بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

یہ ایمان تازہ کر دینے والا واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جو بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے تھے۔

جب بنی اسرائیل کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب نازل ہوا۔ بخت نصر نامی ایک ظالم بادشاہ نے بیت المقدس پر حملہ کیا، بے شمار لوگوں کو قتل کیا، بہت سوں کو جلا وطن کیا اور ہزاروں کو قید کر لیا۔ شہر کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا اور وہ ویران ہو کر رہ گیا۔ حضرت عزیر علیہ السلام بھی قیدیوں میں شامل تھے۔

کچھ عرصہ بعد جب آپ قید سے آزاد ہوئے تو ایک دن اپنے گدھے پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے۔ شہر کی بربادی اور سنسانی دیکھ کر آپ کا دل بھر آیا۔ ویرانی کا یہ عالم تھا کہ درختوں پر پکے پھل موجود تھے مگر توڑنے والا کوئی نہ تھا۔ اسی کیفیت میں آپ کی زبان سے بے اختیار نکلا کہ:
“اللہ تعالیٰ اس ویرانی کے بعد اس شہر کو کیسے زندہ کرے گا؟”

آپ نے کچھ پھل کھائے، انگور کا رس نکالا، باقی مشکیزے میں رکھا، گدھے کو باندھا اور ایک درخت کے نیچے آرام کرنے لگے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔ آپ سو سال تک اسی طرح رہے، مگر اللہ نے آپ کو ہر مخلوق کی نگاہوں سے اوجھل رکھا۔

ستر سال بعد اس ویرانے میں دوبارہ آبادکاری شروع ہوئی، لوگ بسائے گئے، عمارتیں بنیں اور بیت المقدس پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گیا۔ جب پورے سو سال مکمل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کو دوبارہ زندہ فرمایا۔

آپ نے دیکھا کہ گدھے کی ہڈیاں بکھری ہوئی ہیں اور گل سڑ چکی ہیں، مگر آپ کا کھانا اور انگور کا رس بالکل محفوظ ہے۔ نہ ان میں کوئی خرابی آئی تھی اور نہ بو پیدا ہوئی تھی۔ آپ کی عمر بھی وہی چالیس سال معلوم ہوتی تھی، بال سیاہ تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اے عزیر! تم کتنی مدت یہاں رہے؟”
آپ نے عرض کیا: “ایک دن یا اس سے کچھ کم۔”
اللہ نے فرمایا: “نہیں، تم سو سال رہے ہو۔ اب اپنے گدھے کو دیکھو۔”

پھر آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بکھری ہوئی ہڈیاں جمع ہوئیں، ڈھانچہ بنا، اس پر گوشت چڑھا اور گدھا زندہ ہو کر کھڑا ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کر آپ نے فرمایا:
“میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔”

بعد ازاں جب آپ اپنے گھر کی جگہ پہنچے تو کسی نے آپ کو نہ پہچانا۔ وہاں ایک نہایت بوڑھی اور معذور عورت بیٹھی تھی جس نے بچپن میں آپ کو دیکھا تھا۔ آپ نے فرمایا: “میں عزیر ہوں۔”
اس نے نشانی مانگی اور دعا کی درخواست کی۔ آپ کی دعا سے اس کی بینائی اور صحت واپس آ گئی۔ اس نے گواہی دی کہ یہ واقعی حضرت عزیر علیہ السلام ہیں۔

پھر آپ کو بنی اسرائیل کی مجلس میں لے جایا گیا جہاں آپ کا بیٹا، جو اب بوڑھا ہو چکا تھا، اور پوتے موجود تھے۔ دلائل اور نشانیوں سے سب کو یقین ہو گیا۔ افسوس کہ کچھ لوگوں نے اس عظیم واقعے کو غلط سمجھ کر باطل عقیدہ گھڑ لیا، جو سراسر شرک تھا۔

اس واقعے میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے:
ایک ہی جگہ گدھے کی ہڈیاں گل گئیں، مگر اللہ کے نبی اور ان کا کھانا محفوظ رہا۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔

اللہ رب العالمین ہمیں صحیح ایمان، درست عقیدہ اور دین کی سمجھ عطا فرمائے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین۔

ہنسی مذاق کی باتیں تو ہر کوئی شیئر کر دیتا ہے، مگر اچھی اور سبق آموز تحریریں اچھے لوگ ہی آگے بڑھاتے ہیں۔
اچھا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس تحریر کو ضرور شیئر کریں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner