بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!


ایک بہت بڑا عالم (بہت پڑھا لکھا شخص) دریا پار کرنے کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوا۔
کشتی چلانے والا ایک سادہ سا دیہاتی “ملاح” تھا۔
جب کشتی بیچ دریا میں پہنچی تو عالم نے اپنی علمیت جھاڑنے کے لیے ملاح سے پوچھا:
“بڑے میاں!… کیا تم نے کبھی ‘تاریخ’ (پرانے زمانے کے قصے) پڑھی ہے؟”

ملاح نے عاجزی سے کہا:
“نہیں جناب!… میں تو ان پڑھ ہوں، مجھے لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔”

عالم نے افسوس سے سر ہلایا اور کہا:
“بڑے افسوس کی بات ہے!… تم نے اپنی ‘آدھی زندگی’ برباد کر دی۔ انسان کو تاریخ کا علم تو ہونا چاہیے۔”

تھوڑی دیر بعد عالم نے پھر پوچھا:
“اچھا یہ بتاؤ… کیا تم نے کبھی ‘جغرافیہ’ (زمین اور نقشوں کا علم) پڑھا ہے؟”

ملاح نے شرمندہ ہو کر کہا:
“نہیں سرکار!… میں نے تو اسکول کی شکل بھی نہیں دیکھی۔”

عالم نے طنزیہ انداز میں کہا:
“تمہاری تو ‘تین چوتھائی’ (75 فیصد) زندگی برباد ہو گئی ہے۔ تم نے دنیا میں آ کر کیا سیکھا؟”

ملاح خاموش رہا اور دل ہی دل میں بہت دکھی ہوا۔
اچانک دریا میں تیز طوفان آ گیا۔ لہریں اونچی ہونے لگیں اور کشتی ڈگمگانے لگی۔ پانی کشتی کے اندر آنے لگا۔
حالات خراب ہوتے دیکھ کر ملاح نے عالم کی طرف دیکھا، جو ڈر کے مارے کانپ رہا تھا اور کشتی کے کنارے کو مضبوطی سے پکڑے بیٹھا تھا۔

ملاح نے بلند آواز میں پوچھا:
“جناب!… جناب!… کیا آپ نے کبھی ‘تیرنا’ (تیراکی) سیکھا ہے؟”

عالم کا رنگ پیلا پڑ گیا، اس نے چیخ کر کہا:
“نہیں!… مجھے تیرنا بالکل نہیں آتا!”

ملاح نے چھلانگ لگانے سے پہلے مسکرا کر، بہت ہی ادب اور اطمینان سے کہا:

.
.
“تو پھر بڑے افسوس کی بات ہے جناب!…”
“میری تو صرف ‘آدھی’ زندگی برباد ہوئی تھی…”
“لیکن اب آپ کی تو ‘پوری’ زندگی برباد ہونے والی ہے… کیونکہ کشتی ڈوبنے والی ہے!”

😂 نتیجہ
کتابی علم اپنی جگہ، لیکن دنیا میں تیرنا بھی آنا چاہیے!

Leave a Reply

NZ's Corner