سردار جی سو رہے تھے کہ ایک مچھر نے انہیں کاٹ لیا۔
سردار جی غصے میں اٹھے، مچھر کو پکڑا اور مارنے کی بجائے پیار سے سہلا کر چھوڑ دیا۔
مچھر حیران ہو کر بولا: “سردار جی! میں نے آپ کا خون پیا اور آپ نے مجھے چھوڑ دیا؟”
سردار جی نے مسکرا کر کہا:
“جا بیٹا عیش کر! آخر تیری رگوں میں اب میرا خون دوڑ رہا ہے!”
سردار جی اور چوہے
ایک بار سردار جی کے گھر میں بہت زیادہ چوہے (Rats) ہو گئے۔
وہ تنگ آ کر میڈیکل سٹور پر گئے اور دکاندار سے کہا:
“یار! چوہے مارنے والی دوائی دے دو، بہت پریشان ہوں۔”
دکاندار نے دوائی کا پیکٹ نکالا اور پوچھا:
“سردار جی! یہ دوائی گھر لے کر جانی ہے؟”
سردار جی نے حیرت سے دکاندار کو دیکھا، تھوڑا سا غصہ کیا اور بولے:
“نہیں اوئے بھائی!۔۔۔ میں سارے ‘چوہے’ ساتھ لے کر آیا ہوں، ادھر کرسی پر بٹھا کر کھلا دوں گا!!”
🐁💊😂😂
