صاحبزادے جب انگلستان کی یونیورسٹی سے “علمِ منطق” (Logic) کی ڈگری لے کر وطن لوٹے، تو ان کے اندازِ گفتگو میں ارسطو کی جھلک اور چال ڈھال میں افلاطون کی شان تھی۔ ابھی گھر پہنچے ایک دن ہی ہوا تھا کہ ناشتے کی میز پر علمی مباحثے کا بازار گرم ہو گیا۔
والد صاحب نے سادگی سے پوچھا، “بیٹا! اتنے سال ولایت میں رہے، وہاں سے آخر سیکھ کر کیا آئے ہو؟”
بیٹے نے عینک کے پیچھے سے ایک پراسرار نظر اپنے والد پر ڈالی اور بڑے فخر سے کہا، “قبلہ والد صاحب! میں نے وہ علم حاصل کیا ہے جو عقل کو دنگ کر دے۔ میں نے ‘علمِ منطق’ پڑھا ہے، جس کے ذریعے انسان ناممکن کو ممکن اور ایک کو دو ثابت کر سکتا ہے۔”
والد صاحب نے چائے کا گھونٹ بھرا اور حیرت سے پوچھا، “بھئی، اس کا عملی زندگی میں فائدہ کیا ہے؟”
بیٹے کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کا سنہری موقع مل گیا۔ اس نے میز پر پڑے ہوئے ایک اکیلے انڈے کی طرف اشارہ کیا اور گویا ہوا:
“والد صاحب! آپ کی سادہ نظروں کو یہاں صرف ایک انڈا دکھائی دے رہا ہے، لیکن میں اپنے ٹھوس دلائل اور منطقی کلیات کی رو سے ابھی یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ یہاں ایک نہیں بلکہ دو انڈے موجود ہیں!”
اس کے بعد صاحبزادے نے علم کے دریا بہا دیے۔ فلسفے کی گتھیاں سلجھائیں، ریاضی کے اصولوں کا تڑکا لگایا اور ایسی ایسی منطقی موشگافیاں کیں کہ قریب تھا کہ میز پر واقعی دوسرا انڈا نمودار ہو جاتا۔ اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد انہوں نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ والد کی طرف دیکھا، جیسے کہہ رہے ہوں کہ “کیوں؟ ہو گئے نا قائل؟”
والد صاحب نے بڑے تحمل سے بیٹے کی تمام “بونگیاں” سنیں، پھر نہایت اطمینان سے وہ واحد انڈا اٹھایا، اسے چھیلا اور کھانے سے پہلے بڑے پیار سے بولے:
“بہت خوب بیٹا! تمہارا علم تو واقعی کمال کا ہے۔ چلو اب ایسا کرتے ہیں کہ یہ ‘اصلی’ والا انڈا تو میں کھا لیتا ہوں، اور وہ ‘دوسرا’ جو تم نے اپنی منطق سے ثابت کیا ہے، اسے تم کھا کر اپنا شوق پورا کر لو!”
کتابی منطق سے آپ بحث تو جیت سکتے ہیں، لیکن زندگی کے تجربے سے لڑنا ممکن نہیں۔ یاد رکھیے، باپ کے سامنے “ہوشیاری” دکھانے کا نتیجہ اکثر بھوکا رہ کر ہی نکلتا ہے۔
