ایک دانا شخص کی گاڑی گاؤں کے قریب خراب ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ گاؤں والوں سے مدد طلب کی جائے۔ وہ جیسے ہی بستی میں داخل ہوا تو اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی جو چارپائی پر بیٹھا تھا اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی تھیں۔ ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی تھا جو بالکل ان ہی کی طرح زمین سے دانہ چن رہا تھا۔
دانا شخص یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور اپنی گاڑی کی خرابی بھول کر اس بوڑھے سے پوچھنے لگا: “یہ قدرت کے خلاف کیسے ممکن ہوا کہ ایک شاہین کا بچہ مرغیوں کے ساتھ زمین پر دانہ چگ رہا ہے؟”
بوڑھے نے جواب دیا: “دراصل یہ بچہ جب صرف ایک دن کا تھا، تب مجھے پہاڑ سے گرا ہوا ملا۔ میں اسے اٹھا لایا، یہ زخمی تھا۔ میں نے اس کی مرہم پٹی کی اور اسے مرغی کے چوزوں کے ساتھ رکھ دیا۔ جب اس نے پہلی بار آنکھیں کھولیں تو خود کو چوزوں کے درمیان پایا، چنانچہ یہ خود کو بھی مرغی کا بچہ سمجھنے لگا اور ان ہی کی طرح دانہ چگنا سیکھ لیا۔”
اس دانا شخص نے دیہاتی سے درخواست کی کہ یہ باز کا بچہ اسے تحفے میں دے دے یا اس کی قیمت لے لے، کیونکہ وہ اس پر تحقیق کرنا چاہتا تھا۔ گاؤں والے نے وہ بچہ اسے تحفے میں دے دیا۔ وہ شخص اپنی گاڑی ٹھیک کروا کر گھر واپس آگیا۔
وہ روزانہ اسے چھت سے نیچے پھینکتا لیکن باز کا بچہ مرغیوں کی طرح پر سکیڑ کر گردن چھپا لیتا اور نیچے گر جاتا۔ وہ روزانہ اسے میز پر بٹھاتا اور کہتا: “تم باز ہو، مرغی نہیں! اپنی پہچان کرو۔” اس نے کئی روز تک مختلف زبانوں اور انداز میں اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اپنی اصل شناخت پہچانے اور اپنے اندر چھپی شاہین کی صفت کو جگائے۔
آخر کار وہ دانا شخص اسے ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر لے گیا اور کہا: “خود کو پہچاننے کی کوشش کرو، تم ایک آزاد اور بلند پرواز باز ہو!” یہ کہہ کر اس نے اسے گہرائی میں پھینک دیا۔ باز کا بچہ پہلے تو بری طرح ڈر گیا، اس نے گردن جھکائی، پر سکیڑ لیے اور آنکھیں بند کر لیں۔ لیکن جب اسے محسوس ہوا کہ زمین ابھی بہت دور ہے، تو اس نے زندگی بچانے کے لیے اضطراری طور پر پر پھڑپھڑائے۔ بالکل ویسے ہی جیسے دریا میں گرنے والا شخص تیرنا نہ جاننے کے باوجود ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔
فطری صلاحیت جاگ اٹھی اور وہ فضا میں اپنا توازن برقرار رکھنے لگا۔ چند ہی لمحوں میں وہ بلندیوں کی طرف اڑنے لگا۔ وہ خوشی سے چیخا اور مزید بلند ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ اس دانا شخص کی نظروں سے بھی اونچا نکل گیا۔ اوپر پہنچ کر اس نے ایک بار نیچے دیکھا جیسے وہ اس احسان کا شکریہ ادا کر رہا ہو۔
دانا شخص نے پکار کر کہا: “اے باز! میں نے تجھے کچھ نیا نہیں دیا، صرف تیری اصل شناخت لوٹائی ہے۔ یہ کمال صلاحیتیں تو پہلے سے تیرے اندر تھیں لیکن تو ان سے بے خبر تھا۔”
حاصلِ کلام:
یہی معاملہ ہم انسانوں کا ہے۔ اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ محض باصلاحیت ہونا اتنی بڑی بات نہیں، اصل کمال یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیت کا استعمال کیسے کرتے ہیں اور اس سے اپنی شخصیت میں کیا نکھار پیدا کرتے ہیں۔
