وہ رات جب حجاج بن یوسف نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی تو پہلی بار آنکھوں سے آنسو نہیں، ہنسی نکل رہی تھی۔
کوفہ کی راتیں گرم تھیں۔ فرات کی نمی فضا میں پھیلی ہوئی تھی، اور حجاج بن یوسف اپنے محل کی چھت پر کھڑے دریائے فرات کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی عمر اب ساٹھ کے قریب تھی۔ داڑھی میں سفیدی پھیل چکی تھی، لیکن آنکھوں میں وہی تیزی تھی، وہی چمک جو لوگوں کے دلوں میں دہشت بٹھا دیتی تھی۔
آج وہ عجیب بے چین تھے۔
ان کے سامنے فرات کا پانی بہہ رہا تھا، اور اس پانی میں انہیں ابن اشعث کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ وہ چہرہ جو سولی پر بھی مسکراتا رہا تھا۔ وہ آنکھیں جو موت کے وقت بھی نہیں جھکی تھیں۔
حجاج نے آہ بھری۔ پھر پیچھے مڑے تو شبیب بن عامر کھڑے تھے۔
شبیب نے کہا: “حجاج، تم پریشان ہو؟”
حجاج نے جواب دیا: “پریشان؟ نہیں شبیب۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ابن اشعث کی لاش سولی پر ابھی تک لٹک رہی ہے۔ تین دن ہو گئے۔ لوگ کیا کہتے ہیں؟”
شبیب نے سر جھکا لیا: “لوگ کہتے ہیں کہ وہ شہید ہے۔”
حجاج زور سے ہنس پڑے۔ ان کی ہنسی اتنی بلند تھی کہ محل کے دروازوں تک گونجی۔
“شہید؟ شبیب! وہ شخص جو میری فوج کے خلاف اٹھا، جس نے میری تین فوجوں کو شکست دی، وہ شہید ہے؟ اور میں ظالم ہوں؟”
شبیب خاموش رہے۔
حجاج نے ان کے قریب آ کر کہا: “تم بھی یہی سوچتے ہو، ہے نا؟”
شبیب نے آنکھیں نیچی کر لیں۔
—
اسی رات جب حجاج نماز پڑھ رہے تھے، دروازے پر دستک ہوئی۔ شبیب نے دروازہ کھولا تو باہر ایک شخص کھڑا تھا، خاک آلود کپڑوں میں، چہرہ پیلا، آنکھیں سوجی ہوئی۔
وہ بولا: “مجھے حجاج سے ملنا ہے۔”
شبیب نے پوچھا: “کون ہو تم؟”
اس شخص نے کہا: “میں حجاج کا بیٹا ہوں۔ عبداللہ۔”
شبیب کے ہاتھ سے مشعل گر گئی۔ وہ عبداللہ کو دیکھتے رہ گئے۔ عبداللہ حجاج کا بڑا بیٹا تھا، جو پانچ سال پہلے خراسان کی جنگ میں مارا گیا تھا۔ کم از کم یہی خبر آئی تھی۔
شبیب نے کانپتے ہوئے پوچھا: “تم زندہ ہو؟”
عبداللہ نے جواب نہیں دیا۔ وہ اندر آ گیا، اور سیدھا حجاج کے کمرے کی طرف بڑھا۔
—
حجاج نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ سامنے ایک شخص کھڑا ہے۔ پہلے تو پہچان نہ سکے۔ لیکن پھر وہ آنکھیں… وہ آنکھیں جو ان کی بیوی سے ملتی جلتی تھیں۔
حجاج کی آواز میں لرزش آ گئی: “عبداللہ؟”
عبداللہ نے سر جھکا لیا: “ابا جان۔”
حجاج نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔ پھر دوبارہ دیکھا۔ پھر ایک بار۔ پھر وہ آگے بڑھے، اور اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔
اس رات حجاج نے پہلی بار اپنی زندگی میں محسوس کیا کہ ان کا دل دھڑکتا ہے۔
لیکن یہ خوشی زیادہ دیر نہ رہی۔
—
عبداللہ نے بتایا کہ وہ خراسان میں زخمی ہو گیا تھا، ایک قبیلے نے اسے پناہ دی، پانچ سال تک وہ زندہ رہا لیکن واپس نہ آ سکا۔ اب وہ آ گیا ہے۔
حجاج نے کہا: “تم زندہ ہو، یہ سب سے بڑی خوشی ہے۔ کل میں تمہیں اپنی فوج کا سپہ سالار بناؤں گا۔”
لیکن عبداللہ نے سر جھکا لیا: “ابا جان، میں سپہ سالار نہیں بن سکتا۔”
حجاج نے حیران ہو کر پوچھا: “کیوں؟”
عبداللہ نے آہستہ سے کہا: “کیونکہ میں ابن اشعث کے ساتھ تھا۔”
کمرے میں موجود شبیب کے قدم جڑ گئے۔ حجاج کا چہرہ پتھر جیسا ہو گیا۔
—
عبداللہ نے بتایا کہ وہ پانچ سال پہلے خراسان میں زخمی ہوا تو ابن اشعث کے سپاہیوں نے اسے بچایا۔ ابن اشعث نے اس کا علاج کروایا، اسے پناہ دی، اور جب عبداللہ کو پتہ چلا کہ وہ حجاج کا بیٹا ہے، تب بھی ابن اشعث نے اسے نہیں مارا۔
عبداللہ بولا: “ابن اشعث نے مجھے کہا تھا کہ ‘تمہارا باپ میرا دشمن ہے، لیکن تم میرے مہمان ہو۔ میں مہمان کو دشمن نہیں سمجھتا۔'”
حجاج کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔
عبداللہ نے آگے کہا: “میں نے ابن اشعث کے ساتھ جنگ لڑی۔ اس کی فوج میں۔ تینوں جنگوں میں میں اس کے ساتھ تھا۔ جب آپ نے اسے قتل کیا، میں زندہ تھا۔ اور آج میں آپ کو بتانے آیا ہوں کہ ابن اشعث بہادر تھا۔ اور آپ… آپ ظالم ہیں۔”
یہ سنتے ہی شبیب نے تلوار نکال لی۔ لیکن حجاج نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا۔
—
حجاج نے اپنے بیٹے کو دیکھا۔ وہ شخص جو ان کا اپنا خون تھا، وہ ان کے سامنے کھڑا انہیں ظالم کہہ رہا تھا۔
حجاج نے پوچھا: “تم جانتے ہو ابن اشعث نے کیا کیا تھا؟ اس نے میری حکومت کے خلاف بغاوت کی، اس نے میری فوجوں کو قتل کیا، اس نے لوگوں کو میرے خلاف اکسایا۔”
عبداللہ نے جواب دیا: “میں جانتا ہوں۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس نے کبھی کسی قیدی کو نہیں مارا، کبھی کسی عورت کو بے عزت نہیں کیا، کبھی کسی بچے کو یتیم نہیں کیا۔ اس نے محبت سے حکومت کی۔ اور آپ نے خوف سے۔”
حجاج خاموش رہے۔
پھر عبداللہ نے وہ کہا جو حجاج کی زندگی بدل گیا:
“ابن اشعث نے مجھے آپ کے پاس بھیجا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ‘اگر میں مر گیا تو عبداللہ، اپنے باپ سے کہنا کہ طاقت عارضی ہے، محبت باقی رہتی ہے۔’ اور میں آیا ہوں آپ کو یہ بتانے۔”
—
اس رات حجاج نے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو شبیب کے حوالے کیا، اور خود اپنے کمرے میں چلے گئے۔
صبح ہوئی تو شبیب نے دیکھا کہ حجاج اسی طرح بیٹھے ہیں، جیسے رات بھر وہیں بیٹھے رہے ہوں۔
شبیب نے کہا: “حجاج، عبداللہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟”
حجاج نے آنکھیں اٹھائیں: “اسے قید کر دو۔”
شبیب حیران رہ گیا: “لیکن وہ تمہارا بیٹا ہے!”
حجاج نے کہا: “میرا بیٹا جو میرا دشمن بن گیا۔”
شبیب نے سر جھکایا اور باہر چلا گیا۔
—
تین دن بعد عبداللہ کو قید خانے میں لے جایا گیا۔ وہاں کی دیواریں نم تھیں، اور ہوا میں موت کی بو تھی۔
چوتھی رات حجاج خود قید خانے میں آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ عبداللہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، لیکن اس کے چہرے پر وہی سکون ہے جو ابن اشعث کے چہرے پر تھا۔
حجاج نے کہا: “عبداللہ، تم نے میری زندگی برباد کر دی۔”
عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا: “ابا جان، آپ نے خود اپنی زندگی برباد کر لی۔ میں نے تو صرف آپ کو سچ بتایا۔”
حجاج نے پوچھا: “سچ کیا ہے؟”
عبداللہ نے جواب دیا: “سچ یہ ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ ابن اشعث صحیح تھا۔ لیکن آپ تسلیم نہیں کر سکتے، کیونکہ تسلیم کرنے کا مطلب ہے اپنی پوری زندگی کو جھوٹا ماننا۔”
یہ سنتے ہی حجاج کو ایسا لگا جیسے کوئی ان کے سینے پر وار کر گیا ہو۔
—
پانچویں رات عبداللہ قید خانے میں مر گیا۔
شبیب نے حجاج کو خبر دی تو حجاج نے کوئی جذبات نہیں دکھائے۔ وہ اٹھے، قید خانے گئے، اور اپنے بیٹے کی لاش دیکھی۔
لاش زمین پر پڑی تھی۔ آنکھیں کھلی تھیں، اور ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ تھی۔
شبیب نے کہا: “حجاج، تم رو لو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
حجاج نے اپنے بیٹے کی لاش کو دیکھا۔ دیکھتے رہے۔ پھر ان کے ہونٹ کھلے، اور وہ ہنس پڑے۔
ایسی ہنسی کہ شبیب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ایسی ہنسی کہ قید خانے کی دیواریں کانپ گئیں۔ ایسی ہنسی کہ پورے کوفہ میں صبح تک گونجتی رہی۔
شبیب نے پوچھا: “حجاج، تم ہنس رہے ہو؟”
حجاج نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: “شبیب، ابن اشعث نے مجھے تین بار شکست دی۔ لیکن آج… آج اس نے مجھے چوتھی بار شکست دی ہے۔ وہ مر کر بھی مجھے ہرا گیا۔ اور میرا بیٹا… میرا بیٹا اس کے ساتھ ہے، میرے ساتھ نہیں۔”
شبیب نے کہا: “حجاج، تمہارا بیٹا تم سے محبت کرتا تھا۔”
حجاج نے اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھایا، اور اسے سینے سے لگا لیا۔ پھر بولے:
“محبت؟ شبیب، میں نے ساری عمر لوگوں کو سکھایا کہ خوف سب سے بڑی طاقت ہے۔ لیکن آج میرے بیٹے نے مجھے بتایا کہ محبت خوف سے بڑی ہے۔ اور وہ مر گیا، کیونکہ میں اسے قید کر کے بھی نہیں مار سکا۔ وہ تو پہلے ہی ابن اشعث کا تھا۔”
—
اس رات کے بعد حجاج کبھی پہلے جیسے نہیں رہے۔
وہ پہلے کی طرح سخت تھے، پہلے کی طرح ظالم تھے، لیکن ان کی آنکھوں میں اب وہ چمک نہیں تھی۔ اب وہاں ایک خالی پن تھا، ایک سوال تھا، ایک وہم تھا جو انہیں کبھی چین نہیں لینے دیتا تھا۔
کہتے ہیں کہ اس رات کے بعد حجاج نے کبھی کسی کو سولی نہیں دی۔ اور جب وہ مرے تو ان کی لاش کے پاس کوئی نہیں تھا۔ صرف شبیب تھا، اور دیوار پر لٹکی ہوئی ابن اشعث کی وہ تلوار جو حجاج نے اپنے کمرے میں رکھی ہوئی تھی۔
حجاج کی آخری وصیت تھی کہ انہیں ان کے بیٹے عبداللہ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ لیکن کسی کو پتہ نہیں کہ عبداللہ کہاں دفن ہے۔ کیونکہ اس رات حجاج خود اسے لے کر گئے تھے، اور واپس اکیلے آئے تھے۔
—
خلاصہ:
حجاج نے ابن اشعث کو قتل کیا، لیکن ابن اشعث نے حجاج کے بیٹے کا دل جیت لیا۔ حجاج نے ساری عمر خوف سے حکومت کی، لیکن آخر میں اسے پتہ چلا کہ محبت خوف سے زیادہ طاقتور ہے۔ اور جب اس کا اپنا بیٹا اسے ظالم کہہ کر مر گیا، تو حجاج نے پہلی بار محسوس کیا کہ جیتنے والا بھی ہار سکتا ہے، اور ہارنے والا بھی جیت سکتا ہے۔
👑💔🌙
—
آپ کے خیال میں حجاج نے اپنے بیٹے کو کیوں قید کیا؟ کیا وہ اپنی حکومت کے اصولوں پر قائم رہنا چاہتا تھا، یا وہ اس حقیقت سے بھاگ رہا تھا کہ اس کا بیٹا صحیح تھا؟ اور اگر آپ حجاج کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟ اپنے خیالات سے ضرور آگاہ کریں۔
#حجاج_بن_یوسف #ابن_اشعث #تاریخ_اسلام #حقیت_اور_فسانہ #بغاوت_کا_انجام #محبت_اور_خوف #اموی_خلافت #عراق_کی_تاریخ #تاریخی_واقعات #قسط_پنجم
—
نوٹ: یہ تحریر معتبر تاریخی مآخذ جیسے طبری، ابن کثیر، اور ابن خلدون کی کتب سے مستفاد ہو کر تیار کی گئی ہے۔ مکالمے اور بعض واقعات کی تفصیلات کو ادبی رنگ دینے کے لیے تخلیقی انداز اختیار کیا گیا ہے، تاکہ قاری تاریخ کو محسوس کر سکے۔ ابن اشعث کی بغاوت اور حجاج کے آخری ایام کی یہ کہانی آپ کو کیسی لگی؟ ضرور بتائیں۔
