ایک دن بچے سکول گئے… اور اگلے ہی دن سکول بند!
کہا گیا: “فیول کم استعمال کریں۔”
عجیب بات ہے نا…
جب بات بچوں کی تعلیم کی آتی ہے تو سب سے پہلے سکول ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔
کیا کبھی کسی نے سنا؟
کہ شاپنگ مال بند کر دو فیول بچانے کے لیے؟
یا شادی ہال بند کر دو؟
نہیں۔
ہمیشہ آسان حل یہی ہوتا ہے:
بچوں کی تعلیم روک دو۔
ایک دن سکول کھلتے ہیں،
بچے خوشی سے بستے اٹھاتے ہیں،
ماں باپ امید باندھتے ہیں…
اور اگلے ہی دن اعلان آ جاتا ہے: “سکول بند!”
سوال یہ نہیں کہ فیول کیوں بچانا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہر بحران میں قربانی صرف تعلیم ہی کیوں دیتی ہے؟
یاد رکھیں…
جس قوم کے سکول بار بار بند ہوتے ہیں،
وہاں جیلیں اور مسائل کھلتے رہتے ہیں۔
فیصلے کرنے والوں کو سوچنا ہوگا:
اگر آج ہم نے بچوں کی تعلیم کو ہی سب سے آسان قربانی بنا دیا،
تو کل ہمیں اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنی پڑے گی۔
