گیارھواں گدھا۔۔۔😄!

گیارھواں گدھا۔۔۔😄!

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیخ صاحب اپنے دس گدھوں کو لے کر شہر کے بازار میں بیچنے جا رہے تھے۔ راستہ لمبا تھا اور دھوپ تیز تھی، اس لیے شیخ صاحب تھک گئے اور اپنے ایک گدھے پر سوار ہو گئے۔ باقی نو (9) گدھے ان کے آگے آگے چل رہے تھے۔
چلتے چلتے شیخ صاحب کو خیال آیا کہ کہیں کوئی گدھا ادھر ادھر نہ ہو گیا ہو، تو انہوں نے گدھے گننے کا فیصلہ کیا۔
گدھے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے گنتی شروع کی: “ایک، دو، تین، چار… آٹھ، نو۔”
شیخ صاحب پریشان ہو گئے! “ارے! یہ کیا؟ میرے تو دس گدھے تھے، یہ نو کیسے رہ گئے؟”
وہ گھبرا کر فوراً گدھے سے نیچے اترے۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا، جھاڑیوں کے پیچھے جھانکا، مگر کوئی گدھا نظر نہیں آیا۔ پھر انہوں نے اطمینان کے لیے کھڑے ہو کر دوبارہ گنتی کی: “ایک، دو، تین… نو، دس!”
شیخ صاحب نے سکون کا سانس لیا۔ “شکر ہے، پورے دس ہیں۔ شاید میری آنکھوں کو دھوکا ہوا تھا۔”
وہ خوشی خوشی دوبارہ اسی گدھے پر سوار ہو گئے اور سفر جاری رکھا۔ تھوڑی دور جا کر ان کے دل میں پھر شک پیدا ہوا۔ انہوں نے پھر بیٹھے بیٹھے گنتی شروع کی: “ایک، دو، تین… نو۔”
پھر وہی نو! شیخ صاحب کا سر چکرانے لگا۔ وہ پھر تیزی سے نیچے اترے اور گنتی کی تو گدھے پورے دس نکلے۔
شیخ صاحب بہت الجھن میں پڑ گئے۔ انہوں نے سوچا: “یہ کیا جادو ہے؟ جب میں سوار ہوتا ہوں تو ایک گدھا کم ہو جاتا ہے، اور جب پیدل چلتا ہوں تو پورے ہو جاتے ہیں۔”
انہوں نے فیصلہ کیا کہ پیدل چلنا ہی بہتر ہے ورنہ ایک گدھے کا نقصان ہو جائے گا۔ وہ پسینے میں شرابور، پیدل ہی گدھوں کو ہانکنے لگے۔
کچھ دور جا کر انہیں ان کا ایک پرانا دوست ملا۔ دوست نے شیخ صاحب کی بری حالت دیکھی اور پوچھا: “شیخ صاحب! خیریت تو ہے؟ آپ کے پاس سواری کے لیے دس دس گدھے موجود ہیں، پھر بھی آپ پیدل چل کر خود کو تھکا رہے ہیں؟”
شیخ صاحب نے روتے ہوئے منہ کے ساتھ سارا ماجرا سنایا: “بھائی کیا کروں! بڑی عجیب مصیبت ہے۔ جب میں گدھے پر بیٹھتا ہوں تو نو رہ جاتے ہیں، جب اترتا ہوں تو دس ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ڈر کے مارے پیدل ہی چل رہا ہوں۔”
دوست زور زور سے ہنسنے لگا۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا:
“ارے میرے بھولے شیخ صاحب! آپ کو تو صرف نو گدھے نظر آرہے ہیں، لیکن مجھے تو یہاں گیارہ گدھے نظر آرہے ہیں۔”
شیخ صاحب نے حیرانی سے پوچھا: “گیارہ؟ وہ کیسے؟”
دوست نے کہا: “دس تو وہ جو سامنے کھڑے ہیں، اور گیارھواں وہ جس پر آپ بیٹھے تھے اور اسے گننا بھول رہے تھے!”

Leave a Reply

NZ's Corner