بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک صحابیِ رسول رضیَ اللہُ عنہ ایک رات قرآنِ پاک کی تلاوت کررہے تھے۔قریب ہی گھوڑا بندھا ہوا تھا اورگھوڑے کے قریب ہی ان کا بیٹا یحییٰ سورہا تھا۔ قراءت جاری تھی کہ اچانک گھوڑا بِدکنے لگا صحابیِ رسول نے پڑھنابند کیا تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا ، انہوں نے پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا پھر کُودنے لگا ، دوبارہ چپ ہوئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا تیسری مرتبہ پھر تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر اُچھلنےلگا، کہیں گھوڑا بچے کو کُچَل نہ دے اس لئے بچے کے قریب آکر اسے اٹھایاتو نظر آسمان کی جانب اٹھ گئی دیکھا کہ سائبان کی مانند کوئی چیز ہےجس میں بہت سے چراغ روشن ہیں۔ پھر صبح کو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر واقعہ بیان کیا تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ فرشتوں کی مقدس جماعت تھی جو تمہاری قراءت (سننے) کی وجہ سے قریب آگئی تھی اگر تم تلاوت کرتے رہتے تو صبح ہوجاتی اور لوگ انہیں دیکھ لیتے اور فرشتے بھی ان سے نہ چھپت ” یہ خوش الحان صحابی حضرت اسید رضی اللہ عنہ بن حضیر تھے ۔ جن کا شمار بہت عظیم صحابہ میں ہوتا ہے۔

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

مستند حوالہ جات:
(بخاری،ج 3،ص408، حدیث: 5018، مسلم، ص311، حدیث: 1859، معجم کبیر،ج 1،ص207، حدیث :562)

Leave a Reply

NZ's Corner