ایک مرتبہ پاکستان کے ایک میاں صاحب انڈیا میں اپنے ایک نواب دوست کی دعوت پر انڈیا گئے۔
ایک دِن کھانے کے دوران میاں صاحب کو دہی کی کمی محسوس ہوئی، انہوں نے نواب صاحب سے فرمائش کی، کہ دہی مِل جائے تو کھانے کا مزہ دوبالا ہو جائے-
نواب صاحب نے اپنے مُلازم کو آواز دی،
اور بولے فلاں دُکان سے دہی لے کر آؤ فوراُُ،،
مُلازِم گیا تو نواب صاحب نے بتانا شروع کیا،
کہ ملازِم اِس وقت گھر سے نِکل چُکا،
اِس وقت گلی کا موڑ مڑ رہا، اس وقت دُکان سے دہی لے رہا،، اب واپِس آ رہا،
چند لمحوں بعد انہوں نے مُلازِم کو آواز دی اور پوچھا، دہی لے آئے ؟
ملازم نے جواب دِیا،
جی حضور،،،
میاں صاحب اِس واقعے سے بہت مُتاثِر ہوئے –
پھِر کُچھ عرصہ بعد نواب صاحب اپنے پاکستانی میاں دوست کی دعوت پر پاکِستان آئے،
میاں صاحب کو وُہ کھانے والا واقعہ بہت خوب لگا تھا-
دورانِ کھانا، نواب صاحب کو اچار کی طلب ہوئی،،
انہوں نے اچار کی فرمائش کی، میاں صاحب نے فوراً اپنے نوکر فیقے کو آواز دی
اور قریب کے اسٹور سے اچار لانے کا کہا،
اور ساتھ میں کمنٹری بھی شروع کر دی،
کہ فیکا اِس ٹائم گھر سے نِکل گیا ہے،
اب وہاں پہنچ گیا ہے،،
اب وہاں،
اب اچار لے چُکا ہے،،
اب واپس آ رہا ہے،،
اب گھر پہنچنے والا،،
پھِر انہوں نے آواز لگائی،،
اوئے فیقے !!
آواز آئی……
جی سرکار،،
اچار لے آیا،، ؟
فیقا بولا،، کِتھے سرکار،،
اجے تے میں اپنی جُتی لبھ ریا واں،😅😅😅
منقول
