بلاعنوان۔۔۔😂!

بلاعنوان۔۔۔😂!

چوہدری صاحب کو اصیل مرغے پالنے کا جنون تھا، اسی چکر میں وہ ایک ایسا ‘لال بجھکڑ’ مرغہ لے آئے جو دکھنے میں جتنا رعب دار تھا، دماغی طور پر اتنا ہی ‘شارٹ سرکٹ’ کا شکار تھا۔ اس مرغے کا فلسفہ یہ تھا کہ جب اسے نیند نہ آئے، تو پورا علاقہ جاگنا چاہیے۔
ایک رات جب پورا گاؤں سکون کی نیند سو رہا تھا، اچانک بادل گرجا۔ مرغے نے سمجھا شاید اس کے اعزاز میں تالیاں بج رہی ہیں، اس نے جوشِ خطابت میں آ کر رات کے پونے تین بجے ایسی ‘انقلابی’ اذان دی کہ گاؤں کے نمبردار، سائیں بخش، بستر سے اچھل کر سیدھے فرش پر جا گرے۔ سائیں بخش نے گھڑی دیکھنے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھا اور کالی گھٹاؤں کو صبح کی سفیدی سمجھ کر شور مچا دیا کہ “اوئے دوڑو! فجر نکل رہی ہے اور تم اب تک غفلت میں پڑے ہو!”
سائیں بخش کی آواز سن کر پورا گاؤں ‘ایمرجنسی’ موڈ میں آگیا۔ کسانوں نے اندھیرے میں ہی ٹریکٹر اسٹارٹ کر دیے، دکانوں کے شٹر ایسے گرے جیسے کوئی سیل لگی ہو، اور اسکول کے ماسٹر صاحب نے نیند میں ہی بچوں کو ‘مرغہ’ بنانا شروع کر دیا کیونکہ انہیں لگا وہ لیٹ ہو چکے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد کے باہر تالاب پر وضو کرنے والوں کا ایسا رش لگا کہ جیسے مفت راشن بٹ رہا ہو۔
جب امام صاحب نے کھڑکی سے باہر مجمع دیکھا تو پریشان ہو کر باہر نکلے اور پوچھا “خیر تو ہے؟ کیا قیامت آگئی ہے؟” مجمع چلایا، “حضرت! نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے اور آپ اب تک واسکٹ ڈھونڈ رہے ہیں؟” امام صاحب نے کلاک کی طرف اشارہ کیا تو سب کے طوطے اڑ گئے؛ ابھی تو رات کا پچھلا پہر تھا اور سورج نکلنے میں ابھی کئی گھنٹے باقی تھے۔
اب غصے کا رخ چوہدری صاحب کے ڈیرے کی طرف مڑا۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ ‘فتنہ خور’ مرغہ چوہدری صاحب کی نئی نویلی امپورٹڈ جیپ کے ہڈ پر بیٹھا دوبارہ تقریر جھاڑنے کی تیاری کر رہا تھا۔ جیسے ہی نوجوانوں نے اسے پکڑنے کے لیے کمبل پھینکا، مرغہ چھلانگ مار کر قریب لگی ‘ہلدی اور مرچوں’ کی بوریوں میں جا گھسا۔ جب وہ وہاں سے نکلا تو ایک ‘زرد بھوت’ بن چکا تھا اور جس جس کے اوپر سے گزرا، ان کے استری شدہ کپڑوں پر پیلے رنگ کے ایسے نقش و نگار بنائے کہ سب ‘ہلدی لگی بارات’ کا منظر پیش کرنے لگے۔
آخر کار چوہدری صاحب نے جوتے پہنتے ہوئے اعلان کیا کہ اس ‘خود ساختہ لیڈر’ کا انجام اب صرف دیگ میں ہی ممکن ہے۔ اس رات فجر کی نماز تو اپنے وقت پر ہوئی، لیکن نماز کے بعد پورے گاؤں نے اسی مرغے کا ‘قورمہ’ کھا کر چین کی نیند لی۔ کھاتے ہوئے سائیں بخش نے ایک تاریخی جملہ کسا: “چوہدری صاحب! اس کی اذان تو جھوٹی تھی، پر بوٹی بالکل سچی ہے!”

Leave a Reply

NZ's Corner