ایک بار سردار جی ایک الیکٹرانکس کی دکان پر گئے اور ایک چیز کی طرف اشارہ کر کے دکاندار سے پوچھا:
“یار! ذرا بتانا یہ ‘ٹی وی’ (TV) کتنے کا ہے؟”
دکاندار نے انہیں غور سے دیکھا اور غصے سے بولا:
“ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے! جاؤ یہاں سے۔”
سردار جی کو بڑی بے عزتی محسوس ہوئی۔ وہ گھر گئے، انہوں نے سوچا کہ دکاندار نے پگڑی کی وجہ سے مجھے پہچان لیا تھا۔
اگلے دن سردار جی نے پگڑی اتاری، کلین شیو کی، پینٹ کوٹ پہنا، ہیٹ لگائی اور پورے “انگریز” بن کر دوبارہ اسی دکان پر گئے۔
سٹائل مارتے ہوئے بولے:
“ایکسکیوز می! (Excuse me!) ذرا بتائیں گے کہ یہ ‘ٹی وی’ کتنے کا ہے؟”
دکاندار نے انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر بولا:
“بھائی صاحب! میں نے کل بھی کہا تھا، ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے!”
سردار جی حیران رہ گئے کہ اس نے پھر پہچان لیا!
وہ واپس گئے اور اس بار انہوں نے ایک مکمل “برقعہ” پہنا، چہرے پر نقاب ڈالا اور عورتوں کی طرح باریک آواز نکالتے ہوئے دکان پر پہنچے۔
عورتوں والی آواز میں بولے:
“بھائی جان! ذرا اس ‘ٹی وی’ کی قیمت تو بتائیے گا۔”
دکاندار نے سر پکڑا اور بولا:
“باجی! میں آپ کو آخری بار بتا رہا ہوں کہ ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے!!”
سردار جی کا دماغ گھوم گیا۔ انہوں نے غصے سے برقعہ اتارا اور دکاندار کا گریبان پکڑ کر بولے:
“اوئے ظالم انسان! تو کوئی نجومی ہے یا جادوگر؟ میں نے کلین شیو کی، انگریزوں والے کپڑے پہنے، عورتوں والا برقعہ پہنا۔۔۔ پھر بھی تجھے کیسے پتا چل جاتا ہے کہ میں ‘سردار’ ہوں؟؟؟”
دکاندار نے ٹھنڈی آہ بھری، اس چیز کی طرف اشارہ کیا اور بولا:
“کیونکہ سردار جی!۔۔۔ جس چیز کو آپ پچھلے تین دن سے ‘ٹی وی’ سمجھ کر اس کی قیمت پوچھ رہے ہیں نا۔۔۔ وہ دراصل ‘مائیکرو ویو اوون’ (Microwave Oven) ہے!!”
📺🍕🤯😂😂
(دکاندار کی بھی برداشت جواب دے گئی تھی!)
منقول
