپ کھولا اور نصیر صاحب کے منہ میں ٹھونس دیا تاکہ “زہر” باہر نکل آئے۔ نصیر صاحب کا پیٹ غبارے کی طرح پھول گیا اور وہ پورے کچن میں فٹ بال کی طرح لڑھکنے لگے۔
آخر کار جب انہیں اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹر نے رپورٹ دیکھ کر کہا:
“گھبرانے کی بات نہیں، مریض کا معدہ بالکل صاف ہو چکا ہے، بس اب ان کے پیٹ سے ڈکار کے بجائے صابن کے ‘بلبلے’ نکلیں گے!
اگلے ایک ہفتے تک نصیر صاحب جب بھی بات کرنے کے لیے منہ کھولتے، ایک چمکتا ہوا صابن کا بلبلہ ہوا میں اڑتا نظر آتا۔ سسرال والوں نے اب ان کا نام “ببل بھائی” رکھ دیا تھا 😂😂
اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہو تو کمنٹ ضرور کریں۔ اور پیج کو فالو کر دیں
