شہر کے پرانے بازار کے بیچوں بیچ ایک قدیم مسجد تھی۔ اس مسجد کے دروازے کے باہر ایک بھکاری تقریباً بیس سال تک بیٹھا رہا۔ لوگ اسے “بابا سلیم” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کا اصل نام کیا تھا، وہ کہاں سے آیا تھا، اس کا کوئی رشتہ دار تھا یا نہیں — کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔
بابا سلیم کے پاس بس ایک پرانی سی چٹائی تھی جس پر وہ بیٹھتا تھا۔ اس کے سامنے ایک ٹوٹی ہوئی پیالی رکھی ہوتی جس میں لوگ نماز کے بعد چند سکے ڈال دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ خاموش رہتا تھا۔ نہ زیادہ مانگتا تھا، نہ کسی سے بحث کرتا تھا۔
ہر روز فجر سے پہلے وہ آ کر اپنی چٹائی بچھا لیتا۔ جب لوگ مسجد میں نماز پڑھنے آتے تو وہ دروازے کے ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھا ہوتا۔ نمازی آتے جاتے اسے کچھ نہ کچھ دے دیتے۔
کچھ لوگ اسے دیکھ کر کہتے،
“بیچارہ بہت غریب لگتا ہے۔”
کچھ لوگ طنز کرتے،
“پتا نہیں سارا دن بیٹھ کر کتنے پیسے کما لیتا ہوگا۔”
مگر بابا سلیم کبھی کسی بات کا جواب نہیں دیتا تھا۔
مسجد کے امام صاحب اکثر اسے دیکھتے تو دل میں اس کے لیے دعا کرتے۔ ایک دن امام صاحب نے اس سے پوچھا:
“بابا، تم کہاں سے آئے ہو؟”
بابا سلیم نے مسکرا کر کہا،
“حضور، بس اللہ کا بندہ ہوں۔ جہاں رزق مل جائے وہی میرا ٹھکانہ ہے۔”
امام صاحب نے پھر پوچھا،
“کبھی کوئی کام کیوں نہیں کر لیتے؟”
بابا نے آہستہ سے جواب دیا،
“ہر انسان کا ایک کام ہوتا ہے، میرا کام شاید یہی ہے کہ لوگوں کو دینے کا موقع ملے۔”
یہ سن کر امام صاحب خاموش ہو گئے۔
سال گزرتے گئے۔ شہر کے لوگ بدلتے رہے مگر بابا سلیم وہیں بیٹھا رہا۔ بچے بڑے ہو گئے، دکاندار بدل گئے، مگر مسجد کے دروازے پر وہی پرانی چٹائی اور وہی خاموش بھکاری نظر آتا تھا۔
بچوں کو تو وہ ایک عجیب آدمی لگتا تھا۔
وہ اکثر اس سے پوچھتے،
“بابا، آپ ہمیشہ اسی چٹائی پر کیوں بیٹھتے ہو؟”
بابا مسکرا کر کہتا،
“بیٹا، یہ میری امانت ہے۔”
بچے ہنس دیتے اور کھیلنے لگتے۔
وقت کا پہیہ چلتا رہا یہاں تک کہ ایک سرد صبح ایسا ہوا کہ بابا سلیم مسجد کے باہر نظر نہ آیا۔ نمازیوں کو حیرت ہوئی کیونکہ بیس سال میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ فجر سے پہلے وہاں نہ بیٹھا ہو۔
جب لوگ مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ بابا سلیم اپنی چٹائی پر لیٹا ہوا ہے اور بالکل خاموش ہے۔
ایک دکاندار نے اسے آواز دی،
“بابا سلیم… اٹھو!”
مگر کوئی جواب نہ آیا۔
لوگ قریب آئے تو پتا چلا کہ بابا سلیم اس دنیا سے جا چکا ہے۔
خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔ لوگ جمع ہو گئے۔ امام صاحب نے اعلان کیا کہ بابا سلیم کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
جب چند لوگ اس کی چٹائی اٹھانے لگے تاکہ اسے غسل کے لیے لے جائیں تو اچانک ایک عجیب آواز آئی۔
چٹائی کے نیچے زمین کھوکھلی لگ رہی تھی۔
لوگ حیران ہو گئے۔
ایک آدمی نے کہا،
“ذرا چٹائی ہٹاؤ تو دیکھیں۔”
جب چٹائی ہٹائی گئی تو نیچے زمین میں ایک پرانا سا لکڑی کا تختہ نظر آیا۔ لوگوں نے اسے اٹھایا تو سب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
نیچے ایک چھوٹا سا گڑھا تھا جس میں ایک مٹی کا بڑا گھڑا رکھا ہوا تھا۔
گھڑا باہر نکالا گیا۔
جب اسے کھولا گیا تو اس میں چمکتے ہوئے سونے کے سکے اور قیمتی زیورات بھرے ہوئے تھے۔
لوگ دنگ رہ گئے۔
ایک دکاندار حیرت سے بولا،
“یہ تو بہت بڑی دولت ہے!”
دوسرے نے کہا،
“اتنے سالوں میں اس نے اتنا خزانہ جمع کر لیا؟”
مگر امام صاحب نے غور سے گھڑے کو دیکھا تو اس کے اندر ایک پرانا کاغذ بھی رکھا ہوا تھا۔
امام صاحب نے وہ کاغذ کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔
اس میں لکھا تھا:
“جو بھی یہ گھڑا پائے، اسے معلوم ہو کہ میں نے یہ دولت لوگوں سے مانگ کر نہیں بلکہ اپنی پرانی زندگی میں کمائی تھی۔ میں ایک امیر تاجر تھا مگر ایک دن مجھے احساس ہوا کہ دنیا کی دولت انسان کو سکون نہیں دیتی۔ اس لیے میں نے اپنی باقی زندگی لوگوں کے درمیان ایک بھکاری بن کر گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ میں دیکھ سکوں کہ کون اللہ کی رضا کے لیے دیتا ہے اور کون دکھاوے کے لیے۔”
لوگ خاموشی سے سن رہے تھے۔
امام صاحب نے آگے پڑھا:
“میں نے جو سکے مانگے وہ میں نے کبھی اپنے لیے نہیں رکھے۔ جو بھی ملا وہ میں نے رات کے اندھیرے میں غریبوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ گھڑا میری اصل دولت ہے جسے میں نے محفوظ رکھا تھا۔ میری وصیت ہے کہ اسے مسجد، یتیموں اور غریبوں پر خرچ کر دیا جائے۔”
یہ سن کر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
جس شخص کو وہ بیس سال تک ایک معمولی بھکاری سمجھتے رہے تھے، وہ دراصل ایک درویش صفت انسان نکلا۔
اسی دن شہر کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ بابا سلیم کی وصیت کے مطابق اس خزانے سے ایک یتیم خانہ بنایا جائے گا۔
چند مہینوں بعد مسجد کے پاس ایک خوبصورت عمارت بن گئی جس کے دروازے پر ایک تختی لگائی گئی۔
اس پر لکھا تھا:
“بابا سلیم یتیم خانہ”
اور نیچے ایک جملہ درج تھا:
“کبھی کبھی سب سے امیر انسان وہ ہوتا ہے جسے دنیا غریب سمجھتی ہے۔”
#24NewsHD #LatestNews #NewsUpdate #fblifestyle #Pakistan
#viralpost2026シ #NaseemShah #naseemshahfans #foryoupagereels #sadreels #sadstory #facebookreel #cricketfans #viralreelschallenge2024viralreelschallenge
