بلاعنوان۔۔

بلاعنوان۔۔

جب ملا نصیرالدین اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو حسبِ عادت مڑے کہ گدھے کو اندر لے آئیں، مگر پیچھے جو منظر دیکھا اُس نے ان کے قدموں تلے زمین ہلا دی۔ رسی کے دوسرے سرے پر گدھا نہیں بلکہ ایک آدمی کھڑا تھا، جس کی گردن میں رسی پڑی ہوئی تھی اور وہ معصومیت سے ملا کو دیکھ رہا تھا۔
ملا نے آنکھیں ملیں، پھر غور سے دیکھا۔
“یا اللہ خیر! یہ کیا ماجرا ہے؟ میرا گدھا کہاں گیا؟”
وہ آدمی فوراً ہاتھ جوڑ کر بولا،
“ملا صاحب! گھبرائیے مت، میں ہی آپ کا گدھا ہوں۔”
ملا نے حیرت سے پوچھا،
“یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ انسان گدھا کیسے بن سکتا ہے؟”
وہ شخص رونے کی صورت بنا کر کہنے لگا،
“ملا صاحب، یہ سب میرے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔ میں اپنی ماں کی نافرمانی کرتا تھا، اس کی بددعاؤں سے مجھے سزا ملی اور میں گدھا بنا دیا گیا۔ آج کئی سال بعد ایک بزرگ کی دعا سے مجھے انسان کی شکل واپس ملی ہے۔”
ملا نے رسی چھوڑ دی اور چند لمحے سوچ میں پڑ گئے۔ پھر آہستہ سے بولے،
“اچھا، اگر یہ بات ہے تو میں تمہیں کیسے قید رکھ سکتا ہوں؟ جا، اللہ تجھے ہدایت دے اور اپنی ماں کی خدمت کرنا۔”
یہ کہہ کر ملا نے اسے آزاد کر دیا۔ وہ شخص فوراً رسی زمین پر پھینک کر گلی میں غائب ہو گیا۔
ملا گھر کے اندر داخل ہوئے تو بیوی نے پوچھا،
“گدھا کہاں ہے؟”
ملا نے اطمینان سے جواب دیا،
“بیگم، گدھا نہیں تھا، ایک بدبخت انسان تھا جو ماں کی نافرمانی کے سبب گدھا بنا دیا گیا تھا۔ میں نے اسے آزاد کر دیا ہے۔”
بیوی نے سر پیٹ لیا،
“ہائے نصیرالدین! تمہیں تو ہر کوئی بیوقوف بنا جاتا ہے۔ وہ سب چور تھے، تمہارا گدھا لے گئے ہیں!”
ملا نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا،
“اگر واقعی وہ چور تھے تو اللہ ان سے نمٹے گا، اور اگر وہ شخص سچ کہہ رہا تھا تو میں نے ایک انسان کو آزاد کیا ہے۔”
کچھ دن گزرے۔ ملا کو سخت مشکل کا سامنا تھا۔ نہ سواری، نہ بوجھ اٹھانے والا۔ مگر وہ صبر سے کام لیتے رہے۔ ایک دن پھر بازار جانے کی ضرورت پیش آئی۔ ملا بازار پہنچے تو ایک گدھوں کے سوداگر کے پاس اچانک ان کی نظر ایک جانے پہچانے گدھے پر پڑی۔ رنگ، کان، آنکھیں—سب وہی تھا۔
ملا چونک پڑے۔
“یہ تو میرا گدھا ہے!”
وہ قریب گئے اور غور سے دیکھا۔ پھر گدھے کے کان میں آہستہ سے بولے،
“کیوں میاں! پھر سے ماں کی نافرمانی شروع کر دی تھی جو دوبارہ گدھا بنا دیے گئے؟”
گدھا کچھ نہ بولا، بس سر جھکا لیا۔
سوداگر نے حیرت سے پوچھا،
“ملا صاحب، آپ اس گدھے سے باتیں کیوں کر رہے ہیں؟”
ملا سنجیدگی سے بولے،
“بھائی، یہ گدھا نہیں، انسان ہے۔ میں اسے پہلے بھی خرید چکا ہوں، مگر یہ پھر اپنی حرکتوں سے گدھا بن گیا ہے۔”
سوداگر ہنس پڑا،
“ملا صاحب! اگر یہ آپ کا ہے تو لے جائیں، مگر پیسے پورے دینے ہوں گے۔”
ملا نے فوراً انکار کر دیا۔
“نہیں بھائی، میں اسے دوبارہ نہیں خریدوں گا۔ جو ایک بار گدھا بن جائے، اس پر دوبارہ بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔”
یہ کہہ کر ملا وہاں سے چل دیے۔
لوگ ہنسنے لگے، کچھ نے ملا کو سادہ لوح کہا، کچھ نے بیوقوف۔ مگر ملا اپنے دل میں مطمئن تھے۔ راستے میں ایک شخص نے پوچھا،
“ملا صاحب، آپ کو ذرا سا بھی افسوس نہیں ہوا؟”
ملا مسکرا کر بولے،
“افسوس کیوں؟ اگر میں چوروں کے ہاتھوں لٹ بھی گیا ہوں تو یہ دنیا کا دستور ہے، مگر اگر میں نے ایک انسان کو قید سے آزاد کیا ہے تو یہ میرے لیے فخر کی بات ہے۔”
پھر ٹھہر کر بولے،
“دنیا میں سب سے بڑا گدھا وہ نہیں جو بوجھ اٹھاتا ہے، بلکہ وہ ہے جو لالچ، ظلم اور دھوکے کا بوجھ ڈالتا ہے۔”
یہ بات سن کر لوگ خاموش ہو گئے۔
اس دن کے بعد ملا کے اس قصے کا چرچا پورے شہر میں پھیل گیا۔ کوئی اسے حماقت کہتا، کوئی دانائی۔ مگر ملا نصیرالدین ہمیشہ کی طرح مسکرا کر کہتے،
“میں نے گدھا کھویا ہے، عقل نہیں۔”
اور یوں یہ قصہ ایک سبق بن گیا کہ
ہر نقصان بےوقوفی نہیں ہوتا، اور ہر ہوشیاری عقل مندی نہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner