کیا آپ نے عثمانی سلطنت کے “مجانین” دستے کے بارے میں سنا ہے؟
عثمانی سلطنت کی تاریخ میں کئی ایسے فوجی دستے تھے جنہوں نے اپنی بہادری اور منفرد انداز کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ انہی میں سے ایک مشہور دستہ “المجانین” یا دیلی (Deli) سپاہی تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق اس طرح کے غیر معمولی جری سپاہیوں کو باقاعدہ طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ سلطان محمد فاتحؒ (سلطان محمد ثانی) کے دور میں 1453ء کے بعد زیادہ منظم شکل میں سامنے آیا، جب قسطنطنیہ کی فتح کے بعد عثمانی فوج کو مزید طاقتور اور نفسیاتی جنگ کے لیے تیار کیا گیا۔
یہ دراصل عثمانی سلطنت کی ایک خاص قسم کی فوجی یونٹ یا اسپیشل فورس تھی، جو ینی چری (Janissaries) اور سپاہی گھڑ سواروں (Sipahi cavalry) کے ساتھ میدانِ جنگ میں شامل ہوتی تھی۔ اس زمانے میں انہیں دنیا کی طاقتور اور خوفناک جنگی جماعتوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں یہ منفرد فوجی طبقہ “المجانین” (دیوانے یا بے خوف سپاہی) کے نام سے مشہور ہوگیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عثمانی عوام نے انہیں “مجنون” اس لیے نہیں کہا کہ وہ واقعی پاگل تھے، بلکہ اس نام کی وجہ ان کا بے مثال حوصلہ، غیر معمولی جرات اور عجیب و غریب جنگی لباس تھا۔ میدانِ جنگ میں ان کی بے خوفی ایسی ہوتی تھی کہ دشمن انہیں دیکھ کر ہی خوفزدہ ہوجاتا تھا۔ دراصل یہ سپاہی اپنے آپ کو اصل میں “دیلی” (Deli) کہتے تھے، جس کا مطلب تھا دلیر اور خطرہ مول لینے والا، لیکن عوام میں وہ مجانین کے نام سے زیادہ مشہور ہوگئے۔
یہ دستہ عام طور پر 20 سے 25 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ ان کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی تھی کہ وہ عثمانی فوج سے آگے بڑھ کر دشمن کی صفوں کے قریب پہنچیں اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی دشمن کے حوصلے پست کردیں۔ وہ اچانک حملہ، خوفناک نعروں اور غیر معمولی انداز سے دشمن کے لشکر میں نفسیاتی خوف اور افراتفری پیدا کرتے تھے، جس کے بعد عثمانی فوج کے لیے فتح حاصل کرنا آسان ہوجاتا تھا۔
عثمانی سیاح اور مؤرخ اولیا چلبی نے اپنی مشہور کتاب “سیاحت نامہ” میں ان سپاہیوں کا حیرت انگیز انداز میں ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“ان کے لباس شیر، چیتے، لکڑ بگھے اور ریچھ کی کھالوں سے بنے ہوتے تھے، اور وہ اپنی پشت اور بغلوں کے نیچے عقاب کے پر لگاتے تھے۔”
اسی طرح کئی یورپی مؤرخین اور سفرنامہ نگاروں نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس دستے کے نوجوان طاقتور جسموں، لمبے بالوں اور مضبوط بازوؤں کے مالک ہوتے تھے۔ میدانِ جنگ میں یہی لوگ سب سے پہلے دشمن پر ٹوٹ پڑتے تھے، اور ان کے نعروں اور آوازوں کو اکثر شیر کی دھاڑ سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ ان کا مقصد دشمن کو اس قدر خوفزدہ کرنا ہوتا تھا کہ اس کے حوصلے پہلے ہی ٹوٹ جائیں۔
عثمانی فوجی نظام میں اس قسم کی نفسیاتی جنگ ایک اہم حکمت عملی تھی۔ خاص طور پر 16ویں اور 17ویں صدی میں جب عثمانی سلطنت یورپ، بلقان اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگیں لڑ رہی تھی، اس وقت دیلی سپاہی سرحدی علاقوں اور اہم محاذوں پر استعمال کیے جاتے تھے۔ بعد کے زمانے میں یہ دستے زیادہ تر بلقان کے محاذوں پر دیکھے گئے۔
اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ عثمانی فوج میں اصلاحات آئیں اور 18ویں صدی کے آخر اور 19ویں صدی میں پرانے فوجی نظام میں تبدیلیاں شروع ہوگئیں، لیکن اس کے باوجود “مجانین” یا دیلی سپاہیوں کی بہادری اور انوکھا انداز عثمانی عسکری تاریخ کا ایک یادگار باب بن گیا۔
یہ وہ سپاہی تھے جو دشمن کے سامنے موت کو بھی خاطر میں نہ لاتے تھے، اور ان کی یہی جرات عثمانی سلطنت کی فتوحات میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہی۔
منقول
