ایک محلے میں ایک بہت مشہور پیر صاحب رہتے تھے۔ دور دور سے لوگ ان کے پاس آتے تھے، کوئی دعا کروانے، کوئی مسئلہ حل کروانے۔ محلے کے اکثر لوگ ان کے مرید تھے اور ان کا بڑا احترام کرتے تھے۔
ایک دن عجیب واقعہ ہوا۔ پیر صاحب کی بیگم ناراض ہو کر انہیں چھوڑ کر جانے لگیں۔ جاتے جاتے پیر صاحب نے آہ بھری اور کہا:
“بیگم! اگر آپ جا ہی رہی ہیں تو جاتے جاتے مجھے کوئی ایسی نشانی دے جائیں جو میرے پاس ہمیشہ رہے اور دنیا میں کسی نے کسی کو ایسی نشانی نہ دی ہو۔”
بیگم نے تھوڑی دیر سوچا، پھر ایک چھوٹا سا زیرِ ناف بال توڑ کر پیر صاحب کے ہاتھ میں رکھ دیا اور بولیں:
“یہ میری طرف سے آخری نشانی ہے، اسے سنبھال کر رکھنا۔”
پیر صاحب نے وہ نشانی لی اور اگلے دن محلے کے موچی کے پاس پہنچ گئے۔
پیر صاحب نے موچی سے کہا:
“بھائی، اس کو چمڑے میں اچھی طرح سی کر ایک چھوٹا سا تعویذ بنا دو، میں اسے سنبھال کر رکھنا چاہتا ہوں۔”
موچی نے احترام سے کہا:
“پیر صاحب! آپ کے لیے تو یہ کام بالکل مفت کر دوں گا۔”
موچی نے وہ چیز چمڑے میں بند کر کے اچھی طرح سی دی۔
اگلے دن جب پیر صاحب لینے آئے تو موچی کے دل میں تجسس پیدا ہو گیا۔ وہ بے صبری سے پوچھ بیٹھا:
“پیر صاحب! اگر برا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں؟ یہ بال کس چیز کا تھا؟”
پیر صاحب نے سکون سے جواب دیا:
“بھئی، یہ میری بیگم کی طرف سے آخری نشانی تھی جب وہ مجھے چھوڑ کر جا رہی تھیں زیرِناف بال تھا۔”
یہ سن کر موچی کا چہرہ ایک دم بدل گیا۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور بولا:
“ارے پیر صاحب! اگر پہلے بتا دیتے تو بہتر تھا۔ میں تو اسے کوئی خاص چیز سمجھ کر کل رات سے پانی میں گھول کر خود بھی پی رہا تھا اور گھر والوں کو بھی پلا رہا تھا!”
😭😭🤣😔😂😂😂😂
#منقول
